وائرس

مّطلع ابر آلود تھا ۔ بُونداباندی کے نمایاں آثار ترشح تھے مگر گرمیاں تھیں ، سو اچھا لگا ۔ میں حسب معمول نمازِ ظہر ادا کرنے اپنی مقامی مسجد گیا ۔ پہلی صف میں ایک صاحب کو دیکھا تو شکل کچھ جانی پہچانی سی لگی ۔ اس شخص کی لمبی داڑھی اور ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ ذہن پر زور ڈالا تو یاد آیا کہ رُخ  سے اس شخص کی داڑھی اور ہاتھ سے تصبیح ہٹائی جائے تو یہ ایک معروف افسر شاہ ہیں جو حال ہی میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنے زمانے میں بڑی لوٹ کھسوٹ کی ہے ۔  زندگی میں کبھی نماز بھی پڑھی ہو ، اس قسم کی کوئی شہادت بھی دستیاب نہیں ہے اور طرہ یہ کہ کوئی کارِ نیک بھی نہیں کئے ہیں ۔ میں محوِ حیرت اس افسر شاہ کو دیکھ ہی رہا تھا کہ نماز کا وقت یہ گیا اور لوگ نماز کےلئے کھڑے ہوگئے ۔ جبھی معلوم ہوا کہ امام صاحب کسی وجہ سے غیر حاضر ہیں اور فی الوقت حاضر نہیں ہوسکتے ۔ اب لوگ ادھر اُدھر دیکھ ہی رہے تھے کہ متذکرہ افسر شاہ اگلی صف سے نکل کر آگے بڑھے اور امام صاحب کی جگہ امامت کےلئے استادہ ہوگئے ۔ اچانک وہ اونچی اور تحکمانہ آواز میں بولے ۔ تکبیر پڑھئے ۔۔۔