نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کا ورچیول اجلاس

سرینگر// جموں وکشمیر میں اس وقت افسر شاہی کا ایسا نظام مسلط کیا گیا ہے جو یہاں کے جغرافیائی حالات، زبان، تمدن، زمینی صورتحال ، عوامی مزاج اورلوگوں کے احساسات و جذبات سے مکمل طور پر نابلد ہے۔یہاں اس وقت ایسے افسران مسلط کئے گئے ہیں جو لوگوں کو اپنی آراء ظاہر کرنے پر جیل بھجوا دیتے ہیں۔ایک بیان کے مطابق ان باتوں کااظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے پارٹی کی زنانہ ونگ کے ورچول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔گاندبل کی مثال پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہاں ڈپٹی کمشنر صاحبہ نے صرف یہ کہنے پر ایک شہری کو سلاخوں کے پیچھے بھجوا دیا کہ اُس کو غیر مقامی افسران سے کوئی اُمید نہیں ۔بجائے اس کے کہ ڈپٹی کمشنر مذکورہ شہری کو اس بات کی یقین دہانی کراتی کہ وہ اُس کا مسئلہ حل کرے گی ،انہوں نے اُس کیخلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہاں کسی کو سیدھی بات کرنی کی اجازت نہیں، مخالفت یا نکتہ چینی کرنا تو دور کی بات ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی 5اگست 2019کے فیصلوں کومنظور نہیں کیا ہے اور نہ مستقبل میں کبھی کرے گی۔ ہم ان فیصلوں کیخلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن ہمارا طریقہ کار قانونی اور پُرامن ہوگا اور ہم اس کیلئے تشدد یا غیر قانونی طریقہ اختیار نہیں کریں گے۔ کورونا وائرس کیخلاف جاری جنگ میں ہر کسی کو اپنا رول نبھانے کی ترغیب دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ ہم سب کی انفرادی کوششوں سے ہی اس وباء کو جڑ سے اُکھاڑا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین اس جنگ کا کلیدی ہتھیار ہے لیکن افسوس اس بات ہے کہ ویکسین کے بارے میں لوگوں خصوصاً خواتین میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جارہی ہیں۔ ان غلط فہمیوں اور غلط افواہوں کا توڑ کرنے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور خواتین ونگ بھی اس میں اپنا رول نبھا سکتی ہیں۔ انہوں نے خواتین ونگ سے وابستہ لیڈران، عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں خواتین کو کووڈ مخالف ٹیکہ لینے کیلئے قائل کریں اور غلط فہمیوں کو دور کریں۔  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شمیمہ فردوس نے خواتین ونگ کی سرگرمیوں اور پروگراموں کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں جن دیگر لیڈران نے ویوڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی اُن میں صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد، یوتھ صدر سلمان علی ساگر، ترجمان عمران نبی ڈار، سید توقیر احمد اور احسان پردیشی بھی شامل ہیں۔