نُور شاہ ۔۔اُردو فکشن کا روشن ستارہ

قدرتی حسن اور دلکشی سے مالامال وادی کشمیر کے ادبی اُفق پر سجی کہکشاںپر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو بہت سی ایسی ادبی شخصیات نظر آتی ہیںجنہونے ادب کے شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔اس کہکشاں ،میںپچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل ادبی خدمات انجام دینے والے ،نور شاہ کا ایک نمایاں مقام ہے ۔ جی ہاں!ایک محنت کش کسان کی طرح کاغذ کی کھیتی پر قلم کا ہل چلانے والے نور شاہ ادبی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اپنی پر کشش اور دلگداز تحریروں کی بدولت نہ صرف جموں کشمیربلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ بر صغیر کے ادبی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایک محفل میں جب کسی نے اردو کی مشہور ناول نگار عصمت چغتائی سے پوچھا کہ آپ کشمیر کے بارے میں کیا جانتی ہیں تو انہونے جوابًا کہا کہ میں وہاں نور شاہ کو پڑھتی ہوں اور اسی کو جانتی ہوں ،جب کہ مشہور افسانہ نگار کرشن چندر نے بھی ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میں نے کشمیر کو کبھی نہیں دیکھا البتہ میں کشمیر کو نور شاہ اور حامدی کشمیری کے افسانوں میں دیکھتا ہوں ۔آج بھی جب کشمیر میں اردو ادب کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو نور شاہ کی بے لوث ادبی خدمات کا تذکرہ  لازمًا آتا ہے ۔ 
نورشاہ کا تابناک ادبی سفر کم و بیش چھ دہائیوں پرمحیط ہے، جس دوران انہوں نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر ناول ،افسانہ ، ڈرامہ،خاکہ نگاری وغیرہ جیسی مختلف اصناف کی آبیاری کرتے ہوئے درجنوں کتب تخلیق کرکے علمی و ادبی حلقوں میں نہ صرف اپنی ایک خاص پہچان بنا ئی بلکہ ایک خاص مقام بنانے میں بھی کامیاب ہو ئے ،جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔1936؁ء میں سرینگر میں واقع خوبصورت جھیل ڈل کے کنارے واقع ڈلگیٹ علاقے میں ایک علمی گھرانے میں جنم لینے والے نور شاہ بچپن سے ہی اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے ۔مختلف اخبارات اور رسائیل کے مطالعے کے ساتھ ساتھ ان دنوں ہونے والی ادبی محفلوں میں شوق سے شرکت کرتے تھے ۔ آگے جا کر جب شعور نے آنکھیں کھولیںتوکم عمری میں ہی انہوں نے قلم اور کا غذ سے رشتہ استوار کرکے 1959؁ ء میںاپنی ادبی زندگی کا آغا ز کیااوران کی پہلی کہانی’ گلاب کا پھول‘ مشہور ادبی رسالہ بیسویں صدی میں شایع ہوئی۔ پھر انہوں نے مڑ کے نہیں دیکھا ۔ اب تک ان کے نو افسانوی مجموعے بے گھاٹ کی نائو ،ویرانے کے پھول، من کا آنگن اُداس اُداس، ایک رات کی ملکہ ،گیلے پتھروں کی مہک ،بے ثمر سچ ،آسمان پھول اور لہو،کشمیر کہانی اور ایک معمولی آدمی منظر عام پر آچکے ہیں،جن کے موضوعات ایک دوسرے سے مختلف رجحانات متنوع ہیں۔ اس کے علاوہ ناول اور ناولٹ نیلی جھیل کالے سائے ،پائل کی زنجیر ،آو سوجائیں،آدھی رات کا سورج ،لمحے اور زنجیریں ،ایک تحقیقی کتاب جموں کشمیر کے اردو افسانہ نگار۔۔۔تعارف فن اور مکالمہ ، کہاں گئے یہ لوگ(ادبی خاکے)اوربند کمرے کی کھڑکی سمیت دو درجن کے قریب کتب منظر عام پر آچکی ہیں ،جب کہ قی الو قت وہ ’یادیں‘ کے عنوان سے اپنی ڈائیری میں درج واقعات پر مبنی اپنی سوانح عمری ترتیب دینے میں مصروف عمل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک سو کے قریب ڈرامے اور سیرئیل بھی لکھے ہیں،جو ریڈیو کشمیر سرینگر، ریڈیو جموں،دور درشن کیندر سرینگراور آل انڈیا ریڈ یو کی اردو سروس سے نہ صرف نشر اور ٹیلی کاسٹ ہوئے ہیں بلکہ لوگوں نے بہت پسند بھی کئے ۔شاہ صاحب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے بھی انہوں نے اُردو زبان و ادب کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ بلکہ اسکے فروغ میں اپنی سرکاری حیثیت کو بھی استعمال میں لانے کی سعی کرتے رہے۔محکمہ رورل ڈیولپمنٹ میں اپنی پوسٹنگ کے دوران ’دیہات سدھار‘  کے نام سے ایک رسالہ کی اشاعت کا اہتمام کیا۔یہ رسالہ ان دنوںریاست میں کافی مقبول تھا ۔ضمنناًیہ بتاتا چلوں کہ پنجابی اور اُردو کے نامور افسانہ نگار خالد حسین بھی اس جریدے کے ساتھ کا دیر تک منسلک رہے۔ اس کے بعد آپ محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں گئے تو وہاں بھی سرکاری خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ادب کے گیسو سنوارتے رہے ۔بے لوث ادبی خدمات کے صلے میں انہیں وقت وقت پرسرکاری اور غیر سرکاری سطح پر انعا مات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ 
