نہ سنبھلو گے تو مِٹ جائوگے!

شفیق آئمی
ہندوستان میں تیس کروڑ مسلمان ہیں۔دس دن میں ایک بار صرف ایک روپے عطیہ کریں تو مہینے کےنوے کروڑ جمع ہوں گے۔ ایک ریاست میں ایک مہینے کے عطیہ سے تیس اسکول بن سکتے ہیں۔ایک سال کے عطیہ سے پورے ہندوستان میں مسلم لڑکیوں کے لیے تین سو ساٹھ اسکول بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر صرف ایک سال کی زکوٰۃ، سبسڈی، قربانی کی کھال جمع ہو جائے تو حیرت انگیز طور پر کارخانے، کمپنیاں، اسپتال کھول کر مسلمان اپنی بے روزگاری ختم کر سکتے ہیں۔ لاٹھیاں کھانے اور دوسروں کے طعنے سننے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اگر اسکول کالج ہسپتال کو کاروبار کے طور پر بھی کھولا جائے جو کہ عام طور سے ہوتا ہے، تب بھی کافی مالی فائدہ ہو گا۔ ہمارے مسلمان اُستاد بھی کسی سے کم نہیں ہیں،مسلم ڈاکٹروں اورانجینئروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان تاجر ہیں جو کاروباری حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔ ہر قسم کی مہارت رکھنے والے کاریگر مسلمان ہیں۔ دو تین سال اسی طرح پلاننگ کے ساتھ کام کریں گے تو نہ ہماری بیٹیوں کے نقاب اُتریں گے اور نہ ہی بھکاریوں کی طرح نوکری مانگنے کی ضرورت پڑے گی۔ لیکن یہ کام اور ایسی سوچ زندہ قوموں کی ہوتی ہے،کفرٹ زون کا شکار قومیں نہیں کرتیں۔زندہ قومیں معصوم زندگیوں پر قائم زندگی کو موقع دیتی ہیں،اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے متحد ہونا پڑے گا۔جھوٹے معبودوں کو ماننے والے متحد رہتے ہیں واحد سچے معبود کو ماننے والے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں،پتہ نہیں ہمیں کب عقل آئے گی؟کب ہماری آنکھوں پر مسلک کا پڑا پردہ ہٹے گا؟کب ہم ایک اُمت ہو کر تمام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا سوچیں گے؟کب تک ہمارے اندر تخریبی ذہنیت اور مسلکی عصبیت موجزن رہے گی؟کب ہم متحد ہو کر اسلام کی سربلندی کی کوشش کریں گے؟آج اُمت کا نوے 90٪ حصہ کفرٹ زون میں چلا گیا ہے۔زیادہ تر مسلمان کی یہی تمنا ہے کہ ایک اچھا سا گھر ہو، ایک چھوٹا موٹا کاروبار ہو، خوشحال گھرانہ ہو اور ایک مسلک کے مطابق زندگی سکون سے گزر جائے۔ہم سب مسلمان کفرٹ زون کا شکار ہوگئے ہیں اور اسلام کے لئے ہمارے تمام جذبے سرد ہوگئے ہیں۔ ہمارے جذبے ہمارے مسلک تک محدود ہوگئے ہیں اور ہمارا مسلک ہمارے لئے کفرٹ زون بن گیا ہے۔ہم اپنے مسلک، اپنے گھر اپنے کاروبار اور اپنے اہل و عیال تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔کب ہم کفرٹ زون سے باہر آئیں گے؟کب ہم محدود سوچ سے باہر آئیں گے؟ مسلمانو! ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔صرف اپنی ذات کے لئے سوچنا چھوڑ دو،صرف اپنے گھر اور اہل و عیال کے لئے سوچنا چھوڑ دو،صرف اپنے کاروبار اور منافع کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو،صرف اپنے مسلک کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو۔اُمت کی اجتماعی بھلائی کے لئے متحد ہوجاؤ،اسلام کی سربلندی کے لئے متحد ہوجاؤ،امت کی بیٹیوں کی عصمت کے لئے متحد ہوجاؤ،اللہ کے حکم کو پورا کرنے کے لئے متحد ہوجاؤ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لئے متحد ہوجاؤ۔ایک دوسرے کو مارنے کے لئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے جینا اور مرنا سیکھو۔اگر ہم منتشر رہے تو کتنی بھی رو رو کر دعائیں مانگیں، لیکن مجموعی طور پر اُمت زوال پذیر رہے گی۔جب ہم متحد ہو کر عمل کریں گے، جدوجہد کریں گے اور دعا کریں گے، تب اللہ کی مدد آئے گی ۔ حالات بالکل صاف صاف بتا رہے ہیں کہ ہم مسلسل زوال کی طرف چل نہیں رہے بلکہ دوڑ رہے ہیں۔