وادئ زمزم سے وادئ جہلم تک

جب ہم مختلف انسانی تہذیبوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تقریباً سبھی اہم تہذیبیں بڑے بڑے آبی ذخائر کے کناروں پر پروان چڑھیں اور فروغ پائیں۔ یہ بات ان تمام تہذیبوں کے لئے کہی جا سکتی ہے جنہوں نے انسانیت پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ آبی ذخائر ان تہذیبوں کے لئے نہ صرف غذائی اجناس کی فراوانی کا سامان کرتے تھے بلکہ یہی ان کی آمد و رفت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے تھے۔ بیرونی دنیا کے ساتھ روابط بھی ان ہی ذخائر کے ذریعے استوار ہوتے تھے۔ کبھی کبھی یہی ذخائر طغیانی لے کر آتے تھے اور ان تہذیبوں کو خستہ حالی میں مبتلا کرتے تھے۔
اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف حیاتیاتی طور پر پوری حیات ارضی کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کی ابتداء پانی سے کی بلکہ معاشرتی اور تہذیبی اعتبار سے بھی پانی نے ہی انسانیت کے لئے "آب حیات" کا کام کیا۔ خالق کائنات نے پانی کو ان تمام سطحوں پر انسان کے لئے کس طرح مسخر کیا، اس کا ذکر ایک خاص انداز میں قرآن میں کیا گیا ہے۔ زمینی حیات کی پانی سے ابتداء کرنے کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے: "کیا منکرین نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین باہم ملے جلے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔" (الانبیاء: 30) خالص حیات انسانی کی افزائش کے بارے میں فرمایا گیا ہے: "وہ ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والا کردیا۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے۔" (الفرقان: 54) اسی طرح تہذیبی طور پر پانی نے انسانیت کے لئے کیا کام انجام دیا، اس کی باپت کہا گیا ہے: "آسمان اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوںکو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتر کر مردہ زمین کو زندہ کرنا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔" (البقرہ: 164)
تاہم سائنسی انکشافات اور پھر ان کے زیر اثر ٹکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے انسانی زندگی اور انسانی تہذیب کو حاصل ہونے والے پانی، خاصکر پانی کے ذخائر، کے براہ راست فوائد کبھی کبھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمیں اس حقیقت کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ دور جدید میں زمین کے مختلف خطوں کی دریافت آبی راستوں کی کھوج کے بعد ان کے استعمال سے ہی ممکن ہوئی۔ اطالوی کھوجی جہازران، کرسٹوفر کولمبس کی نئی دنیاؤں (امریکہ) کی دریافت بھی آبی راستوں کے ذریعے ہی ممکن ہوئی اور پرتگالی بحری کھوجی، واسکوڈے گاما کے ذریعے یورپ سے ہندوستان تک قریب ترین بحری راستے کی دریافت بھی ذخائر آب ہی کی رہین منت رہی ہے۔ اگر ایک طرف نئے دریافت شدہ امریکہ سے مختلف اجناس کی یورپ درآمد نے یورپی ثقافت کو متاثر کیا تو دوسری طرف یورپ سے ہندوستان تک کے نئے بحری راستے نے ایک نئی عالمی کثیرالثقافتی معاشرت کی بنیاد ڈالی، جسے بجا طور پر عالمگیریت کی ابتداء کہا جاسکتا ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کرسٹوفر کولمبس اور واسکوڈے گاما کے یہ بحری اسفار اپنی زبردست اہمیت کے باوجود انسان کے پہلے سمندری سفر نہیں رہے ہیں۔ واضح رہے واسکوڈے گاما کے اس مشہور سفر میں اس کی راہنمائی مشہور مسلم ملاح، احمد ابن مجید (ابن المجید) کررہے تھے اور اس سے بھی پہلے، ماقبل جدید دور میں ابن بطوطہ نے 1,17,000 کلو میٹر کا سفر (جس میں اچھا خاصا بحری سفر بھی شامل تھا) کرکے جہاں گشت (یا جہاں گرد) ہونے کا خطاب حاصل کررکھا تھا۔ اس سے بھی بہت پہلے ہیون تسانگ (چینی بودھ راہب) نے بحر نوردی میں شہرت حاصل کی تھی۔
