نیکی کر دریا میں ڈال افسانہ

غازی عرفان خان

منظور احمد کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے عمر نے آواز دی ۔۔۔انکل۔۔۔انکل۔۔۔منظور انکل۔
منظور احمد کی اہلیہ نے دروازہ کھولا اور اس کو دیکھتے ہی عمر مخاطب ہوا۔
السلام علیکم۔۔۔آنٹی۔۔ٹھیک ہو۔۔گھر میں سب ٹھیک ہیں۔
جی بیٹا۔۔۔الحمد اللہ سب ٹھیک ہیں۔۔۔اندر آؤبیٹا؟
منظور انکل کہاں ہیں۔۔مسجد شریف کی طرف سے انکے نام ایک خط لیکر آیا ہوں۔۔۔یہ انہیں دیجئے گا۔
خط منظور احمد کی اہلیہ کے ہاتھ میں تھمانے کے بعد وہ محلے کے باقی لوگوں کو بھی خط پہنچانے چل پڑا۔
شام کو منظور صاحب نے خط پڑھا جس میں لکھا تھا۔۔۔”اتوار کو بعد نماز عصر مسجد شریف کی تعمیر و ترقی کے متعلق ایک اہم نشست منعقد ہونے جارہی ہے انشاء اللہ۔۔آپ اپنی شرکت یقینی بنائیں”۔
اتوار بعد نماز عصر نشست کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوااور اس کے بعد کمیٹی صدر نے ممبران اور محلے والوں کے سامنے مسجد پاک کی تعمیر نو کے حوالے سے کچھ اہم باتوں کی طرف توجہ مبذول کی جس میں اہم بات یہ تھی کہ اب قدیم مسجد شریف میں نمازیوں کے لئے جگہ کم پڑ رہی ہے اور اس کی لکڑی بوسیدہ ہورہی ہے لہذا مسجد شریف کی تعمیر نو انتہائی ضروری ہے ۔کمیٹی صدر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لوگوں سے معاونت کی اپیل کررہا تھا۔۔۔۔مسجد پاک کی تعمیر و ترقی میں جو خرچہ آنے والا تھا وہ محلے کے لوگوں کی معاونت کے بعد بھی پُر نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ محلے میں مزدور طبقہ لوگوں کی اکثریت تھی۔۔۔ تعمیر مسجد کے شوق اور جذبہ ایمان سے انہوں نے صدر محترم کی ہربات سے اتفاق کیا۔
نشست کے قریب ہی بیٹھا ایک شخص یہ سب باتیں سن رہا تھا۔۔نشست ختم ہونے کے بعد وہ بھی چپ چاپ اُٹھ کر چلا گیا۔
اگلے ہفتے پیر کے دن مسجد پاک کی سنگ بنیاد رکھی گئی۔
الحمد اللہ۔۔۔۔۔مسجد پاک کی سنگ بنیاد رکھنےکے دن لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے مسجد شریف کے کام میں حصہ لیا اور دل کھول کر معاونت بھی کی۔
مسجد شریف کے کام کو پائیہ تکمیل تک پہنچانےکے لئے ان کے پاس تسلی بخش رقم موجود نہیں تھی۔۔۔دوسری میٹنگ منعقد کرنے کے بعداب انہوں نے کچھ افراد کو چندہ جمع کرنے کے لئےمنتخب کیا۔
اگلی صبح مسجد پاک کے صحن میں پکی اینٹیں اور ریت کے انبار دیکھ کر لوگ حیران ہوگئے کہ یہ سب کہاں سے آیا اور کس نے بھیجا۔
تب ہی پاس کھڑے کمیٹی صدر کی زبان سے قرآن کے یہ الفاظ نکلے۔۔۔
“بے شک مساجد کی تعمیر میں وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں”۔
���
منیگام گاندربل، کشمیر