نیکی اور تقویٰ میں عدم تعاون | امن، تحفظ و سلامتی کے لئے یکجہتی لازمی جُز

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر عدل و انصاف کے قیام اور امن پھیلانے کے لیے یکے بعد دیگرے حاکم بنایا،اور تمام بنی نوع انسان پر زور دیا کہ وہ ایسے عظیم مقاصد کے حصول کے لیے تعاون کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور نیکی اور پرہیزگاری میں تعاون کرو، لیکن گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو‘‘۔ (سورۃالبقرہ:۰۵) قرآن پاک کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نیکی میں تعاون کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے تقویٰ سے جوڑتا ہے۔ اس لیے کہ تقویٰ کے ذریعہ ہی انسان اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اورزندگی میں اطمینان حاصل کر سکتا ہے، اور جو لوگ ان دونوں شعبوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ سعادت حاصل کریں گے اور فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس بنا پر مسلمانوں کا نیکی اور پرہیزگاری میں تعاون کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک صف میں کھڑے ہو جائیں، گویا وہ ایک ہی ڈھانچے کی طرح دشمن کے مقابلے میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہوں۔ لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے لیے یہ ایک نعمت ہے کہ وہ مسائل سے نمٹنے، چیلنجوں پر قابو پانے، ظالم کو روکنے اور مظلوم کی مدد کے لیے اتحاد قائم کر سکیں۔ اس معاملے میں ایک اچھی مثال وہ اتحاداورعہد و پیمان ہے ،جو قریش اور دیگر قبائل نے بنایا تھا اور نبوت سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کیا تھا، جسے ’’حلف الفضول‘‘ کا نام دیا گیا تھا، جوعبداللہ بن جدعان کے گھر میں اختتام پذیر ہوا۔ اس کے بعد، اس کے ارکان نے مکہ کے تمام مظلوموں کے حقوق کی حمایت اور  ظالموںکے ظلم و زیادتی کو روکنے کا عہد کیا۔ اس اتحاد کو مخاطب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ میں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر پر ایک معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگردور اسلام میںاس عہد و پیمان کے لئے مجھے بلایا جاتا تو میں لبیک کہتا‘‘ (الرحیق المختوم: ۹۰)۔ درحقیقت، ’’حلف الفضول‘‘ عربوں کے درمیان قائم ہونے والے بہترین اور بہترین اتحادوں میں سے ایک تھا۔
مزید برآں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جائز مالکان کو حقوق کی واپسی کی راہ میں قائم ہونے والے کسی بھی اتحاد کی تعریف کرتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ’’ اسلام میں کوئی اتحاد نہیں ہے بلکہ وہ اتحاد (حلف) جو زمانہ جاہلیت میں قائم ہوا تھا۔ اسلام اس کو اور مضبوط کرتا ہے‘‘۔ (مسلم: ۲۵۳۰)  اس حدیث کی تشریح میں امام القرطبی نے کہا،’’اسلام کسی بھی ایسے اتحاد کو مضبوط کرتا ہے جو مظلوموں کے حقوق کی حمایت کے لیے پرعزم ہو۔ اس کے باوجود، اس نے دوسرے تمام اتحاد کو تحلیل کر دیا جو لوگوں پر ظلم کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے‘‘۔ (تفسیر القرطبی)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مظلوموں کا ساتھ دینے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی چاہے وہ کسی بھی مذہب اور نسل سے ہوں۔ اسی سلسلے میں روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص مکہ میں آیا اور شکایت کی کہ ابوجہل نے اس سے کچھ اونٹ خرید لیے ہیں اور پیسے نہیں دیے ہیں۔ جب اس شخص نے قریش کے لوگوں سے اس کی مدد کرنے کو کہا تو انہوں نے اسے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ رسول اللہؐ اُسے ابو جہل کے گھر لے آئے اور اس سے کہا کہ اس آدمی کی وہ رقم واپس کر دو جو اس پر واجب ہے۔ ابوجہل فوراً رقم لے کر واپس آگیا۔ پھر وہ شخص قریش کی مجلس میں واپس گیا اور کہنے لگا: اللہ اس (رسول اللہؐ) کو اچھا اجر عطا فرمائے۔ مجھے وہ مل گیا ہے جو مجھ پر واجب تھا۔(سیرت ابن ہشام)
ایک مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کے حق میں اس کی حمایت اور اس کے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ لہٰذا وہ اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی اسے (دشمنوں کے حوالے کرے)‘‘۔ (البخاری: ۲۴۴۲) یعنی مسلمان اپنے بھائی کو ایسے لوگوں کے حوالے نہ کرے ،جو اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ اس کا دفاع کرے اور اس کے حقوق کی حفاظت کرے۔ اس طرح، راستبازی میں تعاون کے بہترین اور اہم ترین پہلوؤں میں سے مظلوموں کی حمایت اور مصیبت زدہ لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے اتحاد بنانا ہے۔ ایسا کرنے سے وہ اپنے حقوق کی حفاظت اور اس میں رہنمائی کرنے والے تمام لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے ساتھ اپنا فرض ادا کریں گے، جیسا کہ آپ ؐنے فرمایا’’ایک مو من دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے،کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتاہے‘‘۔ (البخاری:۴۸۱)
