نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کا عمل جاری:حریت (ع)

 سرینگر// حریت (ع )نے وادی خاص کر جنوبی کشمیر میں فورسز اور پولیس کی جاری ظلم و تشدد کی کارروئیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سے کھلی سرکاری دہشت گردی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں تعینات بھارتی فورسز خود کو حاصل غیر معمولی اختیارات کا بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کرکے نہتے شہریوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وادی میں خونین واقعات اب روز کا معمول بنتے جارہے ہیںاور یہاں کے نوجوان نسل کو طاقت اور تشدد کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کا عمل جاری ہے تاہم اس طرح کے غیر جمہوری اور غیر انسانی ہتھکنڈوں سے کشمیری آزادی پسند قیادت اور عوام کے عزم کو شکست نہیں دی جاسکتی۔دریں اثناء حریت چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی ہدایت پرسینئر حریت رہنمائوں مختار احمد وازہ، عبد الرشید انتو،غلام نبی نجار ، عبد المجید وانی، جعفر کشمیری نے حالیہ دنوں پلوامہ میں سرکاری فورسز کی بلا جواز فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق کئے گئے کمسن طالب علم فیضان احمد کے گھر واقع کھرو پانپور جاکرموصوف کے والد ڈاکٹر عبد الغنی پوسوال اور ان کے دیگر اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔اس دوران حریت کانفرنس نے مدثر احمد بٹ ساکنہ برزلہ باغات جنہیں فورسز نے ایک معرکہ آرائی کے دوران29 جون کو شمالی کشمیر میں جاں کیا کے لواحقین کو اس کا جسد خاکی دینے سے انکار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کوجاں بحق کرکے اسکا جسد خاکی لواحقین کو حوالے نہ کرنا غیر انسانی عمل ہے۔