وادی سوا 3لاکھ میٹرک ٹن میوہ کوذخیرہ کرنے کی سہولت سے عاری

سرینگر // میوہ صنعت کوریاست جموں و کشمیر کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ اس صنعت سے ریاست کو سالانہ اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے تاہم وادی میں تیار ہونے والے میوہ جات کو ذخیرہ کرنے کیلئے سی اے کولڈ سٹور کی صلاحیت صرف سواء لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ میوہ ذخیرہ رکھنے کی مقدار ساڑھے چار لاکھ میٹرک ٹن ہے اور اس طرح سواء 3لاکھ میٹرک ٹن میوہ کوذخیرہ کرنے کی سہولیت کا فقدان ہے۔ ذرائع نے’ کشمیر عظمیٰ ‘کو بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں باغبانی شعبہ معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور یہاں سالانہ لاکھوں ٹن میوہ کی پیداوار ہوتی ہے لیکن آئی جی سی لاسی پورہ ، پٹن ، سوپور شیرمال کے علاوہ گاندربل اور پٹن میں میوہ کوذخیرہ کرنے کیلئے کولڈ سٹور کی صلاحیت نہایت ہی کم ہے ۔ذرائع کے مطابقریاست میں جہاں میوہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 4لاکھ میٹرک ٹن ہونی چاہئے تھیں، وہیں یہ صرف سواء لاکھ میٹرک ٹن تک ہی محدود ہے اور اس طرح سواء 3لاکھ  میٹرک ٹن میوہ کو ذخیرہ رکھنے کی سہولیت نہ ہونے کی وجہ سے میوہ صنعت سے وابستہ افراد کو شدید پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ باغبانی شعبہ جموں وکشمیر میں 3لاکھ 34ہزار ہیکٹراراضی پر محیط ہے جس میں کشمیر وادی میں 2لاکھ 15ہزار ہیکٹر اراضی موجود ہے ۔ذرائع کے مطابق اس وقت باغبانی شعبہ سے ریاست کو سالانہ آمدن 7ہزار 5سو کروڑحاصل ہوتی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت باغبانی شعبہ کے ساتھ 7لاکھ کنبے منسلک ہیں اور کل ملا کر 33لاکھ افراد اس شعبہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ باغبانی کے تحت آنے والی ارضی 4سو ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے جس میں 70نرسریاں بھی ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت 2لاکھ 75ہزارمیٹرک ٹن اخروٹ کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ سیب کی پیداوار یہاں 18لاکھ 83لاکھ میٹرک ٹن ہے ۔اسی طرح بادام کی پیداوار 3ہزار1سو9میٹرک ٹن ہوتی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ چری (کلاس ) کی اراضی 28سو ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے جس میں سے 11ہزار میٹرک ٹن میوہ  کی پیداوار ہوتی ہے ۔اسی طرح انگور کی اراضی 332ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور یہاں 9سو ٹن انگور سالانہ پیداوار ہوتی ہے ۔ریاست جموں وکشمیر میں محکمہ باغبانی کی جانب سے نصب کئے گے پودوں کی کل تعداد 8کروڑ ہے ۔محکمہ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ محکمہ کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید پودے لگائے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 1952سے لیکر آج تک ریاست جموں وکشمیر میں باغبانی شعبہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے اور اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہاں کے فروٹ گروورس نہ صرف ریاست میں بلکہ بیرون ریاستوں اور ممالک میں بھی مال فروخت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کولڈ سٹورز کی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے سرکار سے بات ہو رہی ہے ۔