نومبر 2021نے سیاحوں کا 7برس کا ریکارڈ توڑا | ایک لاکھ 27ہزار کی آمد،ہوٹل بھی بھر گئے، ہاوس بوٹ بھی آباد ہوئے

سرینگر// جموں کشمیر کیلئے سال2021 گزشتہ برسوں کے برعکس سیاحتی اعتبار سے پرجوش رہا اور سال بھر7لاکھ کے قریب سیلانی وادی کے خوبصورت نظاروں سے مستفید ہوئے۔ دسمبر میں وادی میں سیاحوں کی کافی تعداد دیکھنے کو ملی،جنہوں نے گلمرگ،پہلگام اور جھیل ڈل میں دن گزارے۔ دسمبر میں قریب ڈیڑ لاکھ سیلانیوں نے وادی کا دورہ کیا اور یہاں کے دلفریب مناظر اور قدرت کی رعنائیوں سے لطف انداوز ہوئے۔ نومبر میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ریکارڈ توڑ سیاحوں نے وادی کا دور ہ کیا اور 7برسوں میں سب سے زیادہ تعداد میں سیلانی سیاحتی مقامات پر نظر آئے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق نومبر مہینے کے دوران ایک لاکھ 27ہزار  سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا۔یہ گزشتہ سال ریکارڈ کی گئی کل آمد کے 75 فیصد سے زیادہ ہے۔ 2020میں، جب کشمیر کا خطہ وبائی امراض کی وجہ سے سخت لاک ڈان میں تھا، مجموعی طور پر 41267  سیاحوں کی آمد ہوئی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2020 میں 6,327  اور 2019 میں اسی مہینے  12 ہزار 86 سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی تھی۔ نومبر 2018 میں 33,720سیاحوں کی آمد ہوئی تھی،2017میں ایک لاکھ12ہزار، 2016میں 23ہزار569اور نومبر 2015میں64ہزار 778سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا تھا۔نومبر2021 میں سیاحوںکی تعداد کا7برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔اکتوبر کے شروع میں وادی میں غیر مقامی لوگوں کی ہلاکتوں کے باوجود نومبر میں سیاحوں کا رش رہا۔محکمہ سیاحت نے پہلے ہی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں کہ کووِڈکی وبا کا خوف سیاحوں کو خوفزدہ نہ کرے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، 80 فیصد سے زائد سیاحتی خدمات فراہم کرنے والوں کو ویکسین لگائی گئی ہے اور وہ  آنے والے مسافروں کے استقبال کے لیے محفوظ ہیں۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں میں60فیصد کمرے سیاحوں کے زیر استعمال ہیں۔ہاوس بوٹ مالکان کا کہنا ہے کہ سال گزشتہ میں  ہاوس بوٹ کافی عرصے کے بعد آباد ہوئے جبکہ سردیوں میں جہاں بیشتر سیاح ہوٹلوں میں ٹھرنا پسند کرتے ہیں،وہی اب کی بار دسمبر میں بیشتر ہوس بوٹوں میں بھی سیاحوں کی چہل پہل دیکھنے کو ملی۔