واجپائی سے مودی تک

واجپائی  سے لے کے مودی تک بھاجپا کے رہبراں انسانیت،جمہوریت و کشمیریت کے دلفریب نعروں سے اہلیاں کشمیر کو بہلانے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔اِن سب نعروں کا مدعا و مقصد ایک ہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی رعایت دئے بغیر خالی خولی نعروں سے حالات کو جوں کا توں رکھنے کی سعی کی جائے ۔ پچھلے دنوں جب نریندا مودی جموں و کشمیر کے دورے پہ آئے تو اُنہوں نے پھر جمہوریت اور کشمیرت کا راگ الاپا۔اب کی بار ماضی کے برعکس انسانیت کی بات منظر عام پہ نہیں آئی کیونکہ پچھلے ایک دو سالوں میں جس شے کا کشمیر میں فقدان رہا ہے وہ انسانیت ہے۔اتل بہاری واجپائی ایک سیاستداں ہونے کے علاوہ شاعرانہ شعور بھی رکھتے تھے اور سیاسی امور میں بھی اپنی بات کو عوام الناس کے سامنے رکھنے کی خاطر طبع آزمائی کرتے تھے ۔اپنی بات کو شاعرانہ روش میں بیاں کرنے سے وہ سیاسی احداف کے حصول کی تلاش میں رہتے تھے ۔جب یہ عیاں ہونے لگا کہ کشمیر کی مقاومتی رہبری بھارتی آئین کے دائرے میں گفت و شنید کے لئے تیار نہیں تو واجپائی کے شاعرانہ تخیل نے انسانیت کی طرح کو منظر عام پہ لایاالبتہ بات وہی کی وہی رہی چونکہ بھارتی رہبری مسلہ کشمیر کے ضمن میں کوئی ایسی رعایت دینے کیلئے تیار نہیں تھی جو کشمیر کی مقاومتی رہبری کیلئے قابل قبول ہوتی۔انسانیت کے بول میں انسانیت سے مطابقت رکھنے کوئی بات نہیں تھی۔ مودی نے واجپائی کی تقلید میں جمہوریت و کشمیریت کا راگ چھیڑا ہے جس کی گہرائی و گیرائی کو مسلہ کشمیر کے ضمن میں چانچنے کی ضرورت ہے تاکہ اِس حقیقت کا تجزیہ ہو سکے کہ بھارتی قول و فعل میں کتنا تفادہے۔
جمہوریت! دیکھا جائے تو جب سے مہاراجہ ہری سنگھ نے  1947ء کے مخصوص حالات میں بھارت سے کچھ شرائط پہ عائد ایک عبوری الحاق کیا جس کی حمایت شیخ محمد عبداللہ نے کی تب سے آج تک لکھن پور کے اِس پار جمہوریت کی کوئی بھی علامت ریاست جموں و کشمیر میں شاز و نادر ہی نظر آئی۔ لکھن پور کے اِس پارریاست جموں وکشمیر میں جمہوریت کا رنگ و روپ وہی رخ اختیار کرتا ہے جو دہلی سرکار چاہتی ہو بلکہ جمہوریت کس مقدار میں مصرف میں آئے اِس کا تعین دہلی میں ہی ہوتا ہے۔جمہوریت کی بنیادی ضرورت صاف ستھرا الیکشن ہوتا ہے لیکن کشمیر میں 1951ء  میں جب آئین ساز اسمبلی کا الیکشن ہوا تب ہی سے الیکشن کے نام پہ ایک مذاق منظر عام پہ آتا رہا۔آئین ساز اسمبلی میں کم و بیش سب ہی ممبراں بلا مقابلہ منتخب قرار دئے گئے اور اُس کے بعد ایک روش چل پڑی ۔اِس روش کے بارے میں مرحوم شمیم احمد شمیم کی وہ طرح یاد آئی جو اُنہوں نے 1967ء کے الیکشن کے بارے میں کسی۔مرحوم شمیم اِس الیکشن میں شوپیاں حلقہ انتخاب سے ایک امیدوار تھے ۔کشمیر کے جنوبی ضلعے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عبدالخالق نے رٹر ننگ آفیسر کی حثیت سے 22امیدواروں کو مد مقابل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی رد کروا کے بلا مقابلہ منتخب قرار دلوایا۔مرحوم شمیم احمد شمیم نے بلا مقابلہ منتخب شدگاں کو خالق میڈ ایم ایل اے کے خطاب سے نوازا ۔اُس زمانے سے خالق میڈ کی طرح ایسی چپک گئی کہ بعد کے انتخابات میں بھی بلا مقابلہ منتخب شدگاں کو خالق میڈ کہا جانے لگا۔یہ ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات پہ ایک گہرا سیاسی طنز رہا۔انتخابات کی یہ روش کچھ ایسی چل پڑی کہ جہاں مدمقابل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی رد کرنا مناسب نظر نہیں آیا وہاں وؤٹوں کی گنتی میں ہیر پھیر کے کئی واقعات پہ پیش آئے اور کبھی کبھی تو انتخاب جس نے جیتا اُس کے نام کے بجائے منظور نظر امیدوار کے نام کا اعلان کیا گیا۔
