وادی میں سوائن فلو، مزید10صورہ میں داخل

   سرینگر //شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران مزید 10افراد کے سوائن فلو بیماری میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔جن میں 6ڈاکٹر اور 4مریض شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سکمز میں سوائن فلو مریضوں کیلئے بنائے گئے مخصوص وارڈ میں جن 4افراد کو داخل کیا گیا ہے ان میں تین سرینگر اور ایک پٹن سے تعلق رکھتا ہے۔ادھر ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ طبی اور نیم طبی عملے کے کئی افراد سوائن فلو بیماری کے شکار ہوگئے ہیں کیونکہ قلیل تعداد میں اسپتال کو سپلائی کئے گئے سوائن مخالف قطروں کو منظور نظر افراد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جن 4افراد کو اسپتال کے مخصوص وارڈ میں داخل کیا گیا، ان میںسنگھ پورہ پٹن کے علی محمد ، شہزادہ ساکن شالیمار ، سبرینہ ساکن زونی مر سرینگر اور سبینہ ساکن  بمنہ سرینگر کے نام شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چاروں مریضوں میں سوائن فلو کی تصدیق کے بعد منگل کی شام داخل کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ اسپتال کے مختلف شعبہ جات میں تعینات افراد سوائن فلو کے شکار ہوئے ہیں تاہم زیادہ تر عملہ سوائن  فلو کے آثار کو نظر انداز کررہے ہیں۔ ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ سکمز میں تعینات 6ڈاکٹروں میں سوائن فلو کی بیماری کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ عملے کے دیگر کئی افراد میں بھی سوائن فلو بیماری کے آثار نمایا ہے۔ترجمان نے بتایا ’’ سکمز میں تعینات طبی، نیم طبی اور صفائی کرمچاریوں میں سے کسی کو بھی سوائن مخالف قطرے نہیں دئے گئے بلکہ اسپتال عملے میں اگر کسی نے قطرے لئے ہیں تو وہ اپنے جیبوں سے پیسے لگاکر لئے ہیں۔ ‘‘  واضح رہے کہ سکمز صورہ میں سوائن فلو نامی بیماری سے ابتک 6افراد کی موت واقع ہوچکی ہے جن میں 2خواتین اور 4مرد شامل ہیں۔