نوجوان عسکریت کی راہ اپنانے پر مجبور

سرینگر// حریت (گ)نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جبری طور عسکریت کی راہ اپنانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے اور بھارتی حکمرانوں کی ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے جموں کشمیر کے اطراف واکناف جموں کشمیر کے اطراف واکناف قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہے ہیں۔موصولہ بیان کے مطابق حریت (گ) کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس سیکریٹری جنرل حاجی غلام نبی سمجھی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حریت کی بیشتر اکائیوں کے سربراہوں یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ ابتر سیاسی صورتحال پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ اجلاس کے آخر پر صدارتی خطاب میں غلام نبی سمجھی نے کہا کہ بھارت اگرچہ فوجی طاقت کی بنیاد پر تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لیے مار دھاڑ، قتل وغارت اور گرفتاریوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن ریاستی عوام عزم واستقلال اور صبرو استقامت کا مظاہرہ کئے ہوئے ہے، خاصکر تعلیم یافتہ نوجوان ظلم وجبر کو توڑتے ہوئے اپنے لہو سے تحریک آزادی کی آبیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جبری طور عسکریت کی راہ اپنانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے اور بھارتی حکمرانوں کی ضد اور ہٹ دھرمی والی پالیسیوں کی وجہ سے جموں کشمیر کے اطراف واکناف قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہے ہیں۔ حریت جنرل سیکریٹری نے بھارت اور ریاست کی جیلوں میں پابند سلاسل بیشتر راہنماؤں اور حریت پسند ارکان کی بگڑتی صحت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی فوری رہائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں اور سیاست دانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ کر خلوص اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر مشروط اور بامعنی مذاکرات کے عمل کا انعقاد کرنا چاہئے۔ انہوں نے میونسپل اور پنچایت الیکشن کے انعقاد کو اقوامِ عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ ہونے والے پنچایت الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرکے تحریک آزادی کی آبیاری کریں۔ حاجی غلام نبی سمجھی نے اقوامِ عالم اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر میں ہورہی بدترین انسانی حقوق کی پامالی کو نوٹس لیں تاکہ بھارت انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند کرے۔