نیشنل کانفرنس ضلع سرینگر کا اجلاس

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے بیگم عبداللہ کی 21ویں برسی اور 13جولائی کے پروگراموں کو آخری شکل دینے کے سلسلے میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا ۔موصولہ بیان کے مطابق اجلاس میںشرکاء نے لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات اُجاگر کئے اور نوجوانوں میں سرائیت کر گئی مایوسی اور نااُمیدی پر تشویش کا اظہار کیا ۔اجلاس میں حکومت پر زور دیا گیاکہ جموں و کشمیر میں عوام کُش پالیسیوں کو ترک کرکے ایک جامع منصوبہ مرتب کیا جائے جس سے لوگوں خصوصاً نوجوانوں میں اعتماد بحال کیا جاسکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شمیمہ فردوس نے بیگم عبداللہ کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں کشمیرمیں تعلیم نسواں کو فروغ دینے میں تاریخی رول ادا کیا ہے ۔اس دوران عرفان احمد شاہ اور پیر آفاق نے13جولائی 1931کویادکرتے ہوئے کہا کہ اُسی دن کی بدولت جموں کشمیر کے لوگوں کو عزت نفس اور اونچا مقام حاصل ہوااور ریاست میں جمہوریت کی بنیاد اور عوامی حکومت قائم ہوئی۔ اس موقع پر ان دو تقریبات کے بارے میں پارٹی نے پروگراموں کو ترتیب دیا۔ پروگرام کے مطابق 11جولائی کو بیگم عبداللہ کے مقبرہ واقع نسیم باغ میںصبح سویرے قرآن خوانی کی مجلس آراستہ ہوگی جبکہ اجتماعی فاتحہ خوانی میں پارٹی قیادت اورسینئر لیڈران کے علاوہ کارکنان بھی شرکت کریں گے۔ اسی طرح 13جولائی کو بھی مزارِ شہداء واقع خواجہ بازارمیںگلبای اور فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ اجلاس میںکارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ دونوں تقاریب میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔اس دوران پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سابق صدر ضلع اننت ناگ ایڈوکیٹ غلام نبی ڈار کو16ویں برسی پر خراج عقیدت ادا کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے کشمیری عوام کے جذبات اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے اپنی جان قربان کردی۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ،جنرل سکریٹری علی محمد ساگراوردیگر لیڈران نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