نیل کے لوگوں کاجذبۂ انسان دوستی

                   
 بانہال // جمعہ سے اتوار تک رامسو کے مقام بھاری پسی کی وجہ سے بند رہنے کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت ٹھپ رہی تھی اور اس دوران اتوار کی دوپہر غیر ریاستی موٹر سائیکل سوار سیاحوں کے ایک بڑے گروپ نے چملواس سے نیل اور نیل سے ہی وگن تک زیر تعمیر رابطہ سڑک کے ذریعے سفر کرکے اپنی منزلوں کا رخ کیا اور اس کامیاب سفر کو مکمل کرنے کیلئے نیل کے مقامی لوگوں نے موٹر سائیکل سواروں کو اْن کے موٹر سائیکل دشوار گذار اور ناہموار پہاڑی سلسلے سے نکالنے میں مدد کی اور انہیں اْن کی موٹر سائیکلوں سمیت نیل۔ ہی وگن سڑک کے نامکمل اور دشوار گذار حصے کو پیدل پار کرنے میں مدد کرکے انسانیت اور بھائی چارے کی ایک بڑی مشال قائم کی ہے۔  ہی وگن ( مکرکوٹ) سے نیل کو جوڑنے کیلئے اِس رابطہ سڑک کی تعمیر پی ایم جی ایس وائی پچھلے سات۔آٹھ سالوں سے کر رہی ہے لیکن اس رابطہ سڑک کے ایک حصے کی ابھی تک کھدائی ہی نہیں کی گئی ہے جو اس رابطہ سڑک کو شاہراہ کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے میں آڑے آرہی ہے۔ دو روز تک شاہراہ کے بند ہونے کے دوران اتوار کے روز نیل۔ مکرکوٹ سڑک سے آگے بڑھنے کی کوشش کے دوران دو درجن کے قریب بیرون ریاستی موٹرسائیکل سوار سیاحوں کو نیل کے مقامی لوگوں نے ہاتھ بٹایا اور موٹر سائیکلوں کوکھدائی نہ کی گئی سڑک کے آدھے کلومیٹر کے حصے کو پار کرنے میں اپنی جان جوکھم میں ڈال کرجو مدد کی وہ اپنی مشال آپ ہے اور اس مدد کے دوران ایک غیر ریاستی موٹر سائیکل سوار سمیت کئی مقامی مدد گار نوجوانوں کو چوٹیں آئیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نیل کے مقامی لوگ پچھلے کئی سالوں سے اس سڑک کی تعمیر کو مکمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یہ سڑک نہ صرف علاقہ نیل کیلئے بلکہ شاہراہ پر مکرکوٹ اور بانہال کے درمیان درماندہ ہونے والے مسافروں کیلئے بھی یہ سڑک متبادل شاہراہ کے طوربھی مسافروں کو راحت پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر مکرکوٹ سے ہی وگن کے راستے نیل اور بانہال کو جوڑنے والی یہ سڑک پی ایم جی ایس وائی کے حکام کی عدم توجہی کا شکار ہے اور آدھ کلومیٹر کا حصہ جس کی کھدائی میں مشین کی مدد سے زیادہ سے زیادہ ایک دن کا وقت لگ سکتا ہے کو یوں ہی لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے جو اس سڑک کو متبادل شاہراہ کے طور پر استمال کرنے میں آڑے آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر میں سرکار کی عدم توجہی اور لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو کئی کئی روز تک درماندہ رہنا پڑتا ہے اور اس کی کھدائی مکمل کرکے چھوٹی مسافر بردار گاڑیاں اس سڑک کے ذریعے مکرکوٹ براہ راست نیل سے سیدھے بانہال پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے اس اہم سڑک کی مکمل تعمیر کیلئے حکام کی فوری توجہ مبذول کرآئی ہے۔ پنچاب کے گرداس پور سے تعلق رکھنے والے ایک موٹرسائیل سوار نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہفتے کو بانہال میں دو روز تک درماندہ رہے اور اس دوران انہیں کسی نے بتایا کہ چملواس نیل رابطہ سڑک کے ذریعے آپ رامسو کی پسی کو بائی پاس کرکے اپنی اپنی منزلوں کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بانہال سے چار ۔