نیٹ امتحان تنازعہ کا نیا موڑ | این ٹی اےسربراہ کو ہٹایا گیا، کرولاعبوری چیف مقرر

عظمیٰ نیوز سروس

نئی دہلی//نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے سربراہ سبودھ کمار سنگھ کو نیٹ یو جی اور یو یو جی سی نیٹ امتحانات کے انعقاد میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد ہفتہ کی رات کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔1985 بیچ کے ریٹائرڈ افسر پردیپ سنگھ کرولا کو باقاعدہ سربراہ کی تقرری یا اگلے احکامات تک مقرر کیا گیا ہے۔پچھلے دو مہینوں کے دوران این ٹی اے ملک کے دو سب سے بڑے مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک ہونے کی وجہ سے خبروں میں ہے۔اتر پردیش کے رہنے والے سبودھ کمار نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رورکی سے انجینئرنگ اور ماسٹرس ڈگری اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) نئی دہلی سے MBA کیا ہے۔اپنے موجودہ کردار کو سنبھالنے سے پہلے آئی اے ایس افسر مرکزی وزارت برائے امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کے محکمہ خوراک اور عوامی تقسیم میں ایڈیشنل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔انہوں نے چھتیس گڑھ سیکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کے تحت 2009 سے 2018 تک نو سال خدمات انجام دی ہیں –۔وزیراعلیٰ کے دفتر میں آئی اے ایس افسر نے ریاست کے بجلی کی تقسیم کے محکمہ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور بعد میں معدنی وسائل اور صنعت و تجارت کے محکمے کے سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں اور آخر کار 2020 میں مرکزی ڈیپوٹیشن لے لیا۔2002 میں سبودھ کمار کو مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کے نفاذ میں بہترین کارکردگی کے لیے دیہی ترقی کی وزارت سے اپنا پہلا قومی ایوارڈ ملا۔

رادھا کرشنا کی صدارت میں 7رکنی کمیٹی تشکیل
یو این آئی
نئی دہلی// مرکزی وزارت تعلیم نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعے صاف شفاف، آسان اور غیرجانبدارانہ امتحان کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سابق چیٔرمین ڈاکٹر کے رادھا کرشنن کی صدارت میں اعلیٰ سطحی ماہرین کی سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ہفتہ کو وزارت کی طرف سے جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق کمیٹی امتحانی عمل کے نظام کو بہتر بنانے، ڈیٹا سیکیورٹی پروٹوکول اور این ٹی اے کے ڈھانچے اور کام کاج کو بہتر بنانے کے حوالے سے دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ وزارت کو پیش کرے گی۔ کمیٹی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( ایمس ) دہلی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ۔ بی۔ جے۔ راؤ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) مدراس کے شعبہ سول انجینئرنگ کے پروفیسر ایمریٹس کے۔ رام مورتی، پیپل ا سٹرانگ اور بورڈ ممبر کرمایوگی بھارت کے شریک بانی، پروفیسر پنکج بنسل، ڈین اسٹوڈنٹ افیٔرز، آئی آئی ٹی دہلی۔ آدتیہ متل اور جوائنٹ سکریٹری برائے تعلیم، حکومت ہند گووند جیسوال کو مقرر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنا اس وقت کانپور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرز کے چیٔرمین ہیں۔قابل ذکر ہے کہ قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ ( این ای ای ٹی ) اور یو جی سی ۔ این ای ٹی امتحان میں بے ضابطگیوں کے سلسلے میں بحث چل رہی ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ طلباء کے مفادات پر کسی بھی طرح سے سمجھوتہ نہیں ہونے دے گی، اسی تناظر میں یہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔وزارت کے مطابق کمیٹی کو امتحانی عمل کے نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے پورے امتحانی عمل کا تجزیہ کرنے اور نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کو روکنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ طریقہ کار ( ایس او پی ایس ) کا جائزہ لینے کا پابند بنایا گیا ہے۔ این ٹی اے کے پروٹوکولز کو ایک مکمل جائزہ لینے اور نگرانی کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا سیکیورٹی پروٹوکول کو بہتر بنانے کے تناظر میں این ٹی اے کے موجودہ ڈیٹا سیکیورٹی پروسیسز اور پروٹوکولز کا جائزہ لینا اور اس کی بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرنا اور مختلف امتحانات کے لیے پیپر سیٹنگ اور دیگر پروسیسز سے متعلق موجودہ سیکیورٹی پروٹوکول کی جانچ کرنا اور بہتر بنانے کے لیے نظام کے اختیارات بڑھانے کے لیے سفارشات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔مزید یہ کہ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں این ٹی اے کے تنظیمی ڈھانچے اور کام کاج کے بارے میں سفارشات کرنا اور ہر سطح پر افسروں کے کردار اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کرنا اور این ٹی اے کے موجودہ شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کا جائزہ لینا، بہتری کے شعبوں کی نشاندہی کرنا اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا شامل ہے۔کمیٹی اس حکم نامے کے جاری ہونے کی تاریخ سے دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ وزارت کو پیش کرے گی۔ کمیٹی اس کی مدد کے لیے کسی بھی موضوع کے ماہر کو شامل کرسکتی ہے۔

این ڈی اے حکومت لیپا پوتی میں مصروف :کھڑگے
نئی دہلی/یو این آئی/ کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ نقل مخالف قانون کو نوٹیفائیڈ کرکے بی جے پی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کی میڈیکل کے داخلہ امتحان نیٹ میں دھاندلی میں لیپا پوتی کی کوشش ہے لیکن اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کسی بھی سطح پر اس معاملے کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔کھڑگے نے کہا کہ حکومت کے وزیر تعلیم اس معاملے میں غلط بیانات دے رہے ہیں، نیا قانون نوٹیفائیڈ ہو گیا ہے جبکہ قانون کل ہی نوٹیفائیڈ ہوا ہے اور اسے فروری میں ہی صدرجمہوریہ کی منظوری مل گئی تھی۔انہوں نے کہا’’اس گھوٹالے میں بی جے پی چاہے کتنی ہی کوشش کرے، وہ دھاندلی، بدعنوانی اور تعلیمی مافیا کو فروغ دینے کی اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