نوجوانوں میں ذہنی انتشاراور اسباب و علل

انتشار کا معنی پراگندگی،تتربتر ہونا،گھبراہٹ اور پریشان ہونے کے ہیں۔انتشار سب سے زیادہ نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔آج کے نوجوانوں میں انتشار مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔:ذہنی انتشار،فکری انتشاراور مسلکی انتشار۔
آج ہم صرف ذہنی انتشار کے بارے میں بات کرتے ہیں۔موجودہ دور کے ذہنی انتشار عروج پر ہے۔نوجوانوں کی اکثریت ذہنی انتشار میں مبتلا ہے۔جس نتیجہ یہ نکلتا ہے کئی گھرانے میںتو خاندانی تفرقے برپا ہوجاتے ہیں۔2017 میں ماہرین نے کہا تھا کہ ناخن کترنے کی عادت ذہنی انتشار کی علامت ہے۔ذہنی انتشار روزبروز کم ہونے کے بجائے بڑھتا جاتا ہے۔ماہرین نفسیات بھی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں۔یہ ذہنی انتشار کا ہی وجہ ہے کہ نوجوان پریشان نظر آتے ہیں،نوجوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے،خودکشی کے واقعات روز بروز بڑھ جاتے ہیں۔ذہنی تناو سے ہی نوجون منشیات کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔اس سب کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آج نوجوانوں سے نہ ہمارے بہنیں محفوظ ہے نہ ہمارا باقی سرمایہ۔
اگر ہم چند سال پہلے نظر ڈالیں گے تو ذہنی انتشار کم پایا جاتا تھا مگر آج ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ آج کے دور میں وہ نوجوان کم نظر آتے ہیں جن میں ذہنی انتشار نہ ہو۔جب والدین، اساتذہ،یا طبی ماہرین نوجوانوں کی یہ حالت دیکھتے ہیں تو وہ بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔
ہر کسی پریشانی کا کوئی نہ کوئی وجہ ہوتا ہے۔اس بڑھتے ہوئے ذہنی انتشار کے بھی کچھ وجوہات ہونگے،جن کا جاننا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے۔
1۔سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی بیشتر تعداد نے اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے دوری اختیار کرلی ہے۔ظاہر ہے  جب ہماری نوجوان نسل اس کائنات کے خالق و مالک یعنی اللہ تعالیٰ اوراُس کے آخری پیغمبریعنی ہمارے پیارے نبی جناب حضرتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی دوری اختیار کرینگے تووہ بھلا کیسے خوش رہ سکتے ہیںبلکہ اُن کا یہ ذہنی انتشار دن بہ دن بڑھتاجائے گا ۔اسی لئے ہم یہی کہیں گے کہ ذہنی انتشار سے نجات پانے کے لئے سب سے پہلےاپنے خالق و مالک ربّ الجلا ل جلہٗ شانہ اور اُس کے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔اطاعت ِ رب اور اطاعت ِ رسول ؐ سمجھنا ہوگا اور کسی بھی صورت میں اللہ اور رسول اللہؐ کی تعلیمات کو نظر انداز نہیں کرنا ہوگا۔ہاں !اگر غفلت میں یہ غلطی ہم سے ہوئی بھی ہوگی تو بھی ہمیںجلد از جلد حدود ِاللہ میں آنے کی بہت زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ ہم اخباروں،رسائل یا آج کے دور میں زیادہ تر سوشل میڈیا پر دیکھتے رہتے ہیں کہ کئی سی شخصیات کہتے ہیں کہ ہم ذہنی پریشانی میں مبتلا رہنے کی وجہ سےمختلف بیماریوں کے شکار ہوجاتے تھےتو ماہرین کے مشورے بھی ہمارے کام نہیں آتے،لیکن جب نے بالآخر اپنے اللہ اور اپنے رسول ؐ کی طرف لَو لگائی تو ہماری ذہنی پریشانیاںخود بخود دور ہوتی چلی گئیںاور دیگر بیماریوں سے بھی چھٹکارا ملا۔ذہنی طور بیماریوں کے شکار مریضوں کا کہنا ہےکہ نفسیاتی ماہرین سے بھی نااُمید ہوکر ہم نے اللہ اور رسول اللہؐ سے اُمید باندھی اور پھرجب ہم نے ان کی تعلیمات کی طرف رجوع کیا تو خودبخود ہم نے اس پریشانی سے آزادی پائی۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر استقامت دکھائی، انہیں کوئی غم اور خوف نہ ہوگا۔‘‘
