نیشنل کانفرنس جموں کشمیر کی تباہی و بربادی کیلئے ذمہ دار :آزاد کہا کمزور لیڈر شپ، غلط بیانی و غلطیوں کی وجہ سے کانگریس کا وجود ختم ہو رہا ہے

اشتیاق ملک

ڈوڈہ //نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کی تباہی و بربادی کے لئے ذمہ دار ہے۔ ان جماعتوں نے 1947 سے لے کر اب تک کبھی سیلف رول، کبھی اٹانومی تو کبھی آزادی کا نعرہ دے کر ستر سال تک غریب عوام کا استحصال کیا اور نسل در نسل اقتدار پر قابض رہے، میرا ایجنڈا بے کاری، بے روزگاری و مہنگائی کا خاتمہ و پسماندہ علاقوں کی تعمیر، ترقی و خوشحالی لانا ہے۔ ان باتوں کا اظہار سابق وزیر اعلیٰ و چیئرمین ڈیموکریٹک پراگریسیو آزاد پارٹی غلام نبی آزاد نے خطہ چناب کے دورے کے دوسرے روز کاہرہ و چنگا بھلیسہ میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو حال ہمارے ہمسائے ملک کا ہے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، جمہوریت کا نام و نشاں تک نہیں ہے، جیتتا کوئی اور ہے اور حکومت کوئی بناتا ہے یہی حال ان نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کا بنایا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی نے سیلف رول، اٹانومی و آزادی کے نعرے دے کر 75 سال تک راج کیا اور اقتدار کے بعد عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو بھول گئے۔انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے دوران ہزاروں نوجوان مارے گئے جس کے لئے یہ جماعتیں برابر ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا میں نے کبھی بھی چوری نہیں کی ہے اور نہ ہی میرے پریوار کو کو میرے اقتدار میں رہنے سے فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ وہ میرے سیاست سے آنے سے پہلے دس گناہ امیر تھے اور میرے اقتدار کے دوران دس گناہ خسارے میں رہے جبکہ ان جماعتوں نے اپنے کنبہ و پریوار کو بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس پر بھاجپا کی اے ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1998 سے لے کر آج تک وہ بھاجپا کی اتحادی رہی ہے اور عمر عبد اللہ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ہی بھاجپا کے ساتھ بطور مرکزی وزیر مملکت کے طور پر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں میں کانگریس و نیشنل کانفرنس کا اتحادی امیدوار تھا لیکن اسوقت فاروق عبداللہ و عمر عبد اللہ ایک بار بھی میرے لیے ووٹ مانگنے نہیں آئے کیوں کہ وہ اسوقت بھی بھاجپا کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کانگریس، نیشنل کانفرنس خطہ چناب کے ووٹ تقسیم کر کے بی جے پی کو فائدہ پہنچارہی ہے۔ آزاد نے کہا کہ جو کام دوران وزیر اعلیٰ میں نے شروع کئے ان میں بیشتر ترقیاتی منصوبے آج بھی نامکمل ہیں اور اس کے لئے عمر عبداللہ کی حکومت و موجودہ سرکار برابر کی ذمہ دار ہے جنہوں نے پچھلے پندرہ برسوں سے ان پروجیکٹوں کو آگے نہیں بڑھایا۔آزاد نے کہا کہ خطہ چناب کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے میں نے سڑکوں، پلوں، کالجوں، ہسپتالوں، اسکولوں، آنگن واڑی مراکز، آشا ورکرز کی تقرری و گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ جیسے ادارے قائم کئے جبکہ بھدرواہ یونیورسٹی کیمپس و سیاحتی شعبے کو فروغ دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن ان جماعتوں نے اس خطہ کو شروع سے لے کر اب تک استحصال کیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل نے 1947 سے ہی ریاست جموں کشمیر کی عوام کا استحصال کیا اور زیادہ تر باپ بیٹوں نے کرسی حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو گمراہ کیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے آزادی، خودمختاری، اٹانومی و سیلف رول کا نعرہ دے کر ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا جہاں سے ملی ٹینسی نے جنم لیا جس کی وجہ سے ایک غریب گھرانوں کے ایک لاکھ سے زائد نوجوان مارے گئے، ہزاروں عورتیں بیواہ و سینکڑوں بچے یتیم ہو گئے۔آزاد نے کہا کہ اس دوران یہ باپ بیٹے لدن و برطانیہ چلے گئے اور چھ برس بعد آتے ہی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے باپ وزیر اعلیٰ و بیٹا مرکز میں بی جے پی سرکار کا وزیر بنا۔ آزاد نے کہا کہ مجھ پر 26 بار دہشت گردانہ حملے ہوئے میرے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہماری جماعت کو بی جے پی کی اے ٹیم کہہ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ(نیشنل کانفرنس) 1998 سے اب تک بی جے پی کی اے ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے لئے مجھے نشانہ بنانا آسان ہے لیکن بی جے پی کے خلاف کبھی نہیں بولتے ہیں کیونکہ ای ڈی کا ڈر ہے اور ان کا امیدوار بھی ای ڈی کی ضمانت پر ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی چوریاں چھپانے کیلئے یہ بھاجپا کے خلاف نہیں جارہے ہیں لیکن میں نے کوئی چوری و کبھی بھی ظلم و ناانصافی کا ساتھ نہیں دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا ایجنڈا صرف بے کاری، بے روزگاری و مہنگائی ہٹانا و شہر و گام میں ترقی، امن و خوشحالی لانا ہے. کانگریس کی مرکزی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آزاد نے کہا کہ کمزور لیڈر شپ، لیڈروں کی غلط بیانی و کوتاہیوں کی وجہ سے ملک بھر سے کانگریس کا وجود ختم ہورہا ہے اور بی جے پی دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا اکثریتی طبقہ کانگریس سے لیڈرشپ تبدیل کرنے کی مانگ کررہا ہے تاکہ بھاجپا کو ہٹایا جاسکے لیکن موجودہ قیادت اسطرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے جس کا خمیازہ انہیں ہر انتخابات میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔لال سنگھ پر تبصرہ کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ کٹھوعہ رسانہ میں معصوم بچی کے ساتھ ہوئی زیادتی کے دوران راہول گاندھی و عمر عبد اللہ چوہدری لال سنگھ کی گرفتاری و اس کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کررہے تھے لیکن آج یہی لوگ اس کے لئے لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں اور انہیں شرم بھی محسوس نہیں ہوتی ہے۔آزاد نے لوگوں سے ان جماعتوں سے ہوشیار رہے کر اپنے ووٹ کا استعمال ترقی، خوشحالی و امن و اماں کی فضا قائم کرنے و ڈی پی اے پی امیدوار غلام محمد سروڑی کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