وادی میںچھوٹے زلزلے نہ آنا انتہائی تشویشناک سال 2000سے ابتک صرف 40بار زمین ہل گئی،کشمیر سمیت ملک کے11فیصد علاقے زون 5میں آتے ہیں:ماہرین ارضیات

اشفاق سعید
سرینگر//زلزلوں کے آنے کی اگرچہ وقت سے قبل کوئی بھی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی، تاہم ماہرین ارضیات کے مطابق جموں وکشمیر سمیت ملک کی 59فیصد ریاستیں اور زیر انتظام علاقے شدت کے زلزلوں کے خطرے میں سکتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق زون پانچ میں آنے والے علاقے زلزلے کیلئے سب سے سرگرم کہلائے جاتے ہیں اورزون 2 سب سے کم ۔ملک کا تقریباً 11 فیصد حصہ سسمٹک زون5 میں آتا ہے، 18 فیصدزون4،3 فیصد رقبہ زون 3 میں اور بقیہ حصہ زون 2 میں آتا ہے۔ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ سسمٹک زون 5 کے عللاقوں میں بڑے اور تباہ کن زلزلے آنے کے خطرات رہتے ہیںلیکن کہاں اور اس کی شدت کیا ہو گی، اسکی پہلے کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی ۔ملک کے جو 11فیصد علاقے سسمٹک زون5 میں آتے ہیں ان میں جموں کشمیر کا سرینگر شہر بھی ہے ، ناگالینڈ کے کابیما ، پنجاب کا منڈی، آسام کا تیزپور، ڈیراڈون اترکھنڈ ، گجرات کا بھیج ، بہار کا دربھنگہ ، آسام کا سادھیہ ، شملہ ہماچل پردیش کے علاوہ ملک کے دیگر کچھ علاقے شامل ہیں۔ جموں وکشمیر میں پچھلے ایک برس کے دوران ہر ماہ میں 3سے 4زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں ۔جموں وکشمیر کی تاریخ میں سب سے بڑا زلزلہ8اکتوبر 2005کو LOCکے آر پار آیا تھا،جس میں سرحد کے دونوں اطراف میں ہزاروں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مکان،عمارتیں، پل اور دیگر تعمیراتی ڈھانچے مکمل طور پر تباہ ہوئے تھے۔ اُس زلزلہ کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6تھی۔ اس میں کشمیر کے کرناہ اور اوڑی علاقوں میں قریب 1400لوگ مارے گئے تھے۔1828میں بھی زلزلہ آیا تھا جس میں 1000لوگ زخمی ہوئے تھے۔1885 میں بھی کشمیرمیں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس کی شدت ریکٹر سکیل میں 6.8تھی اس کا مرکز بارہمولہ تھا ۔اُس زلزلے میں 3081افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس سے شدید نقصان بھی مکانوں کو پہنچا تھا۔ خیال رہے کہ سب سے زیادہ تباہ کن زلزلہ 1555 میں آیا تھا اس زلزلے کی شدت بھی 7.6تھی جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں تھیں اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ زلزلوں پر نظر رکھنے والے ماہر ارضیات ڈاکٹر ایاز محمود نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں خطہ کے ڈوڈہ کشتواڑ اور رام بن کے کچھ علاقے زلزلہ زون 4میں آتے ہیں جبکہ سرینگر سمیت پوری وادی زلزلہ زون 5میں آتی ہے اور اس پر تشویشناک بات یہ ہے کہ کشمیر میں جموں کے مقابلے میں زلزلے کم آتے ہیں اور ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں اور یہ کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کر رہے ہیں کہ یہاں 7.6سے لیکر 8 تک شدت کا زلزلہ آسکتا ہے ۔ ڈاکٹرایاز نے کہا کہ چھوٹے زلزلوں کا مرکز مظفرآباد ، چین ، نیپال اور دیگر علاقے ہوتے ہیں جبکہ جموں جب زلزلے کا مرکز ہو تو کشمیر میں زمین ہلتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2000سے لیکر آج تک کشمیر میں صرف 40زلزلے آئے ہیں جس سے یہ اندازاہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں زلزلے کم آتے ہیں جو تشویشناک ہے اور اس سے لگتا ہے کہ یہاں بڑا زلزلہ آ سکتا ہے ۔کشمیر یونیوسٹی میں تعینات ماہر ارضیات پروفیسر ڈاکٹر غلام جیلانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ چھوٹے زلزلے بڑے زلزلے کو آنے سے روک لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے شدت کے جھٹکے اکثر زمینی کی سطح پر پیدا ہونے والے دبائوکو کم کردیتے ہیں اور بڑے زلزلہ کے امکانات کو کم کر دیتے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ چھوٹے زلزلے stress accumulationکو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ ارضیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ریاض احمد ڈار نے بتایاکہ زلزلے تین قسم کے ہوتے ہیں لیکن سب سے خطرناک زلزلہ’ شیلو فوکس ‘کہلاتا ہے جس کی شدت زیادہ اور اس کی گہرائی زمین کے اندر صرف تین کلو میٹر ہو، اس سے زیادہ نقصان ہوتا ہے، کیونکہ یہ زمین کو زور سے ہلاتا ہے اور چونکہ زمین کی سطح سے اسکی گہرائی کم ہوتی ہے لہٰذا اس سے زیادہ تباہی بھی آتی ہے۔ انکا کہنا تھا جہاں بھی جیالوجیکل فالٹ ہوگا وہاںاس کے آنے کے زیادہ امکانات ہوں گے ۔