نوجوان یاتری کی دوران سفر موت

 بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر اتوار کی شام دیر گئے وادی کشمیر سے جموں کی طرف جانے والے ایک موٹرسائیکل پر سوار دو امرناتھ یاتریوں کو چندرکوٹ پولیس نے اس وقت پوچھ تاچھ کیلئے روک لیا جب وہ موٹر سائیکل پر اپنے ایک ساتھی کی لاش لیکر جموں کی طرف جارہے تھے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار تین سواروں میں سے ایک کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے دوران سفر واقع ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کی شام دیر گئے ناشری کے نزدیک معمول کی چیکنگ کے دوران چندرکوٹ پولیس نے ایک موٹر سائیکل کو روکا جس پر سوار تین میں سے ایک سوار مردہ پایا گیا اور موٹر سائیکل پر سوار ڈرائیور اور دوسرے سوار نے اپنے مرے ہوئے ساتھی کو موٹر سائیکل کی سیٹ پر بیچ میں پکڑے رکھا تھا ۔مرنے والے امرناتھ یاتری کی شناخت 20سالہ بلکارسنگھ ولد پرمجیت سنگھ ساکنہ پکی پنڈ ترنتارن پنجاب کے طور کی گئی ہے ۔پولیس کی طرف روکنے کے بعد لاش کو ضلع   ہسپتال رام بن منتقل کیا گیا جبکہ اس کے دونوں ساتھیوں کو چندرکوٹ پولیس سٹیشن پہنچایا گیا اور انہیں پوچھ تاچھ کے بعد پیر کو جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ساتھی کی موت امرناتھ یاترا سے واپس آنے کے دوران واقع ہوئی اور انہوں نے مدد کیلئے شاہراہ ہر بڑی کوشش کی لیکن کوئی بھی گاڑی انکی مدد کیلئے نہیں رکی اور انہوں نے موٹر سائیکل پر ہی لاش کو لیکر جموں پہنچنے کا فیصلہ لیا ۔ انہوں  نے اس کیس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر احمد دین کو بتایا کہ وہ بیس پچیس موٹر سائیکل سواروں کے گروپ کا حصہ ہیں اور انہوں نے اپنے ساتھی بالکارسنگھ کی طبیعت کی ناسازی اور بعد میں ہوئی موت کی خبر انکے گھر والوں کو دی تھی اور اسکے بعد ہم نے لاش لیکر ہی جموں تک کا سفر جاری رکھنے کا فیصلہ لیا اور ناشری ٹنل کے پاس پولیس نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ مرنے والے کے قریبی رشتے دار ہیں اور وہ امرناتھ یاترا کیلئے ایک بڑے گروپ کی صورت میں موٹر سائیکلوں پر امرناتھ یاترا پر آئے ہوئے تھے ۔ پولیس نے بتایا کہ لاش کو تحویل میں لینے کے بعد پیر کی صبح لاش کا پوسٹ مارٹم ضلع ہسپتال رام بن میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے کیا اور بعد میں مہلوک کے رشتہ دار رام بن پہنچے اور قانونی لوازمات کے بعد انہیں لاش حوالے کی گئی ۔ پولیس نے اس معاملے میں174 CrPc کے تحت مزید تحقیقات شروع کی ہے اور پوچھ تاچھ کیلئے روکے گئے مہلوک امرناتھ یاترا کے ساتھیوں کو بھی لاش کے ساتھ جانے کی اجازت دی گئی۔