نیشنل کانفرنس ریاستی مفادات کی ضامن: ساگر

کپوارہ//نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ سابق پی ڈی پی۔ بھاجپا مخلوط حکومت نے لوگوں کے منڈیٹ سے دھوکہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ4برسوں سے ریاست میں افراتفری کا ماحول بنا ہوا ہے۔ کپوارہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ساگر نے کہاکہ نیشنل کا نفرنس ریاستی مفادات کی ضامن ہے ۔ساگر نے کہاکہ نیشنل کانفرنس مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کی متمنی ہے اور مرکزی سرکار کو فوری طور پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چایئے ۔ ساگر نے واشگاف اعلان کیا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات ریاست کے مستقبل کے حوالہ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ دفعہ 370اور35Aکے دفاع کے ساتھ ساتھ خصوصی مراعات کی بحالی کے لئے اسی صورت میں جد و جہد کی جاسکتی ہے جب نیشنل کانفرنس مضبوط ہوگی ۔انہو ں نے کہا کہ ’پارلیمانی الیکشن کے دوران یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہم پہلے امتحان میں پوری طر ح کامیاب ہو گئے ہیں اور ہمارے سامنے اسمبلی الیکشن دوسرا امتحان ہے جس میں پارٹی کاکنان اپنی محنت سے اور عوامی اشتراک ضروری ہے‘ ۔ ساگر نے کارکنو ں سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ کشمیر کوبچانے کے لئے پارٹی کو ہر سطح پر مضبوط کریں تاکہ آئندہ اسمبلی الیکشن کے دوران پارٹی واضح اکثریت سے کامیاب ہو ۔پارٹی کے نائب صدر چودھری محمد رمضان اور ناصر اسلم وانی نے حریت کا نفرنس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے کہا کہ وہ ریاست کے ناراض گروپوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کریں تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی راہ نکل آئے ۔انہو ںنے کہا کہ جماعت اسلا می پر عائد پابندی کو فوری طور ہٹایاجائے اورجیلو ں میں بند پڑے کشمیری نوجوانو ں کورہا کیا جائے ۔میر سیف اللہ ، قیصر جمشید لون ،محمد رفیق شاہ ،سلام الدین بجاڑ ،نذیر گریزی ،شمیمہ فردوس ،ایڈوکیٹ نیلو فر ،ڈاکٹر سجاد ،عبد ارحیم وانی ،ولی محمد میر نے بھی خطاب کیا ۔