ہم نے باطل کی برتری تسلیم کرلی ہے،ہم نے محکومیت قبول کرلی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک ہمیں دنیا کا نظام چلانے کے لئے دیا ہے،ہم قرآن پاک میں محکوم رہنے کے دلائل تلاش کررہے ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ ساٹھ 60 سال کی عمر میں اسلام کی سربلندی کے لئے  انتہائی مشکل اور دشوار حالات میںاُس وقت کی سوپر پاور سلطنت روم سے ٹکر لی تھی اورہماری جدوجہد دشمن کے نظریات کو قبول کرنے، باطل سے بھیک مانگنے ، اسے صحیح ثابت کرنے اور گاڑی بنگلہ و مہنگے لباسوں تک محدود ہوگئی ہے۔پوری دنیا میں باطل ہمارے مقابلے کے لئے متحد ہے اور اسی لئے وہ کامیاب ہے۔ہم پوری دنیا میں بکھرے اور منتشر ہیں اور آپس میں لڑ رہے ہیں، اسی لئے ہم ناکام ہیں۔جب تک ہم منتشر رہیں گے تب تک اغیارہمیں ذلیل کرتا رہے گا۔ہم اُن سے اپنے حقوق مانگتے رہیں گے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے حقوق چھین کر ہمیں ذلیل کرتا رہے گا۔ہم اس ذلت پر راضی ہوتے جائیں گے اور دنیا کی ذلت کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی ذلت اور رسوائی کی بھی تیاری کرتے رہیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم متحد نہیں ہوئے اور منتشر ہی رہے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب ہمارے ساتھ بھی بنی اسرائیل جیسا سلوک کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے حالات اسی لئے بیان کئے ہیں کہ ہم اُن سے عبرت پکڑیں اور یہ اشارہ بھی ہے کہ دیکھو انہوں نے اس طرح ذلت قبول کی، مسلمانو تم ایسا نہیں کرنا۔لیکن افسوس صد افسوس! ہم بنی اسرائیل کی راہ پر ہی چل رہے ہیں اور ذلت پر ذلت قبول کرتے جارہے ہیں۔اگر ہماری پستی کا یہی حال رہا تو پچاس سال یا سو سال بعد وہ وقت ضرور آئے گا جب ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے پیدا ہوئے بیٹوں کو قتل کیا جائے گا۔اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دینا چاہتے ہیں؟سب سے پہلے ہمیں مسلک کے کفرٹ زون سے باہر نکلنا ہے اور منتشر ہو کر مسلک کے بجائے متحد ہو کر اسلام کے بارے میں سوچنا ہے،دوسری بات یہ کہ ہمیں دوسروں کے بھروسے نہیں رہنا ہے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے۔ہر جگہ ہر علاقے میں ہماری اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہوں،ہر جگہ ہمارے ہاسپیٹل ہوں،ہر جگہ عوامی فلاح وبہبود کے ادارے ہوں۔ہم سب مسلمان انفرادی مفاد پرستی چھوڑ کر اجتماعی مفاد عامہ کے لئے سوچیں اور عمل کریں۔آج ہم منتشر ہیں اور احساس کمتری اور احساس غیر محفوظیت کا شکار ہیں۔جب ہم دوسروں سے اُمیدیں ہٹا کر اللہ سے اُمیدیں لگائیں گے اور اللہ کے حکم کے مطابق متحد ہو کر عمل کریں گے تو اللہ کی مدد بھی اجتماعی طور پر آئے گی۔آج ہم منتشر ہیں تو ہمارے اندر اغیارکا خوف اور ڈر پیدا ہوگیا ہے اور ہمارے انتشار کو دیکھ کر اغیار کے  لئے ہمارا رعب نکل گیا ہے۔جب ہم متحد ہونگے تو اللہ تعالیٰ کی سب سے پہلے مدد یہ آئے گی کہ وہ ہمارے دل سے اغیار کا خوف نکال دے گا اور اغیارکے دِل میں ہمارا رعب ڈال دے گا۔ اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے اندر سے وہن یعنی دنیا کی محبت کو نکال دیں اور دنیا کو اتنا ہی استعمال کریں جتنا اسلام کی سربلندی کے لئے ضروری ہے۔اس کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ اس جدوجہد میں ہمارے سامنے بہت ساری پریشانیاں اور مصیبتیں آئیں گی لیکن وہ ہمیں ذلیل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہمارا مرتبہ بلند کرنے کے لئے آئیں گی۔آج ہم دنیاوی عیش میں مبتلا ہیں لیکن ہمارے دل مطمئن نہیں ہیں اور ہم اپنی آنے والی نسل کے لئے ذلت کا ایک ایسا کنواں تیار کررہے ہیں جس میں سے ان کا نکلنا بے انتہا مشکل ہو جائے گا۔اگر ہم متحد ہو کر اسلام کی سربلندی کے لئے اغیارکے سامنے ڈٹ جائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ دنیاوی طور پر مصیبت اور پریشانیوں کا شکار ہوجائیں لیکن اس وقت ہمارے دل مطمئن ہوں گے اور ہم اپنی نسل کے لئے ایسا وسیع زرخیز میدان تیار کریں گے ،جہاں سے وہ عروج کی طرف کوچ کریں گے۔