وادی میں رکھشا بندھن کی تقاریب کا انعقاد

اننت ناگ+ٹنگمرگ //وادی بھر میں رکھشا بندھن کا تہوار جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔اس سلسلے میں مندروں میں پوجا پاٹ کا اہتمام کیا گیا تھا اور بہنیں بھائیوں کی کلائیوں پر راکھیاں باندھ رہی تھیں۔فورسز کیمپوں میں رکھشا بندھن پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔سرینگر کے شنکر اچاریہ مندر میں دن بھر شردھالوئوں کا تانتا بندھا رہا اور ہندو طبقے سے وابستہ افراد خوشیاں منارہے تھے۔مندر میں ہون اور پوجا پاٹ بھی دن بھرجاری رہا۔رکھشابندھن کے موقع پر شیو مندر اُموہ ویری ناگ میں کشمیر ی پنڈتوں کی جانب سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیااوربہنوں نے بھائیوں کی کلائیوں پر راکھیاں باندھ کر انکی لمبی عمر کیلئے دعا کی ۔اس موقع پر وتستا کے سربراہ آر کے پنڈت نے کہاکہ پراچین شیو مندر امر ناتھ کا پہلا پڑائو ہوتا تھا تاہم نامساعد حالات کی وجہ سے یہ روایت تبدیل ہو گئی ۔انہوں نے کہا ’’ ہماری کوشش ہے کہ پھر سے اس مندر کی شان رفتہ بحال کی جائے ‘‘۔مقامی مسلمانوں نے پوجا پاٹ کے لئے انتظامات کئے تھے ۔ادھر کنزر اوسن بانگل میں مقیم پنڈت برادری نے رکھشا بندھن کو جوش و جذبے کے ساتھ منایا ۔علاقے میںمقیم پنڈتوں نے 1990میںترک سکونت اختیار کرنے کے بجائے اپنے علاقے میں ہی قیام کرنے کو ترجیح دی ۔علاقے میں رہائش پذیر مسلمان اور پنڈت ایک دوسرے کی خوشیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔پنڈت برادری عیدین پر مسلمانوں کی خوشیوں میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں جبکہ رکھشا بندھن یا ہولی وغیرہ پر مسلمان پنڈت برادری کے ساتھ خوشیاں بانٹ کربھائی چارہ کی مثال پیش کرتے ہیں۔اس دوران شراوَن پورنیما اور رکھشا بندھن کے موقع پر شردھالوئوں نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ تھجہ وارہ بجبہاڑہ میں پراچی گپھا میں حاضری دی۔اس موقعہ پر 25اور 26 اگست کی رات پوجا ارچنا منعقد ہوئی۔متعلقہ انتظامیہ کمیٹی نے ضلع و مقامی انتظامیہ کے تعاون سے تہوار کو احسن طریقے پر منانے کے لئے معقول انتظامات کئے تھے۔مقامی لوگوں نے بھی اس سلسلے میں انتظامیہ کمیٹی کو بھرپور تعاون دیا۔