بہت سارے فائدے ہیں جو ایک دوسرے کو مدد کرنے اور راستبازی میں تعاون کرنے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ دنیا اور آخرت میں فتح، طاقت، سعادت اور شان و شوکت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ ایسا کرتے ہوئے مومنین ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حق کی تلقین کر رہے ہوں گے۔’’بیشک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘ (سورۃ العصر:۳۔ا)  ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس طرح کے اتحاد اور تعاون سے کام لینے سے اللہ تعالیٰ جارحوں کی جارحیت کو ناکام بنا دے گا کیونکہ وہ فرماتا ہے’’ اگر وہ تمہیں دھوکہ دینا چاہیںگے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔اسی نے اپنی مددسے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے‘‘۔ (سورۃالانفال:۶۲)
درحقیقت نیکی میں ہاتھ بٹانے سے لوگ برائی سے محفوظ ہوں گے اور مجرموں کے لیے ناقابل تسخیر ہو جائیں گے اور باطل بھی رخصت ہو جائے گا۔ لہٰذا، بحیثیت مسلمان ہماری ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ امن اور تحفظ و سلامتی کو پھیلانے کے لیے اتحاد قائم کیا جائے کیونکہ اسلام لوگوں کو سعادت کی راہ پر گامزن کرنے اور نیک کام کرنے والوں کو خوشخبری دینے کے لیے بھیجا گیا ہے کہ انھیں جنت سے نوازا جائے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے لیے بہترین اور اضافی ہے۔ ان کے چہروں پر نہ اندھیرا چھائے گا اور نہ ذلت۔ وہ جنتی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (سورۃیونس :۲۶)
بے شک اہل جنت کی سب سے اچھی نعمت اللہ کے چہرے انور کو دیکھنے کا موقع ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ بددیانتی کرتے ہیں وہ دوسروں کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور اللہ کی طرف سے منع کردہ کام کرتے ہیں ان کو اللہ نے سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’بے شک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے، اس کے لیے جہنم ہے۔ جس میںوہ نہ مرے گا اور نہ جیے گا‘‘۔ (سورۃ طہٰ:۷۴)
مسلمانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ انہیں معاشرے میں فلاح اور امن قائم کرنے میں حصہ لینا ہے اور مظلوم کے حقوق کے تحفظ اور ظالم کو روکنے میں حاکم کی مدد کرنی ہے۔ اس حوالے سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحانہ نے پوچھا: یا رسول اللہؐ!ہم مظلوم کی تو کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’اسے دوسروں پر ظلم کرنے سے روکو‘‘ ۔(البخاری: ۲۴۴۴) اسی سلسلے میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مظلوم کی مدد کا ذکر فرمایا۔ (البخاری:۱۲۳۹) مزید برآں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام اعمال کو ترک کر دیں جو اسلام کی شبیہ کو بگاڑتے ہوں، جیسے کہ تشدد اور انتہا پسندی، اور رواداری اور اعتدال کو زندگی کے طور طریقوں کواپنائیں، اور ایسا کرنے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں گے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہے’’تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے‘‘۔ (سورۃ التوبہ:۱۲۸)
درحقیقت اعتدال اور عدل کے اصولوں کو اپناتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہی سلامتی اور نیکی کا راستہ ہے۔ اسلامی اتحاد کی تشکیل ان قائدین کے بصیرت انگیز وژن کی عکاسی کرتی ہے جنہوں نے اسے ان حواس باختہ لوگوں کے سامنے ایک ناقابل تسخیر قلعہ کے طور پر قائم کیا جو پوری انسانیت کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور حق و انصاف کے اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ لہٰذا ایسا اتحاد ایک جائز اور حقیقت پسندانہ ضرورت ہے جسے موجودہ وقت میں قوم کے وجود کی حفاظت اور مستقبل میں اس کی صلاحیتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پورا کیا جانا چاہیے۔
(مضمون نگاراسلامک سٹیڈیز کے ایک محقق ومصنف ہیں)
رابطہ۔919622474673