نیا سفر ہے،نئی منزلیں بُلاتی ہیں!

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ انسانی زندگی نقل وحرکت، سعی وعمل سے ہی عبارت ہے، ورنہ اسے فالج زدہ یا نیم مردہ اجسام کہا جائے گا۔ اگر انسان کی بناوٹ و ساخت پر غور کریں اور اس کی صلاحیتوں و طاقتوں اور جرأت و برداشت، لیاقت واستعداد کا اندازہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تخلیق انسان کا مقصد اور ان کی زندگی، حرکت عمل کے بغیر ناممکن ہے۔ جناب اسلم طار ق بھٹی صاحب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ ہاتھ اور ان کی قوت گرفت، یہ پائوں اور ان کی قوت خرام، یہ آنکھیں اوران کی قوت بصارت، یہ کان اور ان کی قوت سماعت یہ زبان اورا س کی قوت گویائی وبیان، یہ دل اور اس کی قوت احساس، یہ دماغ اور اس کی صلاحیت فکر وخیال اور قوت عقل و تدبیر وغیرہ ساری کی ساری چیزیں بتا رہی ہیں کہ انسانی زندگی سعی و عمل اور نقل و حرکت ہی سے عبارت ہے، آیت شریفہ ’’لیس الانسان الا ما سعیٰ‘‘ میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اگر انسان کی داخلی حیثیت کی طرف سے صرف نظر کرکے اس کے خارجی ماحول کو دیکھا جائے تو بھی ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اجرام فلکی کی گردش، صبح و شام کا ظہور، برق و باراں کے ہنگامے، ہوائوں کی تعریف اور بحر ذخار کا تلاطم غرض کہ کائنات کی ایک ایک شئے کی جنبش و حرکت زبان و حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ زندگی حرکت و عمل کا دوسرا نام ہے۔ (اقتباس) علامہ اقبالؒ حرکت عمل کو زندگی قرار دیتے ہیں:
کیوں تعجب ہے مری صحرا نَوردی پر تجھے
یہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیل
علامہؒ کی نگاہ میں صحر نوردی مسلسل حرکت کا استعارہ ہے، جو اس حقیقت کو روشن کرتی ہے کہ قدرت کے کارخانے میں سکون محال ہے اور انسان کیلئے حرکت وعمل کے بغیر زندگی حقیقی زیست نہیں کہلاتی۔آج ہمارے سامنے جو حالات آرہے ہیں یہ وہی حرکت وعمل کے انجماد اور غیر متحرک ہوجانے کا نتیجہ ہے، شعور والی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اب ساری دنیا میں ہر نیا د ن نئی آزمائش اور ظلم وستم کی خبر کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔
دوسری جانب ملت کی جو صورتحال ہے اور ان کے اندر بے عملی و کوتاہی جو پنپ گئی ہے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم اپنے مالک سے بے وفائی کررہے ہیں، ہماری زندگیوں میں نفاق کی کیفیت پائی جارہی ہے، تھوڑے سے مفاد دنیا کیلئے، دین پر کنارہ کنارہ چلنا ہنر سمجھا، اپنے مفاد کو ملت کے مفاد پر ترجیح دینے لگے، اللہ تعالیٰ کی محبت میں کمی، مال و دولت پر فریفتہ ودلدادہ ہوئے، کیا ہم اپنے آپ کو بدلے بغیر حالات کے بدلنے اور اس میں تبدیلی کی امید کرسکتے ہیں؟ آج وہ کونسا کام ہم نہیں کررہے ہیں جو ایک دنیا پرست دین بیزار ومنکر آخرت شخص کیا کرتا ہے۔ آج ملت اسلامیہ ہند کی حالت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ بے عمل اور سہل پسند ہوچکی ہے، قرون اولیٰ میں شاہینیت پائی جاتی تھی اب آسمان ان شاہینوں سے خالی نظرآتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد و توکل میں کمی نے ہمارے اندر بے یار و مددگار ہونے کا احساس پیدا کردیا، عقیدہ وعمل میں کجی نے ملت کے اندر باطل سے مرعوبیت پیدا کرچکی، ایمان میں توحید، اعمال میں سنت نبویؐ نے سابقون الاولون میں جو جذبہ وحوصلہ اور قربانی پیش کرنے کی جو اسپرٹ پیدا کرچکی تھی شاید ہم لوگ اسے گنواں چکے۔
