وادی میں90کی دہائی میں قتل و غارت کے سانحات

مظفرآباد//وادی میں1990کی دہائی میں پیش آئے سانحات کیخلاف اپراڈا مظفر آبادمیں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں وکشمیر نے بھارت مخالف احتجاجی ریلی نکالی اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے متاثرین کو انصاف دلوانے کی مانگ کی۔  انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد احسن انتو کی ہدایت پر اپر اڈا سے بھارت کیخلاف ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کے دوران شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔، ریلی میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے وائس چیئرمین مشتاق الاسلام، پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل ڈین فیکلٹی، پاسبان حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی، جامعہ کشمیر طلباء کے نمائندہ حسنات شیخ سمیت سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر اپراڈہ سے سی ایم ایچ چوک تک ریلی نکالی گئی جس میں شرکاء نے بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ مشتاق الاسلام نے کہا کہ 1990 ء کی دہائی میں بھارتی فوج نے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے سوپور، گائو کدل، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں گولیوں سے سینکڑوں کشمیریوں کو موت کی ابدی نیند سلادیا جبکہ سینکڑوں کو زخمی کیا اور اربوں روپے کی املاک خاکستر کی۔ انہوںنے کہاکہ یہ قتل عام بھارت کی جمہوریت پر سوالیہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے جدید ترین اسلحہ سے لیس اپنی فورسز کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے اپنا رکھے ہیں، عملاً جموں وکشمیرکو جیل میں تبدیل کیا ہے اور اس صورتحال پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ تنظیم ہر فورم پر انصاف دلوانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی جب تک ورثاء شہداء سوپور، ہندواڑہ ، کپواڑہ ، گائو کدل کو انصاف نہیں مل جاتا۔