واضح رہے کہ موجودہ سائنسی دور میں بھی آبی ذخائر کی اہمیت نہ صرف جوں کی توں بنی ہوئی ہے بلکہ اس اہمیت میں دو چند اضافہ بھی ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک طرف مختلف ملکوں کی گرم پانیوں تک رسائی کے لئے دوڑ کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف دفاعی طور پر اہمیت کے حامل بحری راستوں کی حفاظت اور ان پر اپنا تسلط جمانے کے لئے کئی ملکوں کے اتحاد بنتے ہوئے ملاحظہ کرتے ہیں۔ مواصلاتی نظام کو دور دراز خطوں تک پہنچانے کے لئے بحر اوقیانوس کے ذریعے انیسویں صدی میں ہی ٹرانس اٹلانٹک ٹیلیگراف کیبل بچھائی گئی تھی۔ فیس بک اور مائکروسافٹ نے 2018 میں 6,644 کلو میٹر ایک زیر آب اوپن کیبل سسٹم بچھایا جو ورجینیا (امریکہ) کو اسپین سے ملاتا ہے۔ چونکہ "لہر" کو اسپینش میں MAREA کہتے ہیں، اس لئے اس نظام کا نام ہی MAREA SYSTEM رکھا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ نظام سماجی رابطے کو مضبوط بنانے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔
غرض انسان کو اللہ تعالیٰ نے بحر و بر پر جو تفوق بخشا تھا (بنی اسرائیل: 70)، اس کے توسط سے انسان نے مختلف تہذیبیں پروان چڑھائیں۔ تہذیبوں کی یہ داستان کہیں پر دجلہ اور فرات (بابل اور سمیریا) نے رقم کی تو کہیں پر یہی کہانی دریائے سندھ (ہڑپہ اور موہنجوداڑو) نے تحریر کی۔ تاہم خدائے واحد کے احسانات کو فراموش کرتے ہوئے انہوں نے اپنے پورے معاشرتی ڈھانچے کو شرک کی بنیادوں پر استوار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تہذیبیں بالعموم شرک اور بت پرستی کی سرپرست رہی ہیں۔ لیکن ان ہی کی ایک تہذیب (بابل) میں اس شرک اور بت پرستی پر مبنی تہذیب کا توڑ پیدا کیا گیا۔ اس توڑ سے ہماری مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے آدم (علیہ السلام) کو سکھائی گئی توحید کو دنیا کے مختلف گوشوں میں پھر سے متعارف کرایا۔ دریائے اردن اور دریائے نیل کے کنارے آنجناب نے اپنی سعئی جانگسل سے توحید کے بیج کی از سر نو تخم ریزی کی۔ آگے چل کر اسی آبی ذخیرے (دریائے اردن ’شام عظیم، گریٹر سیریا) کے کناروں پر ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے بنو اسرائیل نے اس سفر کو جاری رکھا۔
ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کی دوسری شاخ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ مکرمہ کی وادیٔ غیر ذی زرع میں بسائی تاکہ وہ توحید کی ترسیل کا ابدی ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شاخ، جو تاریخ میں بنو اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی، کی برکت (نشوونما) کا ذریعہ ایک چھوٹے سے ذخیرہ آب یعنی زمزم کو بنایا۔ عرب کے ریگزاروں کے درمیان وادئ زمزم ہی میں آداب فرزندی سے متصف اسماعیلؑ نے تسلیم و رضا کا وہ نمونہ پیش فرمایا کہ رہتی دنیا تک یہ باپ بیٹے توحید و حنیفیت کا عظیم استعارہ قرار پائے۔ توحید کی اسی ازلی و ابدی روایت کا احیاء اور تکمیل اللہ تعالیٰ نے ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ساتویں صدی میں فرمائی۔ آپؐ کے صحابہؓ، جنہیں نسلی اعتبار سے اولاد ابراہیمؑ و اسماعیل ؑ ہونے کا شرف حاصل تھا، ہی دراصل حقیقی فرزندان توحید تھے۔ توحید کی تجلی سے منور ان اصحاب ؓ نے ابراہیمی روایت، جس کے تحت آنجنابؑ نے نمرود کے صنم خانوں کو تاراج کیا تھا، کو برقرار رکھتے ہوئے ساسانی سلطنت کے دوئیت کے آتشکدوں کی آگ کو بھی بجھا دیا اور بازنطینی سلطنت کے تثلیث خانوں کی رونقیں بھی دھیمی کردیں۔ 