آج باطل ہر طرف غرا رہا ہے، گھمنڈ و تکبر کرتے دکھائی دے رہا ہے، تنک مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اعلانیہ طور پر دن کے اجالے اور قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں مسلمانان ہند کے بارے میں نفرت پھیلائی گئی اور صاف ذہن ہندو برادری کو مشتعل کرنے کیلئے ہندوستان کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا گیا، اس طرح ملک عزیز ہندوستان کی ہر ریاست میں ظلم کی چکی تیزگام ہوچکی ہے جس میں مسلمان ہی زیادہ پسے جارہے ہیں، یوں تو آزادی ہند کے بعد سے ہی مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی اور اس کے لیے نصف صدی سے زمین ہموار کی جاتی رہی، لیکن مسلمانوں کے خلاف جو کام پچھلے60 برسوں میں نہیں ہوا جتنا کہ حالیہ گزرے ہوئے 15برسوں میں ہوا۔ ملک میں جمہوریت مخالف طاقتیں اس ملک کی ہمہ رنگی تہذیب و تمدن کی جگہ ایک خاص طریقہ زندگی کو مروج کرنا چاہتی ہیں، لہٰذا اب مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور ان کے بنیادی عقائد اور عبادات پر بھی خطرات کے کالے بادل منڈلا رہے ہیں اور ہر طرف شمال سے جنوب تک چھا چکے ہیں، اور روزانہ یہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں برس پڑتے ہیں، نتیجتاً اس ملک کی ایک بڑی اقلیت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔آج ہمارے ملک میں منافرت، فرقہ پرستی و تعصب اور مذہبی طرف داری کا مرض عام ہوگیا ،جس کی زدمیں ملت اسلامیہ جکڑی جارہی ہے۔ اس مہلک مرض سے نکلنے کیلئے ہر آدمی اپنے اپنے طبع ذات طریقہ اپنا رہا ہے اور ہر طریقہ ونسخہ لاعلاج ثابت ہورہا ہے۔ اب جو صورتحال پیدا ہوگئی ہے وہ یہ کہ مسلمان کا مذہبی تشخص اور ان کے شخصی مذہبی قوانین پر حملے ہورہے ہیں۔ قرآن اور پیغمبر اسلام ؐ کے متعلق نازیبا و ناشائستہ بیانات دئیے جاتےہیں، ایک خاص مذہبی اسٹیج سے مذہبی رہنمائوں نے مسلمانوں کے قتل عام پر کی بھی باتیں کی گئیں، مسلم خواتین کے تعلق سے ناقابل بیان گندی وبے حیا باتوں کا پرچار کیا گیا۔ اب مسلم خواتین کے حجاب پر پابندی کی بات کی جارہی ہے۔ اگرچہ ان ساری باتوں پر امت کو سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لینا چاہئے تھا، لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امت کا ایک بڑا طبقہ بے حسی وبے عملی کا شکار ہوچکا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت اسلامیہ غلط روی، بے راہ روی اور جملہ غلط کاریوں سے مکمل اجتناب کریں اور جب تک ملت کے ایک ایک فرد کے اندر صالح ارتقائی کیفیت پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک ایک انقلابی و مثالی معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔ موجودہ حالات میں تبدیلی و حصول امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کی منزل تک پہنچنے کیلئے ملت اسلامیہ ہند کو اپنے اندر سے کج اعتقادی و عملی گمراہی سے انفرادی و اجتماعی ہر طور پر باہر آنا ہوگا، اگر ہم موجودہ ڈگر پر چلتے رہیں گے تو منزل مقصود کو پانا محال ہوجائے گا، نتیجتاً دنیا کی ذلت وآخرت کی رسوائی مقدر بن جائے گی۔ اب ہمارے سامنے ایک نئی اور کٹھن منزل ہے، اسے پار کرنے کیلئے ہمیں ازسر نو غور کرنا ہوگا، بحیثیت مسلم و مومن اپنے حقیقی منصب ونصب العین پر پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ گامزن ہونا ہوگا، اپنی عبادات، اپنے اخلاق، اپنی معاشی ڈگر، اپنی معاشرت اور حقوق اللہ و حقوق العباد کے سارے معاملات کا انفرادی و اجتماعی جائزہ لینا ہوگا، تب جاکر اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی، اگر ہمارا کارواں بے راہ روی وبے ڈھنگے طریقہ پر چلتا رہا تو ہماری منزل ہم سے بہت دور ہوجائے گی۔ اسی فکر کو ذہن میں رکھ کر شاعر نے کہا ہے کہ ’’غلط روی سے منازل کے بعد بڑھتے ہیں‘‘ ملک میں نئے نئے مسائل جو پیدا ہو رہے ہیں، امت کو جن مشکلات کا سامنا درپیش ہے، اُس پر قابو پانے کیلئے میدان عمل میں آنا ہوگا۔ متحرک قیادت کو پروان چڑھانا ہوگا، جو کسی بھی مسلک سے اوپر اٹھ کر مسلمانوں کو ملت واحدہ بناکر ان میں اتحاد و اتفاق پیدا کرے اور ان کے حقیقی نصب العین کی طرف رہنمائی کرے۔ ان ہی حالات کے پیش نظر شاعر نے کہا ہے۔ 
نیا سفر ہے نئی منزلیں بلاتی ہیں
مسافرو روش کارواں بدل ڈالو
(سینئر کالم نگارو آزاد صحافی۔ فون نمبر9849099228)