وادی میں ٹھیکیداروں کا دھرنا اور مظاہرے

بلال فرقانی
سرینگر// واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی اور کارڈوں کی تجدید نو اور تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف رجسٹرڈ ٹھیکیداروں نے کپوارہ سے قاضی گنڈ تک احتجاجی مظاہرے کئے ۔ انہوں نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر انکے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو وہ احتجاج میں شدت لائیں گے۔ سرینگر میں محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر کے دفتر پر جوائنٹ کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے بینر تلے سینکڑوں ٹھیکیداروں نے دھرنا دیا اور مظاہرے کئے۔ وہ الزام لگارہے تھے کہ انکے مطالبات جان بوجھ کر التوا میں ڈالے جارہے ہیں جس سے انکی روزی روٹی مشکل میں پڑ گئی ہے۔اس دوران وادی کے دیگر اضلاع کے انجینئرنگ ڈویژنوں میں بھی احتجاج ہوا ،جس کے دوران ٹھیکیداروں نے اپنے مطالابات کے حق میں آواز بلند کی۔ تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافے،تعمیراتی کارڈوں کی تجدید کاری میں تاخیر اور واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹھیکیداروں نے سرکار کو متنبہ کیا کہ اگر انکے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو احتجاجی پروگرام میں شدت لائی جائے گی۔ سرینگر میں احتجاجی ٹھیکیداروں کے مظاہروں کے دوران فاروق احمد ڈار نے واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے تعمیراتی کاموں کی رفتار سست ہوگئی ہے۔ ڈار نے تعمیراتی کاموں کے کارڈوں کی تجدید کو التواء میں رکھنے اور دستاویزی طوالت کیلئے براہ راست انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے گزشتہ برس نصف رقومات لیپس ہوگئے۔۔ اس موقعہ پر محمد جیلانی پرزہ نے تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ ان کی قیمتوں کو لاگو کریں۔ پرز ہ نے کہا کہ سرکار نے اگر انکے مطالابات کو پورا نہیں کیا تو عید کے بعد وہ اپنی احتجاجی لہر میں شدت لائیںگے۔مظاہرے میںسینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے سیکریٹری ارشد احمد، جائویڈ احمد زرگر، اشفاق احمد خان،خالد بابا اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ سوناواری کنٹریکٹرس ایسو سی ایشن کی جانب سے محمد الطاف بٹ کی سربراہی میں احتجاج ہوا جس میں ٹھیکیداروں پر آئے روز عائد نئے قوانین  پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا نئے سرے سے ٹھیکیدار کارڈوں کے تجدید پر نئے سرے سے مشکلات یعنی کریکٹر سرٹیفکیٹ اور باقی  قوانین تھونپے جارہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ٹینڈرنگ کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