نویگہ کمپنی اکاؤنٹس منیجر سمیت بانہال کے دو مریضوں کی کورونا وائرس سے موت

 بانہال // ہفتے کی رات سے بانہال میں کووڈانیس کے وبائی وائرس سے متاثر دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ عبدالقدوس بٹ ساکنہ لامبر بانہال کی موت رام بن ضلع ہسپتال میں واقع ہوئی جبکہ بانہال اور قاضی گنڈ کے درمیان فورلین ٹنل تعمیر کرنے والی کمپنی نویگہ کا اکاونٹس منیجر رام کرشنن گزشتہ رات جموں کے ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا اور دونوں کی عمر چالیس سال کے آس پاس تھی۔ عبدالقدوس بٹ ایک سماجی کارکن اور دیندار انسان تھے اور پیشے سے رام بن میں ایل پی جی گیس سلنڈر کائونٹر وغیرہ سے منسلک تھے۔ ضلع ہسپتال رام بن ہوئی بیالیس سالہ عبدالقدوس بٹ کی موت میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں پر لاپرواہی کے الزام لگائے جارہے ہیں اور ضلع ہسپتال رام بن کی انتظامیہ نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور دیگر سٹاف سے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کئے ہیں۔ مہلوک کے گھر رشتہ داروں اور اس کے تیمادار بیٹے نے بتایا کہ اتوار کی صبح جب اس کے مریض والد کی حالت خراب ہوئی تو وہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کے پاس گئے جنہوں نے کہا کہ انہیں وینٹی لیٹر چلانا نہیں آتا ہے اور انہوں نے آنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کوشش کے باوجود کووڈ ڈیوٹی پر موجود کوئی ملازمین اس کے واجد کی حالت دیکھنے نہیں آیا۔ جس کے چند منٹ بعد آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔مہلوک کے بیٹے نے کہا کہ کووڈ مریضوں کی نگرانی کیلئے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔وہیں ہسپتال کے اس کمرے میں موجود ایک دوسرے ساتھی مریض نے عبدالقدوس کی بے بسی کے عالم میں نیم مردہ حالت کی ایک ویڈیو بھی بنائی ڈالی۔ جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مریض بے ہوشی کی حالات میں بیڈ پر آکسیجن کے بغیر پڑا ہے اور کوڈڈ سینٹر پر مامور اسٹاف غیر موجود ہے اور انکے کمرے مقفل ہیں۔ واقع کو بیان کرتے ہوئے ویڈیو میں سٹاف کیلئے مامور کمرے کو بھی تالہ لگائے دکھایا گیا ہے اور یہاں داخل کووڈانیس مریضوں کی کوئی مانیٹرنگ نہیں ہورہی تھی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہے۔ عام لوگ اور مہلوک کے رشتہ دار منظر عام پر آئے ویڈیو کے خلاصے سے غصے میں ہیں اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس ضمن میں میڈیکل سپراٹنڈنٹ رام بن ڈاکٹر عبدالحمید زرگر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر و دیگر اسٹاف کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اگر اسٹاف کی جانب سے کوئی بھی لاپرواہی پائی گئی تو اصول و ضوابط کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ روز سے داخل مریض عبدالقدوس بٹ کو انہوں نے ہفتے کی شام سوا چھ بجے دیکھا اور اسکی آکسیجن سیچوریشن 93 تھی اور مجھے امید تھی کہ اسے اتوار کو گھر بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سحری کے وقت ان کی سیچوریشن بتدریج گر گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں ڈاکٹر سمیت دیگر کووڈ عملہ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر چکے ہیں اور کسی بھی ملوث کو قانون کے تحت کاروائی ہوگی۔