ریاست جموں و کشمیر میں 1951ء سے  1987ء تک انتخابات کی یہی روش رہی ۔1987ء کے الیکشن کو جمہوری بے راہروی کی انتہا مانا گیا اور اِس الیکشن میں جو دھاندلی ہوئی اُسے بہت سے مبصرین جن میں کئی نامور بھارتی مبصرین بھی شامل ہیں جنگجویانہ تحریک کی بنیادی وجہ مانتے ہیں۔مسلم متحدہ محاز کے نام پہ ایک سیاسی فرنٹ کی تشکیل ہوئی جو کانگریس و نیشنل کانفرنس کے انتخابی گٹھ جوڑ کیلئے ایک چلینج بن گئی ۔ اِس فرنٹ میں کئی ایسے چہرے بھی شامل تھے جو بعد جنگجو تحریک کے رہنما بنے۔اِن چہروں میں محمد یوسف عرف صلاح الدین ،اشفاق مجید و یاسین ملک نمایاں حثیت رکھتے ہیں۔1987ء کے بعد الیکشن عمل پہ اعتبار نہ ہونے کے برابر رہا اور 1989-90ء کے بعد مقاومتی تحریک نے شدت اختیار کرلی جس میں جنگجویانہ مزاحمت بھی شامل رہی۔مقاومتی تحریک کی شدت نام نہاد جمہوری عمل کی معطلی کا سبب بن گئی اور  1996ء تک ریاست کبھی گورنر راج اور کبھی صدر راج کے تحت رہی اور 1996ء میں بھارت نے اپنے آزمائے ہوئے سیاسی چہرے فاروق عبداللہ کو پھر منظر عام پہ لایا ۔اِس الیکشن میں لوگوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ۔فاروق عبداللہ کی رہبری میں تشکیل شدہ اسمبلی کی قدر و قیمت کے بارے میں یہ کہنا کافی ہے کہ جب اِس اسمبلی نے اٹانومی کے ضمن میں ایک قراداد منظور کی تو اُسے دہلی نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیااور اِس سیاسی اہانت پہ فاروق عبداللہ نے چپ سادھ لی۔
بخشی غلام محمد سے لے کے غلام محمد صادق تک اور صادق سے لے کے میر قاسم تک بھارت کو فارق عبداللہ و مفتی محمدسعیدسمیت ایسے سیاسی چہرے ملتے رہے جنہوں نے اپنا نصب العین دہلی کے احکامات کی بجا آوری مانا ۔  2002ء کے الیکشن اور اُس کے بعد 2008ء اور 2014ء میں جو الیکشن ریاست جموں و کشمیر میں منعقد ہوئے اُس میں بھارتی ایجنسیاں ایک نئی حکمت عملی لے کے سامنے آئیں ۔نیشنل کانفرنس کے مدمقابل دہلی کے قابل اعتماد سیاستداں مفتی محمد سعید کی رہبری میں ایک اور علاقائی پارٹی منظر عام پہ آیا ۔عبداللہ خاندان اور مفتی خاندان کے بیچ علاقائی سیاست کی بندر بانٹ ہوئی جس کا مدعا و مقصد یہ رہا کہ عبداللہ خاندان سے ناراضگی کو مفتی خاندان اور مفتی خاندان سے ناراضگی کو عبداللہ خاندان کیش کرلے اور مقاومتی تحریک اِسے کیش کرنے کے قابل نہ رہے ۔ نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی کو گاہ بگاہ نرم رو علحیدگی پسندی کی ترجمانی کی چھوٹ دی گئی۔اِس نئی حکمت عملی کا حدف یہ رہا کہ مقاومتی تحریک کیلئے سیاسی محل و مکاں کم سے کم کیا جائے ثانیاََ سیاسی ترکیب کچھ ایسی رہی کہ علاقائی احزاب نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی کیلئے قومی بھارتی قومی ا حزاب کانگریس یا بھاجپا کی شراکت کے بغیر حکومت سازی کا کام مشکل رہے چناچہ 2002ء سے 2014ء تک نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی نے باری باری کانگریس کے ساتھ حکومت تشکیل دی اور 2014ء کے بعد بھاجپا کے ساتھ پی ڈی پی نے حکومت اِس اعتراف کے باوجود تشکیل دی کہ یہ قطب شمالی و قطب جنوبی کا ملاپ ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ حقیقی جمہوریت اور اُس جمہوریت میں جو جموں و کشمیر میں رواں ہے قطب شمالی سے قطب جنوبی تک کی دوری ہے!
