نور باغ کے نوجوان کی ہلاکت : بشری حقوق کمیشن میں تحقیقات کے لئے عرضی داخل

سرینگر//سرینگرکے نور باغ علاقے میں محاصرہ اور تلاشی کاروائی کے دوران فورسز کے ہاتھوں محمد سلیم ملک نامی نوجوان کی ہلاکت پر بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے ضلع ترقیاتی کمشنر اور سٹی پولیس چیف کے نام نوٹسیں روانہ کرتے ہوئے پوچھا کہ جنگجو کس طرح فرار ہوئے۔ شہر کے باغوان پورہ نور باغ علاقے میں27نومبر کو دوران شب محاصرہ اور تلاشی کاروائیوں کے دوران ایک شہری محمد سلیم ملک ولد محمد یعقوب جان بحق ہوا تھا۔ انٹر نیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے انسانی حقوق کے مقامی کمیشن میں عرضی زیر نمبر SHRC/331/Sgr/2018دئر کی،جس میں کمیشن کی تحقیقاتی شعبے سے اس واقعے کی جانچ کرنے اور اہل خانہ کو معاوضہ فراہم کرنے کی درخواست کی ۔عرضی میں سوالیہ انداز میں کہا گیا کہ سخت محاصرے کے دوران کس طرح جنگجو میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور ایک معصوم شہری سلیم ملک جان بحق ہوا۔بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کی ممبر دلشادہ شاہین نے کیس کی شنوائی کے دوران ایس ایس پی سرینگر اور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر کے نام نوٹسیں جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ17اکتوبر تک کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ عرض گزار نے درخواست میں  یہ جاننے کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر محاصرہ سخت تھا اور پولیس کے بقول جنگجوئوں کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا،تو کس طرح جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔جان بحق شہری کے اہل خانہ نے فورسز اورٹاسک فورس پر محمد سلیم کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیاہے جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ محمد مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر فورسز نے محاصرہ کیا اور اس دوران ایک مکان میں چھپے جنگجوئوں نے اندھا دھند طریقے سے گولیاں چالائیں،جس کے دوران محمد سلیم ملک نامی نوجوان جان بحق ہوا۔ اہل خانہ نے پولیس کے اس بیان کو مسترد کیا کہ وہاں سے بھی گولیاں چلائی گئیں۔انہوں نے کہا’’ گزشتہ25برسوں سے یہاں پر اس قسم کی حالت نہیں ہے اور اگر کچھ ایسا ہوتا تو متعلقہ پولیس تھانے کو اس کا علم ہوتا‘‘۔