نپا وائرس کا تیزی سے پھیلائو تشویشناک

سرینگر // بھارت کی جنوبی ریاست کیرلا میں نپا وائرس سے ایک درجن سے زائد افراد کی موت کے ساتھ ہی کشمیر میں ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر نے بدھ کو محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران سے کہا ہے کہ وہ نپا وائرس سے نپٹنے کیلئے منصوبہ تیار رکھیں۔ ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ’’گھبرانے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لوگ ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر چونکہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے اور نپا وائرس کبھی بھی یہاں پر وار کرسکتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کیلئے تیار رہنا ہوگا اور اسپتالوں کو بھی اس کیلئے تیار کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ نپا وائرس ایک نیا وائرس ہے جو کافی تیزی سے انسانوں میں پھیل رہا ہے اور یہ صرف سیدھے رابطے سے ہی ایک آدمی سے دوسرے آدمی میں منتقل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس بیماری کا کوئی بھی علاج دستیاب نہیں ہے اور ڈاکٹر صرف بچائو تدابیر سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کیلئے کوئی مخصوص ڈرگ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کافی مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نپا وائرس کے شکار 75فیصد مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے اور اسلئے اسکو جان لیواہ بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میوہ وغیر دھوکر کھانا چاہئے اور بغیر دھوئے سبزی اور میوہ کسی بھی صورت میں نہیں کھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ابلی ہوئی اور تلی ہوئی سبزیاں کھانے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مشکوک افراد پر نظر رکھنے چاہئے اور ساتھ میں اسپتال عملہ کو ہدایت دینی چاہئے کہ وہ پی پی ای کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ نپا وائرس میں دماغ کمزور ہوجاتا ہے اور ایک دو ہفتے میں انسان بخار ، سردرد ، کلوشن  اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