نکاح کو آسان کیسے بنایا جائے؟ معاشرہ

محمد عبدالحفیظ اسلامی
شادی جس کے عام معنی خوشی کے ہیں ،اس طرح جس گھر میں شادی بیاہ ہوتی ہے، اس گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں نظر آتی ہیں اور دولہا دلہن کے خاندانوں میں مسرتوں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ لیکن جب انسان لالچ میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر یہی شادی اخلاقی گراوٹ و معیشت کی بربادی کا پیغام لاتی ہے، جس کی وجہ سے خود انسان بڑے بڑے مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ نصف صدی قبل آسان شادیاں ہوا کرتی تھیں لیکن آج کے شادیاں لوگوں کے لئے بالخصوص لڑکی کے والدین کے لئے مسائل و مشکلات کا پہاڑ ثابت ہورہی ہیں۔ بلا شبہ آج بھی لوگ سیدھی سادھی شادیاں کررہے ہیں، لیکن معاشرہ میں ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ لوگ اپنا ذہن صاف کرلیں کہ شادی ایک معاشرتی ضرورت ہے اور یہ کوئی سوداگری ہے اور نہ ہی پیسہ کمانے کا ذریعہ، یہ ایک مرد اور عورت کے لئے شدید ضرورت کی چیز ہے اور یہ ہر انسان کے فطرت میں داخل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عورت و مرد کے دائرہ کار میں فرق ہوسکتا ہے اور خدا نے ان دونوں کا مقام و مرتبہ مقرر فرمادیا ہے، مرد کو ایک گنا برتری عطا فرمائی ہے، کیوں کہ مرد محنت و مشقت کرکے روزی روٹی کا انتظام کرتا ہے اور عورت گھر کی ملکہ بن کر اس کا نظم چلاتی ہے۔ اس طرح ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور مرد کو عورت پر فوقیت اس لئے دی گئی کہ وہ اپنا پیسہ خرچ کرکے (مہر ادا کرتے ہوئے) عورت کو اپنی زوجیت میں لیتا ہے اور زندگی بھر اس کے کھانے پینے، رہنے اور زیب تن کرنے کے لئے لباس کے علاوہ اس کی ساری ضروریات کا صرف وہی ذمہ دار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ فی زمانہ شادیاں آسان اور سہل کس طرح بنائی جائے۔ اس سلسلہ میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و سلم کی اس ہدایت کو عام کیا جانا چاہئے کہ ’’شادی کو آسان بنائو تاکہ زنا مشکل ہوجائے‘‘۔آج شادیاں جس طرح مشکل بنتی جارہی ہیں، اس کا سدباب عورتیںبخوبی کرسکتی ہیں کیوں کہ جتنے بھی رسومات ہیں، یہ اُن ہی کے دم خم سے قائم ہیں۔آج بن بیاہی لڑکیوں کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں، اس میں مرد بھی ذمہ دار ہیں، لیکن عورتوں کا رول نمایاں ہے۔ کسی لڑکی کو پسند کرنے سے لے کر شادی کی تاریخ تک اور پھر اس کے بعد قدم قدم پر جو مختلف عنوانات سے فضول و غیر ضروری رسمیں ادا کی جاتی ہیں اس کے خاتمہ کے لئے عورتیں بھی متحدہ طور پر کوششیں کریں گی، تو اسے رفتہ رفتہ ختم کیا جاسکتا ہے۔
دوسری چیز یہ کہ لوگوں میں یہ احساس اُجاگر کیا جائے کہ والدین جب اپنی لڑکی کو بیاہ کرکے دیتے ہیں تو یہ ان کی بڑی قربانی ہے، کیوں کہ پیدائش سے لے کر جوانی تک والدین کو بہت ساری دشواریوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ آخرکار اپنے جگر کے گوشہ کو ایک اجنبی کے ہاتھ سونپ دینا بڑے ایثار کی بات ہے جس کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے۔مگر جب شادی کا مرحلہ آتا ہے، تو لڑکے والوں کی طرف سے کئے جانے والے مطالبے، والدین پر بجلی گرادیتے ہیں۔ ان ساری باتوں سے عورتیں کماحقہ واقف ہیں لیکن احساس کی کمی نے سارا معاملہ چوپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے خواتین کو یہ سمجھایا جائے کہ وہ عورتوں پر بالخصوص بن بیاہی لڑکیوں پر رحم کھائیں۔ شادی کی رسومات کے علاوہ طبع ذات لوازمات بھی بہت بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اس پر قابو پانا بھی بے حد ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں متمول والدین اپنی لڑکیوں کی شادی میں سادگی اختیار کریں۔ کیوں کہ پیسے والے لوگ اپنی لڑکی کی شادی میں کھانے پر لاکھوں روپئے خرچ کردیتے ہیں۔ اس طرح جوڑے کی رقم جہیز و طلائی زیور کے علاوہ اچھا شادی خانہ اور ہمہ اقسام کے کھانوں کا مطالبہ لڑکی کے والدین کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے، اگر معاشرے کے مالدار لوگ شادیاں سادگی سے کریں تو عام لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں کیوں کہ عام آدمی مالداروں کی نقالی میں اپنی چادر سے زیادہ پیر پھیلاکر قلاش ہوجاتا ہے ،بعض اپنی جائیدادوں کو رہن رکھ دیتے ہیں یا فروخت کردیتے ہیں اور بعض بھاری سود پر رقم اٹھاکر زندگی بھر مقروض رہتے ہیں۔ بعض اوقات سودی معاملت کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اصل بات لوگوں کو سمجھانے کی یہ ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر لازمی جو چیز ہے، اس پر عمل کیا جائے۔ مثلاً ایجاب و قبول، مہر کا مقرر کیا جانا، گواہوں کی موجودگی۔ آج ہر طرف معیاری شادی کے بڑے چرچے ہیں اور معیار کو ناپنے کے مختلف پیمانے ہیں۔ کسی کی نگاہ ظاہری خوبصورتی پر ہے اور کوئی مالداری پر نظریں جمائے بیٹھا ہے اور کوئی ذات برادری کو ترجیح دیتا ہے۔ اس جستجو میں سب سے آخری چیز اگر دیکھی بھی جاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ لوگ شریف ہیں یا نہیں۔جبکہ یہ آخری چیز خانہ پوری کی حد تک ہی محدود ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں رشتوں کا استرداد مندرجہ ذیل عذرات پر ہوتا ہے، مثلاً آمدنی یا تنخواہ کا خوب نہ ہونا، ذاتی مکان کا نہ ہونا، پرانے شہر میں رہائش کا ہونا، ضعیف والدین اور کچھ بن بیاہی بہنوں کا ہونا، اگر ان مذکورہ بالا چیزوں کو سرف نظر کیا جائے، دوسری اچھی چیزوں پر نظر رکھی جائے تو رشتہ نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ مثلاً لڑکے میں عمدہ اخلاق کا پائے جانا، اپنے والدین کی خدمت، بہنوں کی ذمہ داری کا احساس، حلال کمائی، حرام سے اجتناب اور سب سے اونچی بات یہ کہ حقوق اللہ کا ہر وقت پاس و خیال حقوق العباد کی بھرپور ادائیگی، غرضیکہ ان ساری باتوں کو سمیٹ دیا جائے تو ہم اسے دو لفظوں میں بیان کرسکتے ہیں۔ وہ ہے’’دین داری‘‘ اگر رشتوں کو طے کرتے وقت دین داری کو ترجیح دیں تو یہ کامیابی کی ضمانت ہے۔طعام ولیمہ ایک اہم چیز ہے، اسے بھی سادہ بنانے کے لئے شعور کی بیداری نہایت ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ولیمہ کرنا سنت ہے اور ہر سنت کو سنت کے مطابق ادا کرنا خیر و برکت کا باعث ہے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کے مطابق وہ نکاح (شادی ولیمہ) مبارک ہے (اللہ و رسول کی نگاہ میں محبوب ہے) جس میں خرچ کم ہو اور محنت بھی زیادہ نہ ہو۔شادی ولیمہ کی محفلوں کو آسان بنانے، اسراف سے بچنے کے لئے ہمارے خطیب صاحبان، واعظین اور مفتیان عظام، علماء کرام و مشائخین کرام، انفرادی و اجتماعی سطح پر کوششیں کریں اور اسے ایک تحریک کی شکل دیں۔ یہاں پر ہدایت کے سرچشمہ قرآن مجید کے اس حکم پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے کہ ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو وہ بات تم کہتے کیوں ہو جو تم کرتے نہیں‘‘۔ کیوں کہ اگر خدانخواستہ قول و فعل میں یکسانیت نہ ہو تو رشد و ہدایت کی ساری کوششیں ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں ۔ آخر میں چند گذارشات پیش کرنا چاہوں گا جو شادی کو آسان بنانے کے ضمن میں مفید اور کارآمد ثابت ہونگی۔
(۱) شادی بیاہ کے بے جا رسومات کے منفی پہلوئوں کو معاشرے کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے۔(۲) طعام ولیمہ کو سادگی سے کرنے کی وعظ بیان کے موقع پر تلقین کی جائے اور سادگی سے انجام پانے والے تقاریب کی ہمت افزائی کی جائے(۳) لڑکی والے ان رشتوں کو مسترد کردیں جن میں بے جا مطالبات رکھے جاتے ہیں۔ یہ کام بڑا صبر آزما ہے اور خدا پر توکل کے بغیر ناممکن ہے، اگر متحدہ طور پر لڑکی والے لالچی قسم کے لوگوں کا بائیکاٹ کریں تو بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں اور شادیاں بھی آسانی کے ساتھ ہونے لگ جائیں گی۔(۴) شادی کو آسان بنانے میں مالداروں کی یہ حکمت عملی ہونی چاہئے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی یا اپنے بیٹے کا ولیمہ، ان دونوں مواقع پر سادگی کا مظاہرہ کیا کریںاور محتاج و بے کس بندوں کی دستگیری کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کریں۔(۵) رشد و ہدایت کے منصب پر فائز لوگ، سیاسی رہنمائی و رہبری کرنے والے قائدین، عوام کو حالات سے باخبر رکھنے والے مدیران و دانشوران ان سب کی متحدہ پالیسی یہ ہونی چاہئے کہ جہاں بھی شادی ولیمہ کی تقاریب میں دولت کا اسراف و زیاں ہورہا ہے، اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔
رابطہ۔:9849099228
<[email protected]>