وادی چناب نے پھر سفید چادر اوڑھ لی

  ڈوڈہ/ / وادی چناب کے متعدد علاقوں میں تین دنوں تک موسم خوشگوار رہنے کے بعد پیر کے روز موسم نے اچانک کروٹ بد ل ڈالی،جس کی وجہ سے وادی میں دوبارہ سردیاں لوٹ آئی ۔جس کی وجہ سے ان علاقوں خصوصاً دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیا ت جیسے کہ پانی اور بجلی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔سردی کی وجہ سے لوگ گرم ملبوسات پہننے پر مجبور ہوگئے ہیں ،جبکہ لوگوں نے روایتی بُخاریوں اورکانگڑیوں کا دوبارہ استعمال کیا ہے۔تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق منگل سے موسم میں بہتری کی توقع ہے۔ 

  بھدرواہ

  بھدرواہ و ملحقہ علاقوں میں رواں موسم کی20ویں برفباری درج کی گئی ہے۔ 15نومبر2018سے شروع ہوئے موسم سرما نے مارچ 2019میں بھی اپنے تیور برقرار رکھے ہیں۔گُذشتہ چار مہینوں کے دوران وادی بھدرواہ میں پیر کے روز بیسویں مرتبہ برفباری درج کی گئی ہے۔پیر کی صُبح کو بھدرواہ میں برفباری دوبارہ شروع ہوئی ، جس کی وجہ سے سردی دوبارہ لوٹ آئی ۔سردی کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی آئی، جس سے معمول کی زندگی متاثر ہوئی۔اطلاعات کے مطابق دو دنوں تک جزوی طور دھوپ رہنے کے بعد پیر کے روز وادی چناب بشمول بھدرواہ ، ڈورو، تھنیلا، کانسر، جاٹنی، چنچھورہ ،اشپٹی، سیوج دھار، کیلاش کنڈ، سوبار دھار، شنکھوجہ اور جائی میں برفباری ہوئی۔

 بانہال 

پیر کی صبح سے جواہر ٹنل کے آر پار چار، پانچ  انچ تک تازہ برفباری ہوئی ہے جبکہ بانہال کے کھڑی مہو منگت ، گول پتنی ٹاپ ، سناسر اور کدھ کے علاقوں میں چھ سے نو انچ تک تازہ برفباری ہوئی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی سے بھاری برف کی مار جھیل رہے ضلع رام بن کے کھڑی ، مہو منگت ، نیل اور پوگل پرستان ، سنیابتی کے پہاڑی علاقوں میں آباد  لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔مہو منگت ، نیل ، پوگل پرستان اور سینابتی کے علاقوں میں جنوری سے اب تک کم از کم دس فٹ برفباری ہوئی ہے اور سڑک رابطے اور بجلی سپلائی مسلسل بند ہے۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ برفباری نے ان کے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے،جس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔

 کشتواڑ

تین دنوں تک لگاتار دھوپ کھلنے کے بعد پیر کے روز کشتواڑ میں موسلا دار بارشوں سے متعدد مقامات پر پانی جمع ہو گیا ہے۔بارشوں کی وجہ سے کشتواڑ کی سڑکیں زیر آب آگئی کیونکہ نالیوں اور گلیوں سے اوپرپانی بہہ رہا تھا۔قصبہ کے متعدد علاقے بارش کے پانی کی وجہ سے پانی کے تالاب میں بدل گئے ہیں،جس سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بارشوں کی وجہ سے قصبہ میں سردی دوبارہ لوٹ آئی۔ وہیں ضلع کے بالائی علاقوں میں بھی تازہ برفباری ہوئی ہے۔ سردی کی وجہ سے لوگ گرم ملبوسات ڈالنے کیلئے مجبور ہو گئے۔درجہ حرارت میں اچانک کمی آنے کی وجہ سے بازروں میں بھی گہما گہمی کم دیکھی گئی۔اگرچہ وادی میں تین مہینوں کے سرمائی تعطیلات کے بعد سرکاری سکول دوبارہ کھل گئے تاہم سخت سردی اور برفباری کی وجہ سے وادی کے متعدد قصبوں میں بہت ہی کم تعداد میں طلاب نے سکولوں کا رُخ کیا جبکہ دیہی علاقوں کے سکولوں میں حاضری بہت کم رہی۔