وادی میں ماہ رمضان کے دوران کھجوروں کی خریداری میں ایک بار پھراضافہ

یواین آئی
 سرینگر// وادی کشمیر میں دو برسوں کے بعد امسال ماہ مبارک رمضان کے دوران ایک بار پھر مختلف قسموں کے کھجوروں کی خرید و فروخت میں اضافہ درج ہونے لگا ہے ۔بتادیں کہ کورونا وبا کی وجہ سے گذشتہ دو برسوں کے دوران ماہ رمضان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بازار بند رہنے سے جہاں تمام تر شعبہ ہائے حیات متاثر ہوئے وہیں کھجوروں کی تجارت بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی تھی۔وادی میں یوں تو سال بھر مختلف قسموں کے کھجور دکانوں پر دستیاب رہتے ہیں اور لوگ ان کو خرید بھی لیتے ہیں لیکن ماہ صیام کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی وادی کے بازاروں میں مختلف قسموں کے کھجوروں سے سجائے ہوئے ریڑھیاں بھی نمودار ہونے لگتی ہیں جہاں افطار سے قبل لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے ۔کھجور کے تجارت سے وابستہ ترمبو انٹرپرائزز کے مالک ظہور احمد ترمبو نے کہا کہ امسال کھجور کی مانگ میں ٹھیک اضافہ درج ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم امسال اچھی مقدار میں مختلف قسموں کے کھجور فروخت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا،’’ہم روزانہ پانچ سو سے چھ سو تک کھجور کے پانچ کلو والے ڈبے فروخت کرتے ہیں‘‘۔موصوف تاجر نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران کورونا وبا کی وجہ سے ہمارا کام ٹھپ تھا لیکن امسال لاک ڈاؤن بھی نہیں ہے اور وبا بھی تھم گئی ہے اس لئے ہم ٹھیک کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سال بھر یہ تجارت کرتے ہیں لیکن ماہ رمضان کے دوران اس کی مانگ زیادہ رہتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مختلف قسموں کے کھجور فروخت کرتے ہیں جن میں قلمی کھجور، مبروم، اجوا وغیرہ شامل ہیں۔ ترمبو نے کہا کہ یہاں لوگ زیادہ تر قلمی کھجور کھاتے ہیں جس کے پانچ کلو والے ڈبے کی قیمت دو ہزارروپیے ہے ۔انہوں نے کہا کہ اجوا کھجور کم لوگ ہی کھاتے ہیں کیونکہ وہ مہنگا ہے ۔وادی میں بھی کھجور سے ا فطار کرنے کی روایت برابر جاری ہے اور یہاں بھی ماہ مبارک رمضان کے دوران کھجوروں کی خریداری معمول کی شاپنگ کا اہم جز ہوتا ہے ۔وادی کے بازاروں میں سعودی عرب اور ایران کے کھجور دستیاب رہتے ہیں۔مدثر احمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ میں روزانہ کم سے کم ایک سو روپیے کے کھجور خرید کر گھر لے جاتا ہوں اور میرے تمام افراد خانہ ہر روز کھجور سے ہی روزہ توڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھجور سے روزہ توڑنے کافی اجر و ثواب ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں ہر کوئی روزہ دار کھجور سے ہی افطار کرنے کو ترجیح دیتا ہے ۔محمد منیب نامی ایک چھاپڑی فروش جس کی ریڑھی مختلف قسموں کے کھجوروں سے لدی ہوئی ہے ، نے کہا کہ اس سال ہمارا کام ٹھیک ٹھاک ہے لیکن گذشتہ دو برسوں کے دوران ہم نے کچھ بھی کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگ کھجور خریدیتے ہیں تاہم امسال مہنگے کھجوروں کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