وادیٔ زمزم سے اٹھنے والی توحید کی یہی آواز بارہویں سے لے کر چودھویں صدی میں وادیٔ جہلم یعنی کشمیر میں بھی پہنچی۔ توحید کی یہ صدا اس قدر اثر آفریں تھی کہ اس نے شرک اور توہمات کی بساط ہی لپیٹ کر رکھ دی۔ فکر و خیال کی گندگی توحید کی تنویر سے دور ہوئی۔ روح کی غلاظت اس قدر محو ہوئی کہ یہاں کے اہل توحید روحانیت کے معلم بن گئے۔ اسی آوازہ حق سے نند رشی شیخ العالمؒ بن گئے اور اسی سے للیشوری لل عارفہ یا مریم مکانی قرار پائیں! وادئ گلپوش میں بقول شیخ العالم "الف۔لام۔میم۔" کی درس و تدریس کا سلسلہ کچھ اس طرح چلا کہ بغداد و بصرہ کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ "کار امیری" (میر سید علی ہمدانی کے متعارف کئے ہوئے ہنر) کی ثقافت اور معاشرت کچھ اس طرح پروان چڑھی کہ بخارا اور سمرقند کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ تعلیم و تعلم کے حلقے کچھ اس طرح قائم ہوئے کہ سلاطین نے صوفیاء کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ اوراد و اذکار کی مجلسیں کچھ اس طرح سجیں کہ وادی کے قلب (شہر سرینگر) نے کشمیر کے لئے وہی کام کیا جو انسان کے لئے اس کا دل کرتا ہے کیونکہ "قلب سلیم کبھی بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتا۔"
تاہم اہل وادئ جہلم کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ سلوک اور تصوف کو بہت عزیز رکھتے ہیں۔ اس راہ کے ساتھ ان کا یہ لگاو بھی ویسے بیجا نہیں ہے۔ اس کی پشت پر ایک طرف تو ان کی وہ مقامی روایت ہے جس کے سب سے بڑے علمبردار شیخ نورالدین بنے۔ واضح رہے کہ شیخ نے غیر مقامی (وسط ایشیائی اور فارسی) روایت تصوف کو جاذب نظر پاکر اس میں کافی دلچسپی لی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مولانا رومی کو بھی سراہا اور منصور الحلاج کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ دوسری طرف شیخ کے سامنے مقامی رشیوں کی روایت بھی موجود تھی، جسے وہ کسی صورت میں بھی پس پشت نہیں ڈال سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے رشیوں کی چیدہ چیدہ شخصیات کو بھی عقیدت کی نظروں سے دیکھا۔ اس ضمن میں شیخ نے نہ صرف اگلے زمانے کے رشیوں جیسے زلک رشی، رمہ رشی، میران رشی وغیرہ کے کردار کو ابھارا بلکہ لل دید کی عہد ساز شخصیت کو بھی ایک نمونے کے طور پر پیش کیا۔ البتہ شیخ کی اصطفائیت پسند (eclectic) اور مطابقت پذیر (syncretic) طبیعت نے اس وقت کمال دکھایا جب آپ نے تقریبا" امام غزالی کی طرح ذات ِرسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کو "اول رشی" کہہ کر ہدایت کا اصلی سرچشمہ قرار دیا اور خود کو "ساتواں رشی" کہہ کر مقامی اور غیر مقامی صوفیانہ روایت کے امتزاج کے طور پر پیش کیا۔ چونکہ کشمیری مسلمان پہلے ہی سادات کرام، جن سے انہوں نے دین و دنیا کو سمجھا تھا، کی عظیمت کے معترف ہوچکے تھے، اس لئے انہوں نے شیخ کو اپنا قومی رہبر یا "علمدار" ماننے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔
لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اہل وادیٔ جہلم اپنی اس حیثیت کو مجموعی طور پر محفوظ نہ رکھ سکے۔ یکے بعد دیگرے مختلف طالع آزما وادی پر گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ مختلف حیلوں بہانوں سے صوفیوں اور رشیوں کی اس مشترکہ رویت پر ڈاکہ زنی کرنے میں بھی ان لوگوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اہل کشمیر اپنی موحدانہ شناخت کو کسی حد تک صحیح سلامت رکھنے میں کامیاب رہے۔ اسلام اور شعائر اسلام کے ساتھ اپنی ’’سیدھی سادی‘‘ وابستگی نے اہل کشمیر کی اس ضمن میں کافی مدد کی۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلی صدی کی ربع ثانی میں کشمیری مسلمانوں نے ایک توحید کی عالمگیر آواز پر درجنوں جانیں قربان کر کے اپنی حمیت اسلامی کو ثابت کیا۔ اس طرح وادئ زمزم سے اٹھنے والی توحید کی صدا وادئ جہلم میں گونجتی رہی۔
(رابطہ 9858471965
ای۔میل: [email protected])