وادی میں بھاری برف باری جموں کے کچھ حصوں میں معمولات زندگی متاثر

  کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ، پروازیں منسوخ، ہائی وے بند

سرینگر// شدید برفباری کی وجہ سے وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔ جمعہ کو سرینگر ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ جموں سرینگر قومی شاہراہ، وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑنے والا اہم سطحی رابطہ ضلع رام بن میں پتھر اور مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے بند کر دی گئی۔
وسطی کشمیر
جمعہ کی صبح سے ہی وادی کے شمال و جنوب، پیر پنچال اور خطہ چناب کے کئی علاقوں میں برف و باراں جاری رہا۔وادی کے تقریباً سبھی علاقوں میں صبح سے ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہوا جو دن بھر جاری رہا۔ جہاں جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں اعتدال سے لے کر بھاری برفباری ہوئی ، وہیں میدانی علاقوں میں بہت سے علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برف باری ریکارڈ کی گئی ۔سرینگر میںسہ پہر تک 2انچ برف ریکارڈ کی گئی۔ صبح سے ہی شہر میں بارش اور ہلکی برفباری ہوتی رہی جو شام تک جاری رہی۔غلام نبی رینہ کے مطابق زوجیلا، سونہ مرگ ،گگن گیر، کلن، گنڈ اور کنگن میں تیسرے روز بھی شدید برفباری کا سلسلہ جاری رہا ۔ جبکہ کرگل کے دراس،منی مرگ مٹائن ،گومری، پاندراس اور کرگل میں بھی شدید برفباری ہوئی ۔دراس، منی مرگ، گومری اور کرگل میں ڈیڑھ فٹ برف ریکارڈ کی گئی ۔زوجیلا میں پانچ فٹ، سونہ مرگ ساڑھے چار فٹ، گگن گیر میں تین فٹ، کلن اور گنڈ میںڈیڑھ فٹ اورگنہ ون کنگن میں پانچ انچ برف ریکارڈ کی گئی۔ارشاد احمد کے مطابق بڈگام ٹائون اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمعہ سہ پہر بعد تازہ برف باری کے باعث بیشتر علاقوں کی رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہوکر رہ گئی۔ بڈگام میں تین انچ سے زائد برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ خانصاحب میں سات انچ، چرار شریف میں ایک فٹ ، بیروہ آری زال میں 8 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔
جنوبی کشمیر
عارف بلوچ کے مطابق جنوبی ضلع اننت ناگ میں سہ پہر تک برفباری ہوئی ۔ضلع کے میدانی علاقوں اچھ بل،بجہباڑہ،دیالگام، اشاجی پورہ اورمٹن میں ایک سے تین انچ برف باری ہوئی جبکہ سیاحتی مقام پہلگام میں ڈیڑھ فٹ،کوکر ناگ میں 6انچ،ویری ناگ میں 7انچ، جواہر ٹنل پر ڈیڑھ فٹ، سنتھن ٹاپ میںدیڑھ فٹ ریکارڈ کی گئی ۔ خالد جاوید کے مطابق ضلع کولگام کے میدانی وبالائی علاقوں میں صبح سے ہی برف باری شروع ہوئی ۔قصبہ کولگام کے ساتھ ساتھ تحصیل صدر مقاماتِ میں اکشر دوکانیں بند رہیں۔ میدانی علاقوں میں تقریباً دس انچ برف ریکارڈ کی گئی جبکہ بالائی علاقوں وٹو، اہربل ،دنیوکنڈی مرگ، نندی مرگ وغیرہ میںاڈھائی سے تین فٹ اور دمحال ہانجی پورہ میں 2فٹ برف ریکارڈ کی گئی۔ شاہد ٹاک کے مطابق ضلع شوپیان میں صبح سے ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہوا جو دن بھر جاری رہا۔ برفباری کے نتیجہ میں بیشتر سڑکیں بند ہیں جبکہ اکثر دور دراز علاقوں میں بجلی سپلائی بھی منقطع ہے۔قصبہ شوپیان سمیت ضلع کے دیگر میدانی علاقوں میں شام چھ بجے تک ڈیرھ فٹ برف جمع ہوگئی تھی جبکہ ضلع کے دیگر پہاڑی علاقوں میں ہیرپورہ ، چھوٹی پورہ ، سیدھو ، دبجن ، سنی مرگ وغیرہ میں 2 فٹ برف جمع ہوگئی تھی۔سید اعجاز کے مطابق ضلع پلوامہ میں جمعہ کی صبح7 بجے سے برف باری کاسلسلہ شروع ہوا جو شام تک جاری رہا ۔ شام تک میدانی علاقوں میں چار سے چھ انچ اور بالائی علاقوں میںایک فٹ کے قریب برف جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ضلع کے راجپورہ،سنگر وانی ، کیلرکے ساتھ ساتھ ترال کے بالائی حصوں میں بھاری برف باری ہوئی ۔ یوسمرگ میں پونے دو فٹ سے زیادہ برفباری ہوئی۔
شمالی کشمیر
اشرف چراغ کے مطابق کیرن کے اندرونی علاقوں میں 4انچ،کرناہ میں 5 انچ،مژھل میں 8 انچ،چوکی بل میں ڈیڑھ فٹ ،کرالہ پورہ 5 انچ،میلیال 1 فٹ،گزریال 1 فٹ،بنگس 2 فٹ،ہفردہ ایک فٹ،ویلگام1 فٹ،ہایہامہ 1 فٹ اور لولاب میں 5انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ۔کرناہ کی نستہ ژھن گلی (سادھنا )پر4 فٹ،فرکیاں 3 فٹ اور مژھل کی زیڈ گلی پر کل ملا کر 3فٹ برف جمع ہونے کی اطلاع مو صول ہوئی ہے ۔مشتاق الحسن کے مطابق گلمرگ،باباریشی اور ٹنگمرگ میں دن بھر برفباری کا سلسلہ جارہی رہا ۔گلمرگ میں ایک فٹ، بابا ریشی 8 انچ جبکہ ٹنگمرگ میں شام دیر گئے تک6 انچ تازہ برف ریکارڈ کی گی ۔ گنڈولہ انتظامیہ نے تازہ برفباری اور تیز ہواہیں چلنے کے پیش نظر گنڈولہ کے دونوں مرحلوں کو بند رکھا ۔بانڈی پورہ ضلع کے میدانی علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی۔ دو بجے دھوپ نکلی پھر دھند چھاگئی۔ گریز، بگتور،تلیلاورداور میں سہ پہر کے بعد برفباری کا آغاز ہوا۔بارہمولہ کے میدانی علاقوں میں بارشیں اور ہلکی برباری ہوئی۔بارہمولہ ٹائون، سوپور اور رفیع آباد کے بالائی حصوں میں تھوڑی زیادہ لیکن میدانی علاقوں میں ہلکی برفباری ہوئی۔
بانہال
محمد تسکین کے مطابق پچھلے دو روز سے ضلع رام بن کے میدانی علاقوں میں بارشوں اور پہاڑوں پر ہوئی برفباری کے بعد جمعہ کی صبح سے بانہال کے نچلے میدانی علاقوں میں پہلی برفباری ہوئی ۔بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل کے آر پار برفباری اور رام بن کے علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے گر آئے پتھروں کے نتیجے میں جموں سرینگر شاہراہ جمعہ کی صبح سے ہی ٹریفک کی نقل و حرکت کیلئے بند کر دی گئی اور دن بھر کسی بھی قسم کے ٹریفک کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں تھی ۔ شاہراہ پر پنتھیال کے مقام پرپتھروں کے گرنے کیوجہ سے وہاں قائم لوہے کے ٹنل کو نقصان پہنچا جبکہ رام بن کے مہاڑ علاقے میں اوپر پہاڑی سے پتھر گر رہے تھے جس کی وجہ سے وہاں کئی بار ٹریفک متاثر رہا ۔ بانہال اور نویگہ ٹنل کے آر پار چھ انچ سے دس انچ تک برفباری اور رام بن بانہال سیکٹر میں کئی مقامات پر پتھروں کے گر آنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت بند رہی۔ رام بن گول اور 110 کلومیٹر لمبی بٹوٹ ۔ ڈوڈہ ۔ کشتواڑ شاہرائیں قابل آمدورفت ہیں ۔

