وادیٔ بنگس میں سیاحت کی بھر پور صلاحیت | رسائی آسان بنائی جائیگی

کپوارہ//جمو ں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہانے بدھ کو شمالی کشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقام کی طرف سیاحو ں کو را غب کرنے کے لئے بنگس میلے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی میں جشن کا جذبہ ان تمام لوگوں کے لیے مناسب جواب ہے جو امن اور ترقی کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیفٹنٹ گورنر  منوج سنہا نے بدھ کو وادی بنگس کا دورہ کیا اور میلے کا افتتاح کیا۔انہوںنے اس موقع پر بنگس وادی پر تواریخی کتاب ’’بنگس ویلی ‘‘،کی رسم رونمائی انجام دی ۔اس موقعہ پرلیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ بنگس وادی تک رسائی ہر شہری کے لئے آ سان بنا دی جائے گی اور عوامی رسائی کے لئے سڑکیں مکمل طور تعمیر کی جائیں گی جبکہ بنگس وادی میں مو صلاتی نظام کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں جائیںگے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں کے ساتھ قطار میں آخری شخص تک پہنچنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ، لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ جموں و کشمیر زندگی کے ہر شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور انتظامیہ ایک پائیدار اور خوشحال  مرکزی زیر انتظام خطہ کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ وادی بنگس سیاحت کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ خطے کے پورے سماجی و معاشی منظر نامے کو تبدیل کیا جا سکے ، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں کشمیر انتظامیہ اس وادی کی غیر دریافت شدہ ، غیر استعمال شدہ سیاحت کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے ایک مشن پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وادی بنگس جانے کی اجازت میں اب نرمی کی گئی ہے۔وادی بنگس کو ماحولیاتی طور پر پائیدار بنانے کے لیے ، لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات اور سیاحت کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کے لیے قابل عمل’’ایکو ٹورزم‘‘منصوبہ بنائیں اور دیگر تمام نمایاں خوبصورت گھاس کے میدانوں اور مراکز میں انہوں نے کیبل کار شروع کرنے کے لیے  صلاحیتی تحقیق کرنے کی تجویز بھی دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ ماحولیات اور ترقی ایک دوسرے کی تکمیل ہیں ، ہمیں سائنسی انداز میں سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی چاہیے ۔گرمیوں کے موسم میں وہاں رہنے والی خانہ بدوش آبادیوں کے مطالبات اور مسائل کو نوٹ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ افسران کو نقل مکانی کرنے والی آبادی کے لیے پہلے سے تیار شدہ بیت الخلائوں کی تنصیب کے علاوہ تمام 2 ہزار خاندانوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے پینے کے پانی کی سہولت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ضلع کپواڑہ میں ترقیاتی منظر نامے کا نوٹس لیتے ہوئے ، لیفٹیننٹ گورنر نے کوویڈ وبائی مرض کے باوجود سڑکوں ، تعلیم ، پانی اور بجلی کے شعبوں میں کئے گئے قابل ستائش کاموں کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ کپواڑہ ہمارا آرزومند ضلع ہے ، لہذا ہماری کوشش ہے کہ غریبوں تک بغیر کسی امتیاز کے پہنچیں ، حکومتی فلاحی اسکیموں تک ہموار رسائی اور تعلیمی ، صحت اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل تجدیدکے ذریعے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ اس سال کپواڑہ کا 767 کروڑ روپے کا ضلعی کیپیکس بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ جن13114کاموں کو لیا گیا ہے ان میں سے 5815 کام اس مالی سال میں مکمل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 45سال سے زائد عمر کے گروپ میں 100 فیصد ٹیکے لگائے گئے ہیں اور ضلع میں 18 سے 44 سال کی عمر میں یہ تعداد 64  فیصد تک پہنچ گئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور ہم ضروری اصلاحات لانے ، رکاوٹوں کو دور کرنے اور عمل درآمد میں تاخیر کو کم کرنے پر کام کر رہے ہیں‘‘۔جن بھاگیداری(عوامی شراکت) کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ، لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر موجود عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے اجتماعی عزم کے جذبے کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے بتایا کہ کپواڑہ کی 385 پنچایتوں میں سے 355 پنچایتوں میں یوتھ کلب بنائے گئے ہیں اور باقی 30 پنچایتوں میں کام 15 اگست تک مکمل ہو جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں کشمیر انتظامیہ نے کئی اقدامات شروع کیے ہیں جیسے 'تیجسوانی' اور  حوصلہ جس کا مقصد خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپواڑہ میں خواتین کے ذریعہ 5568 سیلف ہیلپ گروپ چلائے جا رہے ہیں ، جن سے 44 ہزار سے زائد خاندان براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ میں اس کے لیے ضلعی انتظامیہ ، بینکوں اور سماجی کارکنوں کے کردار کی بھی تعریف کرتا ہوں کیونکہ دیہی معیشت میں ترقی صرف کوآپریٹیو کے جذبے سے ممکن ہے۔‘‘اپنے خطاب کے اختتام پر ، لیفٹیننٹ گورنر نے موسمی سکولوں کے اساتذہ سے کہا کہ وہ 15اگست پورے جوش و جذبے کے ساتھ منائیں تاکہ بچے بھی شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا ’’بچوں کو ہمارے آزادی پسندوں کی بے پناہ شراکت سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور 15 اگست کو ایک خصوصی قومی ترانہ اور پینٹنگ مقابلہ منعقد کیا جانا چاہیے‘‘۔اس موقعہ پر چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون مہتا ،  شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی ،15ویں کور کے کمانڈرلیفٹنٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے ،،صوبائی سربراہ پانڈورنگ کے پولے،آئی جی کشمیر وجے کمار ، اورڈپٹی کمشنر کپواڑہ امام دین نے بھی میلے میں شرکت کی۔