اٹل بہاری واجپائی کی تقلید میں مودی نے اُسی منتر کی جھاپ شروع کی جو منتر 2003ء میں اُن کے پیشرو بھارتی وزیر اعظم کی ذہنی کاوش کا نتیجہ تھی یعنی کشمیریت و جمہوریت البتہ ایک فرق کے ساتھ اور وہ یہ کہ کشمیر میں ہر مسلے کا حلـ’ وکاس ‘ہے۔’وکاس‘ لغت ہندی میں اقتصادی ترقی کو کہتے ہیں ۔ واجپائی کے برعکس مودی کی طبیعت شاعرانہ نہیں لہذا اُنہیں اپنی انتہا پسند سوچ کو الفاظ کے لبادے میں چھپانے میں مشکل پیش آتی ہے پس ’وکاس‘ انسانیت کی جگہ جایگزین ہو گیا۔ویسے بھی ’وکاس‘ مودی کا پسندیدہ کلمہ ہے’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ اُن کا پسندیدہ کلمہ ہے جس سے وہ ہندوستان کے طول و عرض میں دہراتے ہیں لیکن سب کے بجائے اُنکی اگلی پچھلی صفوں میں ہندتوا کے ماننے والے اور کلچرل نیشنلزم پہ ایمان رکھنے والے نظر آتے ہیںجسے ہم اُردو میں ثقافتی وطن پرستی کہہ سکتے ہیں جہاں ثقافت،وطن پرستی اور مذہب کو ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے ۔اِس ثقافتی وطن پرستی میں ہندوستان کے وسیع میدانوں کی اقلیتوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں حتّی کہ نچلی جاتی کے دلت اُس میں نہیں پنپتے چہ جائیکہ شمالی ہمالیہ کے فلک بوس پہاڑیوں میں وقوع پذیر کشمیر کی گلپوش وادی کے باشندے!۔
نریندرا مودی کے حالیہ کشمیر دورے کے دوراں محبوبہ مفتی اپنے مرحوم والد مفتی محمد سعید کی مانند مسلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں اقدامات کی پیشنہاد کرتی رہیں البتہ اِس ضمن میں اُنہوں نے یہ احتیاط برتی کہ مودی کے سیاسی قدو قامت کی افزائش میں یہ کہا جائے بھارتی وزیر اعظم کے مثبت اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رویہ منفی رہا۔نریندرا مودی کے اقدامات میں جو مثبت اقدامات گنوائے گئے اُن میں مودی کے حلف وفاداری کے موقعے پہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی بطور مہماں عزت افزائی اور 25دسمبر 2015ء میں کابل سے دہلی کی پرواز کے دوراں لاہور میںنواز شیریف کی پوتی کی شادی میں شرکت جو ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے پس پشت پہ کوئی سفارتی تیاری نہیں تھی جو وزرائے اعظم کی ملاقات سے پہلے سفارتی زمیں کو ہموار کرنے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ معروف کالم نویس اے جی نورانی اپنے ایک حالیہ کالم میں جو پہلے پاکستانی اخبار ’ڈان‘ میں شائع ہوا اور پھر 20مئی2018ء کو ’گریٹر کشمیر‘  میں دوبارہ چھپا رقمطراز ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ کیلئے حاضر نظر نہیں آتا ۔اے جی نورانی کی نظر میں ایسا ڈول ڈاکٹرین کی تقلید میں ہو رہا ہے۔اجیت ڈول بھارت میں قومی سلامتی کے صلاح کار ہیں اور ایسا مانا جاتا ہے کہ اُنکی ڈاکٹرین یعنی اُنکا نکتہ نظر مسلہ کشمیر کے ضمن و پاکستان سے کسی بھی قسم کے تعلقات میں نرم روی کے خلاف ہے ثانیاََ نورانی کی نظر میں بھاجپا یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ کانگریس سے مختلف ہے۔
