وادی میں پستان، گلے، پِتّے اور لبلبے کے کینسر میں تشویشناک حد تک اضافہ | سرطان کے 3000سے زائد نئے معاملات ، 460خواتین بھی شامل: معالجین

سرینگر //کشمیر میں پستان،چھاتی، پتہ اورلبلبہ کے سرطان میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں کافی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سال 2021کے دوران لاک ڈائون کے بائوجود بھی سٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ اور جی ایم سی سرینگر کے شعبہ میڈیکل آنکولوجی میں3000ہزار سے زائد نئے مریضوں کا اندراج ہوا، جن میں 460 سے زائد خواتین پستان کے سرطان کے مریض بھی شامل ہیں۔ سٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ پسان کا کینسر اب صرف عمر رسیدہ خواتین تک محدود نہیں بلکہ غیرشادی شدہ جواں سال خواتین میں بھی یہ بیماری کافی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ خواتین میں اب پستان کا کینسر پہلے نمبر جبکہ گلے کا کینسر دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ سٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر سید نثار کا کہنا ہے کہ خواتین میں سرطان کی بیماری کافی تیزی سے بڑھ رہی ہے ، ’’ کشمیر میں اب پستان کا کینسر، پتہ اور لبلبے کے کینسر میں بھی کافی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے کیونکہ لوگوں کے رہن و سہن میں تبدیلی آئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ خواتین میں پہلے گلے کا کینسر سب سے زیادہ پایا جاتا تھا لیکن وہ موٹاپے ، شوگر اور دیگر بیماریوں کے علاوہ پستان کے سرطان کی بیماری میں بھی مبتلا ہورہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سال 2021میں2400سے زائد خواتین کینسر میں مبتلا تھیں جن میں پستان کے کینسر کے400نئے مریض بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ خواتین کو سمجھنا ہوگا کہ اب یہ بیماری قابل علاج ہے اور اس بیماری کا ابتدائی وقت میں علاج کرکے جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے‘‘۔عالمی وبائو کے کینسر مریضوں پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں ڈاکٹر نثار نے کہا کہ معمول کی سرگرمیاں بند ہونے کی وجہ سے بے شک شوگر اور موٹاپے کے شکار لوگوں کو  مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن  فوراً اس کے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میںشعبہ میڈیکل آنکولوجی کے ڈاکٹر الطاف حکیم کا کہنا ہے کہ خواتین میں پستان کا کینسر کے حوالے سے کوئی تازہ سروے سامنے نہیں آئی ہے ، اسلئے خواتین میں پستان کے کینسر کی شرح 12.5فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ امسال ابتک جی ایم سی سرینگر  میں 600نئے کینسر مریضوں کا اندراج ہوا ہے جن میں پستان کے کینسر میں مبتلا خواتین کی تعداد 60ہے ۔ ڈاکٹر الطاف نے بتایا کہ عالمی وباء کے دوران بھی کینسر مریضوں کو بروقت علاج میسر رہا اور اسلئے ان مریضوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کر پڑا‘‘۔یہ بات قاب ذکر ہے کہ سال 2018کے تازہ سروے کے دوران کشمیر ی خواتین میں پستان کے کینسر کی شرح 13.5فیصد تھی اور بیشتر مریضوں کا تعلق دیہی علاقوں سے تھا ۔