وادی چناب کے بغیر بجلی دیہات میں فوج نے 17000سولر لائٹس تقسیم کیں

 بھدرواہ //وادی چناب کے بغیر بجلی کے دیہات میں مرکزی سپانسرڈ سکیموں راجیو گاندھی گرامین ودیوتی کرن یوجنا ، اور دین دیال اوپادھیائے گرام یوجنا سے بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہنے پر فوج نے ان دیہات کے لوگوں کو سولر لائٹس سے بجلی فراہم کرنے کے لئے 17000سولر لائٹس تقسیم کیں۔وادی چناب کے بالائی علاقوں جن میں بیشتر گوجر اور بکروال طبقہ کے لوگ رہائش پذیر ہیں ،کو بجلی فراہم کرنے کے لئے فوج نے سولر لائٹس تقسیم کی۔فوجی ترجمان کے مطابق فوج نے ان دیہات کی سماجی۔مذہبی ، اقتصادی حالت کا جائزہ لیا۔ راشٹریہ رائفلز نے ا ن دور دراز دیہات کے گوجروں ،بکروالوں اور مقامی لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرکے محسو س کیا کہ ان لوگوں کیلئے بجلی بہت ہی اہم ضرورت تھی ۔وادی چناب کا کل رقبہ 11,691 مربع کلو میٹر ہے جس میں سے 89فیصد آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے۔ان لوگوں کو دیگر بنیادی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جن میں سے بجلی ایک اہم مسئلہ ہے۔فوج نے ان دیہات کی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے وادی چناب کے ان دور دراز دیہات بشمول ٹناٹا، باگدان ، وانی پورہ، درمن ، کُٹھل، گنوری، یاریون ، ماگرے محلہ، بین گوٹھ، بنی بٹولی، ڈورو ،کوٹہ ۔ٹاپ ،شنکھوجہ کے علاوہ چرا گاہوںبشمول قطاری، کینتھی دھار، دھدکائی، لالو پانی، جائی،لال درمن ،پدری دھار و دیگر سیر گاہوں میں 5000گھروں اور ڈھوکوں میں روشنی فراہم کرنے کے مقصد سے 17000سولر لائٹس تقسیم کیں۔سولر لائٹوں کی تقسیم کاری سے ان علاقوں کے رہن سہن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس سے نہ صرف ان کو 6 سے8گھنٹوںتک بجلی فرہم ہوتی ہے بلکہ ان میں تحفُظ کا بھی احساس پیدا ہوا ہے۔