محبوبہ مفتی بھاجپا اور پی ڈی پی کے اتفاق نامہ جسے ایجنڈا آف الائنس کہا جاتا ہے کو لاگو کرنے پہ اصرار کرتی رہیں لیکن مودی نے اپنی جوابی تقریر میں سنی ان سنی کر دی۔ایجنڈا آف الائنس میں مسلہ کشمیر کے ضمن میں بات چیت آگے بڑھانے کا ذکر ضرور ہوا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جب بھی پی ڈی پی نے یاد دہانی کرائی تب نریندرا مودی نے یا تو بات ٹال دی یا کورا جواب دیا ۔ محبوبہ مفتی سے پہلے اُنکے والد مفتی محمد سعید نے شیر کشمیر اسٹیڈیم میں  7نومبر 2015ء کے روز ایک پبلک جلسے کے دوران خط متارکہ پہ امنیت و تجارت و مسلہ کشمیر کے ضمن میں مثبت اقدامات کی تجویز پیش کی جسکے جواب میں مودی نے صاف الفاظ میں اُنکی بات یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی تھی کہ کشمیر کے ضمن میں اُنہیں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔رہی بات کشمیر میں مقاومتی تحریک سے مفاہمت کی یا پاکستان سے کشمیر کے ضمن میں سفارتی روابط کی تو یہ مودی کی ترجیحات میں شامل نہیں نہ ہی ایسی کوئی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کے سیاسی تصفیہ کیلئے کوئی موثر اقدام کریں کیونکہ اُن کی سیاسی سوچ پہ آر ایس ایس کی گہری چھاپ ہے ۔مسلہ کشمیر کے ضمن میں مثبت اقدامات کی تلقین چاہے وہ ماضی میں مرحوم مفتی سعید کی طرف سے آئی ہو یا حال میں محبوبہ مفتی کی طرف سے اُسکا توڑ بھارتی رہبراں کی نظروں میں کشمیریت پہ اصرار رہا ہے چاہے وہ بھارتی لیڈر ماضی میں واجپائی رہا ہو یا دور جدیر میں نریندرا مودی رہا ہو۔
کشمیریت کا کلمہ بھارتی سیاست دانوں کی نوک زباں پہ ہے اور یہی کلمہ بھارت کے تجزیہ نگاروں وکالم نگاروں کے نوک قلم پر بھی ہے۔  ظاہر ہے یہ کشمیریت کو بھارتی سماج کے وسیع ثقافتی دائرے میں سمونے کی ایک سعی متواتر کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ایک ایسی کشمیریت جو ایک جداگانہ مذہبی نوعیت ، خصوصی ثقافتی شناخت ،جغرافیائی حالات و تواریخی شواہد کی مظہر نہ ہو قابل قبول نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کشمیریت کو بھارتی شناخت سے جوڑنے کی سعی مسلہ کشمیر کے تصفیہ میں معاون ہو سکتی ہے۔ کشمیر میں مقاومتی تحریک کا مدعا و مقصد ہی کشمیر کی خصوصی سیاسی ،سماجی ،ثقافتی ،جغرافیائی و تواریخی نوعیت ہے لہٰذا کشمیریت کی کوئی بھی ایسی پہچان قابل قبول نہیں ہو سکتی جس میں کشمیر کو ایک جداگانہ تہذیب و تمدن میں سمونے کی سعی شامل ہو ۔دیکھا جائے تو یہ مسلہ کشمیر کے وجود کی نفی ہے چونکہ جہاں کشمیر کی اپنی شناخت سر فہرست نہیں وہاں مسلے کی نفی ہوتی ہے لہذاکشمیریت کی بھارتی تعریف کشمیر کی مقاومتی تحریک کیلئے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
Feedback on: [email protected]
