نوجوان نسل کو موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے:مزاحمتی خیمہ

سرینگر//حریت (ع) ، تحریک حریت ، ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ اور پیپلز لیگ نے پنگلنہ پلوامہ میں جاں بحق ہوئے 3جنگجوئوں اور ایک عام شہری کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ نئی دلی کی جانب سے کشمیر ی نوجوانوںپر ظلم و ستم ڈھانے کے ساتھ ساتھ ان کو پشت بہ دیوار کرنے کی پالیسی سے یہاں کے نوجوانوں کوعسکریت کا راستہ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارئہ کار نہیں رہا ہے اور اس طرح سے کشمیر کی نئی نسل کو موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے جو حد درجہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔حریت (ع) نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی دلی کی جانب سے کشمیر کے نوجوانوںپر ظلم و ستم ڈھانے کے ساتھ ساتھ ان کو پشت بہ دیوار کرنے کی پالیسی سے یہاں کے نوجوانوں کوعسکریت کا راستہ اختیار کرنے کے علاہ کوئی چارہ کار نہیں رہا ہے اور اس طرح سے کشمیر کی نئی نسل کو موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے جو حد درجہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔بیان میںاس بات کو دہرایا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میںتاخیر کی وجہ سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے جنوبی ایشائی خطے میں قیام امن کا ہونا ناممکن ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پس منظر میں یہاں کے لوگوں کی خواہشات و احساسات کے عین مطابق حل کیا جائے تاکہ کشمیر میںہورہے کسی بھی طرح کے جانی و مالی نقصان کے مزید زیاں ہونے سے بچا جاسکے۔بیان میں بین الاقوامی برادری سے ایک بار پھر اپیل کی گئی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں نئی دلی کی جانب سے تاخیری حربوں کیخلاف اپنی آواز اٹھائیں اور نئی دلی پر دبائو بناتے ہوئے اس کے حل کے ضمن میں اقدامات کریں۔ بیان میں معرکہ آرائی کے دوران نہتے مظاہرین پر فورسز کی جانب سے طاقت اور تشدد کے استعمال پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کی جارحانہ پالیسوں کی سخت مذمت کی گئی ۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے معرکہ آرائی میں ایک عام شہری کو گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کئے جانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کو ان معرکوں میں گولیوں کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر دو مسلح گروپوں میں تصادم ہورہا ہو تو کسی نہتے شخص یا مالک مکان کو انتقام گیری کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ صحرائی نے کہا کہ خون خرابہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ متنازعہ مسئلہ کو سیاسی طور حل کیا جانا چاہئے کیونکہ جموں کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور اس کوفوجی طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ خطے میں مستحکم امن و امان قائم کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر کو ایڈرس کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں جن سے کشمیر کے عوام کی قربانیوں کا پاس لحاظ ہو اور مشکلات ومصائب کا خاتمہ فی الفور ہو ۔انہوں نے کہا کہ اگر فوجی طاقت مسئلے کا حل ہوتا تو گزشتہ 71برسوں سے یہ مسئلہ فوجی طاقت کے استعمال سے ختم ہوا ہوتا، مگر فوجی طاقت کے استعمال سے قوموں کے حقوق ختم نہیں کئے جاسکتے ہیںبلکہ تمام فریقین ایک ہی ٹیبل پر بیٹھ کر سلگتے ہوئے مسئلے کو حتمی طور حل کرسکتے ہیں۔ صحرائی نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو تاریخی پسِ منظر میں حل کیا جانا چاہیے۔ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ نے فورسز کی طرف سے نہتے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے قیامت صغریٰ بپا کرکے دوعام شہریوں اور3جنگجوئوںکو جاں بحق کرنے پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے خون کی پیاسی فوج نے سرزمین پلوامہ کو خونِ ناحق سے سیراب کیا۔پارٹی ترجمان نے کہا کہ دنیا کے انصاف پسند اور انسانی حقوق کی پامالی پر احتجاج کرنے والے باضمیر اقوام اور افراد کو جموں کشمیر میں جاری تشویشناک صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔پیپلز لیگ کے سینئر وائس چیئرمین محمد یاسین عطائی نے پلوامہ میں ایک معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہوئے شہری مشتاق احمد کوخراج پیش کیا ہے ۔