پانچ کلومیٹر دور چملواس کے مقام نیل رابطہ سڑک پر اپنا سفر شروع کیا لیکن پچیس کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد نیل باٹو سے نیچے پہنچنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور سڑک کے ایک بڑے حصے کی ابھی تک کھدائی ہی نہیں کی گئی ہے اور سامنے پہاڑ ، پتھر اور دیواریں منہ کھولے کھڑی ہیں اور آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ  وہ مایوس ہوکر واپس جانے کا فیصلہ کر رہی رہے تھے کہ اتنے میں نیل اور اس کے گر دوپیش کے کشمیری مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہماری مدد کو سڑک پر پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیل کے مقامی لوگوں نے تمام غیر ریاستی موٹر سائیکل سواروں کو پہلے چائے پلائی اور بعد میں انہوں نے ہماری موٹر سائیکلوں کو پہاڑ ،پتھر اور دیواریں پھلانگ پھلانگ کر آگے بڑھایا اور کئی گھنٹوں کی سخت اور دشوار گزار محنت کے بعد نیل کے لوگوں کی مدد سے ہماری موٹر سائیکلیں بنا کھدائی کے حصے سے نکلا کر دوسری طرف سڑک پر پہنچائی جا چکی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران بنگلور کے ایک سیاح کی بْلٹ موٹر سائیکل کو اس غیر ہموار اور پہاڑی علاقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کے دوران اْس کی موٹرسائیکل پھسل گئی اور غیر ریاستی موٹر سائیکل سوار سمیت کئی مقامی افراد اس کا وزن براشت نہ کرسکے اور نیچے گر گئے جس کی وجہ سے انہیں چوٹیں آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم اس انجان علاقے میں پہنچ کر سہم گئے تھے کیونکہ پچیس کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد آگے سڑک کا نام و نشان ہی نہیں تھا اور اتنے میں وادی نیل کے مقامی کشمیری لوگ سامنے آئے اور انہوں نے تمام غیر ریاستی موٹر سائیکل بردار مسافروں کی مدد کرنا شروع کی اور یہ سلسلہ کم از کم چار گنٹھوں تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ٹیلویژن اور فرقہ پرستوں نے ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں کی شبیہ ہندوستانی عوام کے سامنے خراب کر رکھی ہے لیکن کشمیرمیں لوگوں کی انسان دوستی کے قائل ہونے کے بعد نیل بانہال کے لوگوں نے غیر ریاستی موٹر سائیکل سواروں کی جو مدد کی ہے وہ انسانیت اور بھائی چارے کی قابل تعریف مشال ہے اور اْن لوگوں کے منہ پر زسور دار طمانچہ ہے جو کشمیری عوام کے بارے میں لوگوں میں بلا وجہ کی تفرت پھیلانے کا کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام غیر ریاستی سوار نیل کے لوگوں کی انسانیت کو مرتے دم تک کبھی فراموش نہیں کرینگے اور اس کیلئے ہم اْن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک کے مکمل کرنے سے لوگ شاہراہ کے بند رہنے کی صورت میں اسے متبادل شاہراہ کے طور استعمال کر سکتے ہیں اور درماندہ مسافروں کو راحت مل سکتی ہے۔ نیل کے مقامی لوگوں کی مدد سے اس پْر خطر راستے سے نکالنے کے بعد یہ موٹر سائیکل سوار رامسو کی پسی کو بائی پاس کرکے اتوار کی دو بجے کے قریب مکرکوٹ پہنچ کر آگے بڑھے اور اْن کے نکل جانے کے چار گھنٹے کے بعد رامسو کی پسی کو ٹریفک کی نقل وحمل کیلئے دو دن بعد بحال کیا گیا۔