2۔دوسری وجہ غلامی کا ہے۔جب ایک قوم کا نوجوان دوسرے قوم کا غلام ہوتا ہے تو ان میں ذہنی انتشار بے حد بڑھ جاتا ہے۔جب ایک قوم دوسری قوم کی غلامی میں ہوتی ہے تو غالب قوم خدائی کا دعویٰ کرنے لگتی ہے،توپھرنہ صرف ذہنی انتشار بڑھ جاتا ہےبلکہ فتنہ اور فساد برپا ہوجاتت ہیں۔اسی لئے مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی علیہ رحمہ لکھتےہی"فتنہ کی اصل جڑ اور فساد کا اصل سرچشمہ انسان پر انسان کی خدائی ہے"۔
3۔سوشل میڈیا:سوشل میڈیا بھی ذہنی انتشار کی اور ایک وجہ ہے۔ ممتاز ماہر نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا کاحد سے زیادہ استعمال ذہنی اختلاط کا سبب بن سکتا ہے ۔ کنگز کالج لندن کی پروفیسر فلیپا گیریٹی کا کہنا ہے کہ" ڈیجیٹل دنیا ہمارے معاشرے کو اس طرح تبدیل کر رہی ہے کہ ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہورہا ہے کے ہماری نگرانی کی جا رہی ہیں ۔ ہم جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں ،لوگ اس کی کھوج میں لگے رہتے ہیں ۔ ہماری تمام سرگرمیاں انٹرنیٹ کے ذریعے کسی نہ کسی طرح ریکارڈ ہو رہی ہوتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنے تحفظ کے لیے پریشان رہنے لگے ہیں "۔ ذہنی صحت سے متعلق ایک فلاحی تنظیم کے مطابق دماغی خلل والے خیالات سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں وہم اور وسوسے بہت بڑھ سکتے ہیں ۔ 
پروفیسر گیریٹی کے مطابق سوشل میڈیا سے سب سے زیادہ خطرہ نوجوان نسل کو ہے کیونکہ وہی اسے سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے ۔ ایک سماجی تنظیم کے مطابق وہ نوجوان افراد جو خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،اس میں ان سماجی ویب سائٹس کا اہم کردار ہے ۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ہسپتالوں میں پہنچنے والے ان بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہوں نے خود کو نقصان پہنچایا ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ مستقل ذہنی دباؤ ہے ۔ سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کو حقیقت پسندی سے دور لے جاتا ہے اور وہ ایک پرفیکٹ اور بے عیب زندگی کی تلاش شروع کر دیتے ہیں .  وہ زندگی کو اعلی ترین معیار کے مطابق گزارنا چاہتے ہیں اور حقیقت میں وہ معیار زندگی نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہوکر خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دوستوں سے ہر وقت رابطے میں رہنا چاہتے ہیں ،جس کے باعث وہ اپنے ضروری کاموں کے لیے بھی وقت نکال نہیں پاتے ۔ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ تمام رات سوشل میڈیا پر صرف کرنے کے باعث نیند پوری نہیں ہوتی جو ذہنی دباؤ اور  مستقل تھکن کا باعث بنتی ہے .  یہ تمام چیزیں ذہنی انتشار اور دماغی خلل کا محرک بنتی ہیں اور انسان کو مثبت طرز زندگی سے دور لے جاتی ہیں۔
 یہ نوجوانوں میں ذہنی انتشار کے کچھ وجوہات تھے۔اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں جن کی طرف ماہرین کو متوجہ ہونے کی اہم ضرورت ہے۔
رابطہ۔9149897428