نینو ٹیکنالوجی کا کردار

 سرینگر //زرعی یونیورسٹی کشمیر میں زراعت میں نینو ٹکنالوجی کے کردار سے متعلق 10 روزہ تربیت شروع ہوئی۔یونیورسٹی کے طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے زراعت میں نینو ٹیکنالوجی کے کردارکے موضوع پر ایک 10 روزہ تربیتی پروگرام شیر کشمیر یونیورسٹی برائے زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کشمیر میں شروع ہوا ۔اس تربیتی پروگرام کا انعقاد یونیورسٹی کے ڈویژن آف پلانٹ پیتھالوجی ، فیکلٹی آف ہارٹیکلچرنے انجام دیا تھا۔ تربیت میں ملک بھر کی 23 زرعی یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کے 250 طلباء اور سکالر شریک ہوئے ۔جبکہ 20 سے زائد نانو ٹیکنالوجی ماہرین ، جن میں پانچ نامور بین الاقوامی ماہرین بھی شامل تھے ،نے لیکچردئے ۔ڈائریکٹر ایجوکیشن اور ڈین فیکلٹی آف فشریز پروفیسر ایم ایچ بلخی جو افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے ،نے نینو ٹیکنالوجی کی تربیت کے انعقاد کرنے والوں کی تعریف کی جو موجودہ دور میں انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے کسانوں کو پریشان کن کیڑے مار ادویات کے استعمال کو کم کرنے میں مدد ملنی چاہئے کیونکہ کیمیائی کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال نے انسانی صحت کو نقصان پہنچایا ہے اور ماحولیات پر بھی اس کا اثر پڑا ہے ۔ڈائریکٹر پلاننگ اور پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے کہا کہ اس طرح کی مہارت کی تربیت مستقبل کے لئے یونیورسٹی کے طلباء کی تشکیل کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کا پہلا زور سرکاری شعبے میں ملازمت پر تھا لیکن وہ ملازمتیں اب کم ہوگئی ہیں۔ہیڈ ڈویژن آف پلانٹ پیتھالوجی پروفیسر نثار احمد خان نے جدید زراعت میں نینو ٹیکنالوجی کے کردار کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ پروفیسر طارق احمد شاہ نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں 10 روزہ پروگرام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ڈاکٹر طارق اے صوفی نے شکریہ ادا کیا۔افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر ایم ڈی شاہ ، ڈاکٹر مشتاق اے بٹ ، ڈاکٹر آفاق ، ڈاکٹر شبیر احمد کے علاوہ متعدد فیکلٹی ممبران اور طلباء نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