وادی میں یرقان کی بیماری تیزی کیساتھ فروغ پذیر

سرینگر //شمالی کشمیر میں امسال گندے پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی Hepatitis A اور Hepatitis E کی بیماریوںدو مرتبہ پھوٹ پڑی ہیں جس سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ وادی کے دوردراز علاقوں میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے ا عدادوشمار کے مطابق وادی میں جنوری 2018سے ابتک Hepatitis A اور Hepatitis E  کے 40کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 35بارہمولہ اور 5کیس کپوارہ سے سامنے آئے ہیں۔وادی کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو فراہم ہونے والے پینے کے صاف پانی کی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر صوبے میں پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ابتک 27بار وبائی بیماریںپھوٹ پڑیںہیں جن میں پینے کے صاف پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ کشمیر صوبے میں پانی سے پیداء ہونے والی وبائی بیماریوں پر نظر رکھنے پر تعینات ریاستی نوڈل آفیسر ڈاکٹر ایس ایم قادری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں 2018میں 27مرتبہ وبائی بیماریاںپھیل گئیں جن میں  Measelsلے 4 ، Hepatitis Aاور Hepatitis E  ایک ایک مرتبہ پھیل چکی ہیں۔ ڈاکٹرقادری نے بتایا کہ Hepatits A اور  Hepatitis Eکے 40مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا ہے۔ کپوارہ سے 5اور بارہمولہ سے 35افراد  Hepatitis A اور HepatitisE کی بیماری میں مبتلا تھے۔  ڈاکٹرقادری نے بتایا کہ سال 2017میں Hepatitisبیماری نے چار بار وار کیا تھا جس دوران 60افراد کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتالوں میں داخلہ کیلئے لایاگیا تھا۔ ڈاکٹر قادری نے بتایا کہ گندے پانی کے استعمال سے ہونے والی وبائی بیماریاں صرف دیہی علاقوں تک ہی محدود ہے کیونکہ سرینگر اور اسکے ملحقہ علاقوں میں ابتک Hepatitis Aاور Hepatitis E کی کوئی بھی شکایت درج نہیں ہوئی ہے۔ ڈاکٹر قادری نے بتایا کہ گندے پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو لوگوں کو جانکاری فراہم کرنے سے دور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت  گندے پانی کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں کے بارے میں وقفے وقفے سے لوگوں کو آگاہ کرتا رہتا ہے ا کیونکہ ان بیماری سے جانکاری ہی محفوظ رکھ سکتی ہے۔