نور ِتعلیم یا معلومات کا انبار

دُنیا کے آباد ہونے کے بعد دنیا میں موجود بشریت کے وجود کے پس منظر میں بہت سارے اہداف نظر آتے ہیں جن میں عبادت کا ہدف سر فہرست نظر آتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ عبادت کے معنی میں وسعتِ نظری سے کام لیا جائے۔ انسان کی خلقت کا مقصد یقیناً عبادت ہی ہے۔ لیکن وہ عبادت جو مقدار اور عدد کے لحاظ سے اگر چہ کم ہی ہو لیکن معیار اور مقدار سے نہیں بلکہ روح اور معنویت سے پہچانا جاتا ہے۔ عبادت اور زندگی سے مربوط دیگر سارے امور میں معیار ، روح اور معنویت کی بُلندی کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے علم یعنی نور۔
لفظ علم کو اگر زیور، دولت یا روشنی سے تشبیہ دی جائے تو بے جانہ ہوگا۔ ہم نے جب سے اس دنیا میں آنکھیں کھولیں ہیں صرف اس لفظ سے اتنے مانوس ہو چکے ہیں کہ ہر سیکھی ہوئی بات فقط علم محسوس ہوتی ہے اگر چہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ہم نے علم کو معلومات کے الگ موضوع میں ضم کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں علم جیسی خوبصورت اصطلاح نے اپنا وقار کھو یا ہے۔ علم معلومات نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک دنیا ہے۔ علم معلومات جمع کرنے کی طرح چیزیں نہیں ہیں بلکہ انسان اور انسانیت میں گُل کھلا کر گلستان کی بناوٹ کے مترادف ہے۔ شاید اسلئے اقبال رقمطراز ہیں۔
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
دور قدیم میں اگرچہ انسانوں کی بہت کم تعداد تعلیم اور علم کے نور سے وابستہ تھے لیکن اُس علم کا معیار اور انداز اتنا خوبصورت ،مؤثر اور زمانے کے تقاضے کے عین مطابق تھا کہ لوگ حصول تعلیم کے بعد نہ صرف باعزت اور با وقار روزگار پاتے تھے بلکہ غیر معمولی  اخلاقی اقدار، تہذیب، ادب اور دیگر زندگی سے مربوط صفات سے لبریز نظر آرہے تھے۔ اُس دور میں نہ صرف تعلیم کے ذرائع کی قلت تھی بلکہ علمی اشتیاق  پر مبنی افراد بھی دور دور تک کہیں نظر نہیں آتے تھے۔ آئے روز زندگی کے مشکل ادوار اور دن بہ دن بڑھ رہے ضروریات زندگی نے لوگوں کے ذہن اتنا منتشر اور گیر منظم کر دیا تھا کہ اکثر لوگ نور تعلیم کی فکر سے خود  کو آراستہ کر نے سے گریز کر رہے تھے اور نتیجہ میں نسلیں بر باد ہوئیں ۔ چنندہ افراد کی حاصل کردہ تعلیم پورے سماج کو مشکبار چمن میں تبدیل کرتی تھی۔ تعلیم یافتہ لوگوں کو با عزت و شرافت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے تعلیم کو اسی نیت سے حاصل کیا ہوتا تھا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے علم و ادب کا اثر واضح طور پر نمودار تھا کیونکہ انہوں نے تعلیم کو نور اور روشنی سمجھا  تھا وہ نور جو روح کی گہرا ئیوں سے شیرو شکر کی طرح گھل ملا ہو۔
اسکے برعکس آج کے دور میں ہر جگہ اور ہر ساعت صرف تعلیم کا چرچا سننے کو ملتا ہے،ہر طرف علم کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے۔ ہر ساعت تعلیم کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ہم سب بہت دور رہ گئے ہیں ۔ اس نور کی تجلی کی چمک کو حاصل کرنے سے ہم عاری رہ گئے ہیں۔ آج کی دنیا میں کثیر تعداد میں لوگ تعلیم حاصل کرنے میں محو و مصروف ہیں۔ آئے روز پڑھے لکھے افراد میں نمایاں تبدیلی اور اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ علم کے حاصل کرنے والے افراد میں بے تحاشہ اضافہ کے با وجود سماج کی اخلاقی، ادبی ، تہذیبی ، اقتصادی ، مذہبی اور دیگر ادوار زندگی کے معیار میں گراوٹ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم علم اور تعلیم نہیں بلکہ معلومات کا انبار حاصل کر رہے ہیں۔ ایسا کیوں نظر آرہا ہے کہ لوگ تعلیم یافتہ بھی ہوں اور اخلاقی لحاظ سے شکار بھی؟ کیوں علم کا انبار اور اسناد کی بوچھاڑ کے باوجود ہم والدین ، بزرگ اور ذی وقار لوگوں کو عزت دینے سے قاصرہیں؟ کیوں علم کے باوجود ہم میں اُخوت، اتحاد، ہمدردی جیسے شیریں اقدار کا فقدان ہے؟
علم کے باوجود ہم کیوں ایک دوسرے کا درد، رنج ، مصائب اور دُکھ نہیں سمجھ پارہے ہیں؟ ہر طرف علم ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی وغیرہ لیکن ہر طرف ظلم ، اقدار کی گراوٹ، بے حیائی اور بد امنی کیوں؟ جس تیزی کے ساتھ علم کمال کی ارتقائی سیڑھیاں چڑھ کر آگے بڑھ رہا ہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ انسانیت تنزلی کا شکار ہو رہی ہے۔ اتنی ترقی کے باوجود ظلم اور ظالم سر اٹھا کر جی رہے ہیں اور مظلوم ہلکی سسکیاں لیتا رہتا ہے۔ غرباء غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور اُمراء امیر تر نہ کہیں پر سماجی توازن نہ کہیں پوچھ تاچھ ایسا صرف اسلئے ہے کہ ہم علم کے روح سے آشنا نہیں ۔ ہمیں شیر کے بجائےبکرے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ ہم علم کو نور کے بہ طور حاصل کررہے ہیں ۔ ہم نے علم کو صرف مادی ضروریات کے پیش نظر حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے  نہ کہ معنوی اور روحانی غذا کے بطور۔ چونکہ والدین بچوں کی ذہنیت ، قابلیت اور چالاکی کو نمبرات کے معیار پر تو لتے ہیں شاید اسلئے طلباء و طالبات بھی علم کے روح کو کھو چکے ہیں اور معلومات کے ڈھیر میں گُم ہو چکے ہیں۔ اس مصیبت سے نکلنے کے لئے سرکاری ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ کیسے تعلیمی معیار کے سطح کو بڑھایا جائے۔ تعلیمی مواد اور اہداف کے سلسلے میں ہر سظح پر تبدیلیاں لانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وقت اور مستقبل کے تقاضے کو مد نظر رکھ کر ضروریات پوری ہوں۔ انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے ہر ایک ذمہ دار ہے لیکن ارباب اقتدار پر بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعلیمی ڈھانچے کو سنجیدگی سے دیکھے تاکہ نسلیں برباد ہونے سے بچ جائیں۔