نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کا پیمانہ صبر لبریز

سرینگر/نیشنل ہیلتھ مشن  ملازمین نے اپنی احتجاجی ہڑتال میںمزید 72گھنٹوں کا اضافہ کرکے اسے منگل تک بڑھادیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدرشاہین نواز نے احتجاجی ہڑتال کو منگل تک بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ’’ حکومت ابھی ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اور نہ کسی سرکاری آفیسر نے کوئی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی  ہے جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت ہمیں نظر انداز کررہی ہے‘‘۔شاہین نے بتایا ’’ اگر منگل تک  انکے مطالبات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی ہے تو آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی‘‘۔ملازمین کا کہنا ہے کہ مرحوم وزیر اعلی مفتی محمد سعید نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ انکی نوکری باقاعدہ بنائی جائے گی ۔ انکے انتقال کے بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کسی بھی صورت میں اپنے والد کے خواب کو پورا کرنے کی بات کر کے این ایچ ایم ملازمین میں ایک نئی اُمید جگائی تھی تاہم اب وہ اپنے والد کے وعدے کو پورا کرنے سے انکاری ہیں۔دریں اثناء مشن کے تحت کام کرنے  والے ملازمین کی ہڑتال سے شمال و جنوب کے تمام طبی مراکز میں مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کئی اسپتالوں سے علاج و معالجے ، تشخیصی ٹیسٹوں اور جراحیوں کے بغیر ہی مریضوں کو اسپتالوں سے واپس لوٹنا پڑ رہا ہے۔ 13ہزار ملازمین کی ہڑتال سے ضلع اسپتالوں ، سب ضلع اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں کا کام کاج کافی حد تک متاثر ہوا ہے۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ ، بارہمولہ ، اور بانڈی ، پٹن کے کئی اسپتالوں میں طبی ، نیم طبی عملے کی ہڑتال سے لوگوں کو اسپتالوں سے بغیر علاج و معالجے ، تشخیصی ٹیسٹوں اور جراحیوں کے واپس لوٹنا پڑا ہے۔ ضلع اسپتال کپوارہ ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور دیگر سب ضلع اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں ہڑتال کی وجہ سے کل تیسرے روز بھی مریضوں کا نہ علاج و معالجہ ہوسکا اور نہ ہی تشخیصی ٹیسٹ انجام دئے گئے ۔