۔10اضلاع میں برفانی تودے
گرنے آنے کی وارننگ جاری
سرینگر// بھاری برفباری کے درمیان، حکام نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے10 اضلاع میں برفانی تودے گرنے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔جموں و کشمیر اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران بانڈی پورہ اور کپوارہ اضلاع کے 2000 میٹر سے اوپر “ہائی خطرے کی سطح” کے ساتھ برفانی تودے گرنے کا امکان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “آئندہ 24 گھنٹوں میں بارہمولہ اور گاندربل اضلاع میں 2000 میٹر سے زیادہ درمیانی خطرے کی سطح کے ساتھ برفانی تودے گرنے کا امکان ہے۔”انہوںنے کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں اننت ناگ، ڈوڈہ، کشتواڑ، کولگام، پونچھ اور رام بن اضلاع میں 2000 میٹر سے کم خطرے کی سطح کے ساتھ برفانی تودے گرنے کا امکانات ہیں۔انہوں نے مزید کہا، “ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور برفانی تودے کے شکار علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔”

 

زوجیلا ٹنل پر کام بند کردیا گیا
غلام نبی رینہ

کنگن//گذشتہ روز سربل سونہ مرگ علاقے میں برفانی تودہ گرآنے سے دو مزدوروں کی ہلاکت کے بعد زوجیلا ٹنل تعمیر کررہی تعمیراتی کمپنی میگا انجینئرنگ انفراسٹرکچر نے کام بند کردیا ہے۔ زیر تعمیر ٹنل میں کام کررہے مقامی مزدور اپنے اپنے گھروں کو روانہ کردیا ہے۔ پروجیکٹ منیجر ہرپال سنگھ نے کہاکہ موسمی صورتحال کے پیش نظر اور برفانی تودہ گرنے کے خطرات کو لیکر جو مقامی مزدور یہاں کام کررہے ہے، وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قریب 767مقامی مزدوروں کو زیڈ مور ٹنل سے گگن گیر تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ موسم سازگار ہونے تک کام بند رہیگا۔انہوں نے کہا کہ چھٹی پر گئے مزدوروں کو نصف تنخواہ دی جائیگی۔