وادی میں سرطان سے متاثرہ بچوں میں3.7فیصد آنکھوں کے کینسر سے متاثر ۔ 10سال کی تحقیق کے دوران قریب 40ہزار کیسوں کا تجزیہ، 1036کم سن بچوں کے ریکارڈ کا جائزہ

 پرویز احمد

سرینگر //آنکھوں کا سرطان اگر چہ ایک نایاب بیماری ہے لیکن کشمیر صوبے میں اس سے 3.7فیصد بچے متاثر ہیں۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 10سال کے دوران سرطان سے متاثرہ بچوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرطان سے متاثرہ بچوں میں سے 3.7فیصد میں نایاب آنکھوں کا سرطان پایاجاتا ہے۔10سال کی تحقیق کے دوران انسٹی ٹیوٹ میں مجموعی طور پر 38962سرطان مریضوںکے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان مریضوں میں 1036کم سن بچے بھی شامل تھے۔ سرطان سے متاثرہ 1036بچوں میں سے 103میں آنکھوں کا سرطان پایا گیا اور اس کی شرح 2.66فیصد درج ہوئی ہے۔ آنکھوں کے سرطان سے متاثرہ 58فیصد لڑکے جبکہ 42فیصد لڑکیاں شامل تھیں۔ ان بچوں میں سے 85فیصد دیہی جبکہ 15فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے تھا۔ تحقیق کے دوران اس بات کی بھی نشاندہی ہوئی کہ ان بچوں میں 36.6فیصد خون ، ہڈیوں کے گودا اور تلہ کے کینسرسے 19فیصد متاثر ہیں جبکہ 9فیصد بچوں کی ہڈیوں میں ٹیومرموجود تھا۔

 

اس کے علاوہ 6.7فیصد بچے سرکے ٹیومر جبکہ 3.7فیصد بچے آنکھوںکے سرطان سے متاثر تھے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 14سال تک کے بچوں میں سرطان موت کی بڑی وجہ بن کر ابھر رہا ہے۔ آنکھ کے سرطان سے متاثرہ بچوں میں10سے 14سال کی عمر کے 38فیصد، 4سال تک کی عمرکے 32فیصد اور 30فیصد بچوں کی عمر 5سے 9سال کے درمیان تھی۔ ماہرامراض چشم ڈاکٹر طارق قریشی کہتے ہیں کہ یہ ایک جیناتی تبدیلی ہے ، جوبڑھتی عمر کے ساتھ بچوں میں آتی ہے اور اس کی وجہ سے سرطان کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ابتدائی علامات میں آنکھ کا بڑا ہونا اور آنکھ کی جگہ کا ہلنا،آنکھوں کی پتلیاں لال ہونا اور دیگر علامات شامل ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوری دنیا میں 11ملین بچے آنکھوں کے سرطان سے متاثر ہیں۔ آنکھوں کا سرطان اگر چہ ایک نایاب بیماری ہے لیکن افریقہ اور بھارت میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری 25فیصد مریضوں میں موروثی ہوتی ہے جبکہ 75فیصد میں آنکھوں کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے آنکھوں کا سرطان ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آنکھ کے سرطان سے متاثرہ مریضوں میں 66فیصد کو 2سال کی عمر تک جبکہ 95فیصد متاثرہ بچوں کو 5سال کی عمر تک بیماری کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے۔