نورشاہ نے اردر ادب کی زُلفیں سنوارنے کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی تنظیموں سے وابستہ ہو کر اردو زبان کے لئے بھی نا قابل فرا موش خدمات انجام دی ہیں ۔ موصوف اپنے ادبی سفر کے دوران جموں کشمیر رائیٹرس سوسائیٹی کے ساتھ وابستہ رہنے کے علاوہ اردو کارڈی نیشن کمیٹی کشمیر یونیور سٹی ، اردو کمیٹی جموں کشمیر بورڑ آف سکول ایجوکیشن اور عالمی اردو پریس دہلی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں، جب کہ مشاورتی کمیٹی جموں کشمیر فکشن رائیٹرس گلڈ کے رکن ہونے کے علاوہ کشمیر کلچرل کانفرنس کے ساتھ بھی وابستہ ہیں ۔ نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے اردو زبان کو اپنا جائیز مقام دلانے کیلئے اپنے مخلص ساتھیوں مرحوم عمر مجید،ش۔م۔احمد،جان محمد آزاد،ڈاکٹر اشرف آثاری،شبیر ماٹجی،نذیر احمد نظیر سے مل کر جموں کشمیراُردو اکادمی نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی ۔آگے جا کر جاوید ماٹجی ،شیخ بشیر احمد، وجیہہ احمد اندرابی ،حسن ساہو،ڈاکٹر ریاض توحیدی ، ریاض خاور ،محمد اسلم خطیب ، سید مبشر رفاعی ،مشتاق کینی ، ناصر ضمیر اور عبدالرشید راہگیر سمیت وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے قلم کار اور اردو کے شیدائی اسی بینر تلے جمع ہوئے ۔اس تنظیم نے فروغ اردو کے لئے دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ’ اردو اکادمی‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی شائع کیا جس کی ادارت کی ذمہ داری نور شاہ کو ہی سونپی گئی ۔ علاوہ ازین سرینگر سے وحشی سعید کی ادارت میں نکلنے والے مشہور ومعروف رسالہ’ نگینہ انٹر نیشنل‘ کے ایڈیٹوریل بورڈسے وابستہ رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں،جب کہ ممبئی سے شایع ہونے والے ’ماہنامہ تریاق ‘ کے ’کشمیر نمبر‘ کے لئے بھی مدیر کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں ۔مشہور نقاد وشاعر حامدی کشمیری کی سر پرستی میں اکادمی ،نور شاہ جس کے تا حیات صدر چنے گئے ہیں ،اپنے مقدور کے مطابق اردو کی بقا کے لئے کام کر رہی ہے لیکن نورشاہ اردو زبان کے تئیں سرکار کے رول سے کافی نا خوش ہیں ،جس کا اظہار انہوں نے حال ہی میں ایک انٹر یو کے دوران یوں کیا۔
’’ہمیںاس حوالے سے سرکار سے ہمیشہ شکایت رہی ہے کیوں کہ اس جانب سے ہم کو جو سر پرستی ملنی چاہئے تھی وہ کسی بھی صورت میں نہیں مل رہی ہے ۔سرکار کا رول محض شوشہ بازی اور وعدوں تک ہی محدود رہا ہے جب کہ ان کی طرف سے وعدہ خلافی کی داستان بھی کافی طویل ہے ‘‘۔
نورشاہ ایک ہر دلعزیز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت ہی نرم مزاج اور خوب صورت دل کے مالک ایک اچھے انسان ہیں ،جو نہ صرف ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی اور خوش دلی سے ملتے ہیںبلکہ دوسروں کے کام بھی آتے ہیں ،خاص طور پر ادبی معاملات میں کافی وسیع دل رکھتے ہیں ۔ہر وقت ہر ایک کے لئے اپنے آپ کو وقف رکھتے ہیں ۔نئے لکھنے والوں کی نہ صرف ہر طرح سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں ادب کی نئی نئی تکنیکوںکے بارے میں بتا کر انہیں روبہ عمل لانے کی تحریک ان کا ادبی ذوق نکھارتے ہیں ۔
