وادی بھر میں کرونا لاک ڈائون مزیدسخت

 سرینگر // وادی میں جمعرات کو لاک ڈائون مزید سخت کیا گیا،جس کے نتیجے میں بازارویران اور سڑکیں سنسان دیکھنے کو ملی،تاہم سرکاری دفاتر میں کام جاری رہا۔سرینگر کے کئی علاقوں میں جمعرات کو لاک ڈائون مزید سخت کیا گیا اور سڑکوں پر مزید بندشیں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں،جس کی وجہ سے سیول لائنز اور پائین شہر میں عام زندگی کا کاروبار گزشتہ دنوں کی ہی طرح مفلوج ہوگیا۔سر نو لاک ڈائون کے چوتھے روز بندشوں کو سخت و موثر بنانے کیلئے اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا اور سڑکوں پر نجی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں سے پوچھ تاچھ کا عمل بھی سخت کیا گیا۔ بازاروں،دکانوں اور تجارتی وکاروباری مراکز بند رہنے کے نتیجے میں ہرسُو ہو کا عالم چھایا رہا،اور لازمی خدمات کے علاوہ ایمبولنس گاڑیاں ہی زیادہ تر سڑکوں پر دیکھنے کو ملی۔لوگوں نے بھی گھروں میں رہنے کو ترجیج دی۔ کئی علاقوں میں تاہم انتظامیہ کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرنے کی غرض سے جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں،انہیں رات کی تاریکی میں ہی ہٹا لیا گیا،مگر بیشتر علاقوں میں اس طرح کی رکاوٹیں اب بھی نصب ہیں۔ ضلع آفات سماوی انتظامی اتھارٹی کے چیئرمین،جو ضلع مجسٹریٹ سرینگر بھی ہیں،نے اتوار کو سرینگر کے88علاقوں میں بندشیں عائد کرنے کے احکامات صادر کئے تھے۔سرینگر میں کرونا وائرس میں مبتلا کیسوں کی تعداد2ہزار کے ہندسے کو عبور کر گئی ہے ۔وسطی ضلع بڈگام میں بھی جمعرات کو تمام کاروباری مراکز بند رہیں،جبکہ ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی مسدود رہی۔ ضلع میں قریب300کرونا وائرس کے مریض فعال ہے،جبکہ300سے زائد شفا یاب ہونے کے علاوہ15 اموقت بھی واقع ہوئی ہیں۔ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا نے جمعرات سے20جولائی تک بڈگام میں لاک ڈائون کے احکامات صادر کئے۔ضلع مجسٹریٹ بڈگام کے حکم کی رو سے چرار شریف،چاڈورہ،ماگام،نارہ بل،بیروہ،چھترگام،ناگم اور خان صاحب کے گرد نواح والے علاقوں میں دکانیں اور بازار بند رہیں گے۔مرزا نے ان دنوں  کے دوران مسافر بردار ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کی،جبکہ انکا کہنا تھا کہ اجازت یافتہ گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت ہوگی۔بڈگام میں مجموعی طور پر37ریڈ زونوں کی نشاندہی عمل میں لائی گئی ہے۔کپوارہ میں پابندیوں میں25جولائی تک توسیع کی گئی،جس کے نتیجے میں ہر سو سناٹا چھایا رہا۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق انتظامیہ نے تانترے محلہ ڈھامہ اور مخدم محلہ باتر گام کو ریڈ زون علاقے قرار دیا ۔ضلع انتظامیہ کے ایک حکم کے مطابق منی گاہ کو ریڈ زون لسٹ سے ہٹا کر اس سے مستثنیٰ کیا ۔نامہ نگار کے مطابق بانڈی پورہ میں ضلع مجسٹریٹ  نے سمبل اور اس کے مضا فات میںاتوار26جولائی تک تمام دکانیں بند رکھنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل پر بھی مکمل پابندی عائد کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔نامہ نگار فیاض بخاری کے مطابق بارہمولہ میں جزوی طور پر کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں،تاہم اس دوران ٹرانسپورٹ نظر نہیں آیا۔پلوامہ میںکاروباری اداروں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہا ۔نامہ نگار شاہد ٹاک کے مطابق ضلع کے کئی علاقوں میں بدھ سہ پہر سے ہی لاک ڈائون کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو جمعرات کو مزید سخت کیا گیا۔نمائندے کے مطابق لاک ڈائون کے نتیجے میں قصبہ اور دیگر علاقوں میں زندگی کی رفتار تھم گئی۔نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق اننت ناگ ضلع میں پیر سے ہی لاک ڈائون  جاری ہے،جبکہ جمعرات کو لاک ڈائون کو مزید سخت بناتے ہوئے کوکر ناگ اور ڈوروں میں انتظامیہ نے ان افراد پر جرمانہ عائد کیا جنہیں ماسکوں کے بغیر پایا گیا۔نامہ نگار سید اعجاز کے مطابق پلوامہ میں14جولائی سے لاک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے،اور ہر گزرتے روز اس کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔ کرونا کے حوالے سے پُر خطر علاقوں میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئیںہے،جبکہ پولیس بھی ان علاقوں میں گشت جاری رکھے ہوئی ہے۔کولگام میں معیاری عملیاتی طریقہ کار اور گائڈ لائنز کے تحت کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں،تاہم اس دوران بہت کم لوگوں کو بازاروں میں دیکھا گیا۔