وادی کی سنگین صورتحال کا تدارک لازم

سرینگر//جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ شوپیان، نادی ہل بارہمولہ اور ترہگام کپوارہ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ہند نے کشمیریوں کے قتل عام اور نسل کشی کا ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے جسے وادی میں تعینات بھارتی فورسز کے ذریعے عملایا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نادی ہل میں عبیدمنظور لون نامی جس معصوم طالب علم کو انتہائی سفاکی کے ساتھ گولیوں سے چند روز قبل فوجیوں نے بلاکسی جواز کے بھون ڈالا تھا وہ صورہ ہسپتال میں آخر کار اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا اور اپنے خاندان کو ہمیشہ کے لیے سوگوار چھوڑ کر اپنے مولی سے جاملا۔ اسی طرح میمندر شوپیان میں وہاں تعینات فوجیوں نے زندہ گرنیڈ پھینک کر وہاں کے لوگوں کے لیے جینا ہی محال کردیا۔ ایسا ہی ایک گرنیڈ میمندر کے کھیتوں میں اچانک پٹھا جس کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ترہگام کپوارہ میں ایک بے گناہ دوکاندار خالد غفار ملک کو اْس وقت وہاں تعینات فوجی اہلکاروں نے راست فائرنگ کرکے قتل کردیا جب وہ اپنی دوکان بند کررہا تھا۔ یہ نوجوان موقعہ پر ہی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں جاں بحق ہوگیا اور ان اہلکاروں نے اْس کی لاش کو بھی اْٹھانے کا موقعہ نہیں دیا اور گولہ باری کرکے کئی دیگر بے گناہ نوجوانوں کو زخمی کردیا۔ اْس کے جنازہ میں شامل لوگوں پر بھی راست فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چند دیگر نوجوان زخمی ہوگئے جو اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔جماعت اسلامی کا ایک وفد دونوں مقامات پر گیا اور فوج کے ہاتھوں ان معصوم جوانوںکو جاں بحق کرنے جیسی کارروائیوں کو ایک ظلم عظیم قرار دے کر بین الاقوامی غیر جانبدار ایجنسی کے ذریعے ایسے تمام واقعات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