نور شاہ کا مطالعہ اور مشاہدہ کافی وسیع ہے ۔ان کی دلنشین تحریریں، خاص طور پر افسانے جن میں فکری اور عصری بصیرت نمایاں دکھائی دیتی ہے، قاری کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ دیتی ہیں ۔انہوں نے ایک حساس اور ذمہ دار ادیب ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے معاشرتی انتشار ،سماجی نا برابری ،فحاشیت ،غربت ،افلاس ،رشوت ستانی جیسے سلگتے سماجی مسائل پر قلم اٹھا کر بڑے ہی دلکش اور فنکارانہ انداز بیان سماج پر انکے اثرات کو میں اُجاگر کیا ہے ۔ قاری کوان کے افسانوں میں رومان بھی ملتا ہے،انسان کے دکھ درد اور آرام و آسائیش کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں جب کہ انہوں نے صنف نازک کے مسائل کو بھی انتہائی دلچسپ اور ما ہرانہ انداز میں اُجاگر کیا ہے ۔ ان کے افسانوں ،خاص طور پر کچھ عرصہ قبل شایع ہوئے افسانوی مجموعہ ’کشمیر کہانی‘، میں وادی میں پچھلی تین دہائیوں سے جاری مسلح شورش کے نتیجے میں پیدا شدہ حالات کا گہرا تجزیہ ملتا ہے، مار دھاڑ،خون خرابہ، شہریوں کی گمشدگی، بے نام قبروں جیسے موضوعات کی بھی خوب عکاسی ملتی ہے ۔اس مختصر سے مضمون میں ان کے افسانوں تخلیقی حیثیت اور تکنیکی برتائو پر تفصیل سے بات کرنا ممکن نہیں ہے سو میں صرف اس ایک اقتباس پر اکتفا کرونگا۔
’’ جب جب بھی لو گوں کے ذہنوں اور دلوںمیں نفرت ،انتشار اور تشدد کی آگ بھڑکتی ہے تو خلوص اور محبت کے پھول جل کر راکھ ہو جا تے ہیں ۔دو روز بعد میں اپنے لان میں بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی ایک تصویر دیکھ کر میری نظریں جم کر رہ گئیں۔یہ تصویر ایک عورت کی تھی خون میں لت پت، لہو کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ۔اس مردہ جسم کے قریب ہی دو چیزیں صاف نظر آرہی تھیں گڑیا اور سپید پھولوں کا گلدستہ،گڈیا جیسے دلہن بننے سے پہلے ہی وہ بیوہ ہو چکی تھی اور سپید سپید پھول لہو کا رنگ اپنا چکے تھے !تصویر کے نیچے لکھا تھا !
آمنہ بی بی جو چند روز قبل اپنی بیٹی خالدہ کے ساتھ ایک شادی میں شرکت کرنے کی غرض سے سرینگر سے بارہمولہ جا رہی تھی اور بس اسٹینڈ کے قریب گرینیڈپھٹنے کے دوران شدید زخمی ہوئی تھی کل رات زخموں کی تاب نہ لا کر اللہ کو پیاری ہو گئیں،ان کی دس سالہ بیٹی خالدہ موقعہ پر ہی جان بحق ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔!‘‘(افسانہ ،آسمان پھول اور لہو)۔ 
یہ افسانہ محض چند کرداروں کی کہانی نہیں بلکہ پورے کشمیر کے درد و کرب کی داستان ہے ۔اسی طرح موصوف کے دوسرے افسانوں میں بھی نہ صرف پوری انسانیت کا درد پوشیدہ ہے بلکہ یہ موضوع ،اسلوب اور تکنیک کے لحاظ سے بھی شاندار اور جاندار ہیں ۔نور شاہ کے چند ایک افسانے جموں کشمیر کے سرکاری تعلیمی نصاب میں بھی شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے وادی کے نامور ادیب اور نقاد پروفیسر حامدی کشمیری یوں رقم طراز ہیں ۔
’’ ایک کامیاب افسانہ نگار کسی وضاحت،تکلم اور خیال آرائی سے کام نہیں لیتا،یہ کام وہ قاری کے لئے چھوڑ دیتا ہے ،نور شاہ کے افسانے بھی کسی آغاز،اختتام،انٹی کلائیمکس،خیال آرائی یا وضاحت کے محتاج نہیں ہوتے یہ افسانوی تکنیک میں ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔‘‘ 
نور شاہ جیسی ممتاز ادبی شخصیت کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا بھی جا رہا ہے، حال ہی وادی کے ایک نوجوان قلم کار اقبال لون نے ان پر ایک کتاب ’’نور شاہ ،فکر اور فکشن‘‘ بھی ترتیب دی ہے، جب کہ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلاب ادب نے ان کی تخلیقات کا تنقیدی جائیزہ لے کر ایم۔فل اور پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہیں۔ لیکن میرے خیال میںاردو ادب کے اس روشن چراغ،جس کے قلم میں پہاڑی ندی کی سی روانی اور چاند پر سفر کی طلسمی تاثیر موجود ہے، کی ادبی خدمات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کہکشاں سے وابستہ دوسرے ادیبوں پر بھی اور زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے  ۔۔۔۔۔۔ اللہ تباک وتعالیٰ ان کی پرواز میںاور زیادہ بلندی اور عمر دراز عطا فرمائے۔اٰمین۔
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے  خو شبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جس سے اردو آئے
 
رابطہ ؛ اجس بانڈی پورہ کشمیر 
ای میل ؛[email protected]  
فون نمبر9906526432