وادی میں گراں فروشی کا عروج

سرینگر// وادی میں گراں فروشی حدیں پار کررہی ہے اور گزشتہ9ماہ میں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے سرکاری قوانین کی خلاف ورزی پر دکانداروں سے45لاکھ روپے سے زائد جرمانہ وصول کر کے333 دکانوں کو سیل کیا گیا۔صارفین کے الزامات بھی بجا نظر آرہے ہیں،کیونکہ موسم سرما میں بالخصوص سرینگر جموں شاہراہ بند ہونے کے ساتھ ہی سبزیوں،میوہ، مرغ اور گوشت کے علاوہ دیگر ضروری چیزوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ لوگوںکا کہنا ہے کہ انفورسمنٹ ونگ اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے بازاروں کا معائنہ کرنے سے کوئی نتائج سامنے نہیں آتے ہیں۔محکمہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ دسمبر میں 4لاکھ30ہزار950روپے کا جرمانہ ان دکانداروں سے وصول کیا گیا جو گراں فروشی اور قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔محکمہ کے انفورسمنٹ ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مشتاق احمد،جنہیں مجسٹریل اختیارات بھی تفویض کئے گئے ہیں،نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال بھر محکمہ کے اسکارڈ کی جانب سے بازاروں کا معائنہ اور چیکنگ جاری رہی،جس کے دوران ان دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی،جنہوں نے اضافی قیمتیں وصول کیں۔ انہوں نے اعدادو شمار بتاتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر45لاکھ71ہزار70روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں89کیسوں کا اندراج بھی کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ سرینگر میں73اور کپوارہ میں11کیس شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرینگر میں23لاکھ9زار850جرمانہ وصول کیا گیا،بارہمولہ میں 2لاکھ 66ہزار 100،بانڈی پورہ میں57ہزار659،بڈگام میں 2لاکھ 50ہزار700اور گاندربل میں92ہزار700روپے بطور جرمانہ وصول کیا گیا۔ اعداد وشمار کے مطابق ضلع کپوارہ میں 2لاکھ 46ہزار 620،پلوامہ میں3لاکھ82ہزار،شوپیاں میںایک لاکھ12ہزار250اوراننت ناگ میں 4لاکھ63 ہزار 550روپے کا جرمانہ گراں فروش دکانداروں سے وصول کیا گیا۔اس دوران مجموعی طور پر333دکانوں کو بھی سیل کیا گیا،جن میں صرف سرینگر میں 169،بارہمولہ میں35،بڈگام میں32،کولگام میں35،کپوارہ میں29اورپلوامہ میں25دکانیں شامل ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مشتاق احمد وانی نے کہا کہ گراں فروشوں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں اور تاجروں کے خلاف کاروائی جاری رہے گی۔