ننگے حمام کے

مشہور  فلمی اداکارسنجے دت ،جس کو اے کے فورٹی سیون رائفل رکھنے کی پاداش میں ابھی حال ہی میں دس سال بعد عدالتی کارروائی کے بعدایک فیصلے میں جیل کی سزا ہوگئی ، کی ماں کانام نرگس تھا۔ وہ بھی اپنے وقت کی ایک مشہو رفلمی اداکارہ تھی ، جس کی فلمیں برساتؔ، آرزوؔ، میلہ، آوارہؔ، آہؔ، شری چار سو بیس ؔ، مدرانڈیاؔوغیرہ سُپر سُپر ہٹ ثابت ہوئیں۔نرگس کا اصلی نام کنیز فاطمہ تھااور اس کی ماں جدن بائی ممبئی کی ایک مشہور طوائف تھی۔ اُس کا مُجرا سُننے کے لئے کئی لوگ آتے تھے جن میں اُس زمانے کی کچھ مشہورشخصیتیں بھی ہواکرتی تھیں ۔ چونکہ جدن بائیؔ کومعلوم تھاکہ نرگس ایک مسلمان باپ کی اولاد ہے، حالانکہ اُس نے اُس کے باپ کا نام کبھی ظاہر نہیں کیا، اس لئے وہ چاہتی تھی کہ نرگس ساز وآواز اور گلیمر کی دُنیا سے دُور کسی عزت دار اور شریف گھرانے کی دُلہن بنے ۔اس سلسلے میں جدنؔ بائی کی محفل میں آنے والوں میں سے ایک سیّدخاندان کے نوجوان بھی ہوا کرتے تھے ۔جدن بائی کی نظرِ انتخاب اُسی شریف زادے پر تھی ۔ میں اگر اُس کا نام ظاہر کروں تو لوگ مجھ پر حکم کفر کا فتویٰ لائیں گے مگر حقیقت بہرحال حقیقت ہی ہوتی ہے ۔چونکہ موصوف ایک بہت بڑے اور جلیل القدر خانوادے کے چشم وچراغ تھے ،اس لئے وہ بیل منڈھے نہیں چڑھی ۔ نرگس ؔ فلمی دنیا کی زینت بن گئی اور سید صاحب نے ممبئی کوخیرباد کہہ کر اپنا آبائی پیشۂ درس وتدریس ،وعظ وتبلیغ اور اشاعت دین کا کام سنبھال لیا۔
تمہید ایک جملہ معترضہ کی صورت میں لایا گیا جس سے یہ بتانامقصود ہے کہ جدن بائی ایک طوائف تھی، پیشے کے لحاظ سے وہ کیا تھی مگر نرگسؔ کے لئے وہ ایک ماں تھی ، اسی لئے چاہتی تھی کہ اُس کی بچی عزت دار گھر کی فرد بن جائے ، تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک عورت بداخلاق ہو، بدشکل وبدوضع ہو، بدزبان وبدمزاج یا بدکردار ہو ، وہ اُس کی ذاتی حیثیت ہوگی مگراپنے بچے کے لئے وہ منجملہ صرف اور صرف ایک ماں ہوگی ۔
جہاں تک ماں کی عظمت وتقدس کا تعلق ہے اس کے لئے رب العالمین نے کوئی پیش شرط نہیں رکھی ہے ۔مطلب کہنے کا یہ ہے کہ رب کائنات نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک ماں فلاں فلاں صفت کی حامل ہے، اُس کے لئے رب العالمین نے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی ہے ۔مراد یہ ہے کہ رب کائنات نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک ماں فلاں فلاں صفا ت سے متصف ہونی چاہئے تاکہ اُس کو جنت پانے کا وسیلہ قرار دیا جاسکے۔ گویاماں کے قدموں کے نیچے اگر جنت رکھی گئی ہے ،اُس کے لئے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی گئی ۔ ایک عورت ذاتی حیثیت میں کیا ہے ،کیا کرتی ہے ، کیسے کرتی ہے ، خوش خلق ہے یا بداخلاق ، مومنہ ہے یادہریہ ، چراغِ خانہ ہے یا شمعِ محفل ، باکردارہے یا کُلٹا، اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بچے کے لئے وہ فقط ایک ماں ہوتی ہے اور بچہ ماں کی ذاتی زندگی سے قطع نظر ماں کی خدمت وتابعداری ، ادب و احترام اور ہر حکم بجالانے کا پابندہے۔اگر وہ چاہتاہے کہ دینوی زندگی کے ساتھ ساتھ اُس کی اُخروی زندگی میں بھی اُس کے لئے شادیانے بجیں۔
یہ بات بہرحال بتانے یا سمجھانے کی نہیں ہے کہ ماں ایثاروقربانی کا ایک مجسّمہ ہوتی ہے۔ ماں اپنے بچے کے حمل کے دوران ،بچہ جننے کے وقت اور اُسے دودھ پلا کرپال پوس کر بڑا کرنے کے دوران کیا کیا کرتی ہے ،اور کتنی تکلیفیں اُٹھاتی ہے ، کیا کیا پاپڑبیلتی اور خود کن مراحل اور تکالیف سے گزرتی ہے، یہ بس ماں ہی جانتی ہے ، ماں ہی سمجھتی ہے۔کہتے ہیں ایک بار ایک صحابیؓ اپنی اپاہج ماں کو کندھے پر اُٹھاکر خانۂ کعبہ کا طوف کرارہا تھا۔ دوسرے صحابہؓ نے اُس کا یہ عمل دیکھ کر اُس کی بڑی تعریف وتوصیف کی اور ہوتے ہوتے یہ بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی ۔ انہوں نے سنا نے والوں کی تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مذکورہ صحابیؓ نے کوئی اتنا بڑا کام نہیں کیا جو آپ لوگ اُس کے لئے رطب اللسان ہیں ۔یادرکھیں ماں کے دردزہ کی ایک کراہ کا نعم البدل بھی اُس شخص سے ادا نہیں ہوا،چہ جائیکہ اُس نے ماں کی کوئی بڑی خدمت کی ۔
عام طور پردیکھا گیا ہے کہ بڑھاپے میں والدین بچوں کے لئے بوجھ بن جاتے ہیں ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنے بچوں کو پروان چڑھانے میں پالن پوشن اور تعلیم وتربیت دینے میں دن رات ایک کرتے ہیں ، آرام حرام کرتے ہیں او راپنے قیمتی وقت کا تیاگ دے کر بچے کا مستقبل اُن کی زندگی کا مطمح حیات بن جاتاہے ، اُسی انداز سے یا غالباً اُن سے بڑھ چڑھ کراُن کے والدین نے بھی اُن کے لئے کیا ہوگا۔ چلو مان لیتے ہیں کہ بوڑھے کانٹے ہیں ۔ٹھیک ہے کانٹے ہی سہی مگر وہ بھی تو آپ ہی کے گلستانوں سے ملے ہیں۔ کبھی یہ نافہم بچے جو اپنے والدین کو نظرانداز  (Ignore)کرتے ہیں ،چمن کے پھول تھے اور والدین چمن کے مالی ہوا کرتے تھے مگر اب کیا ہوا، کیا بات ہوئی جو بیٹھے بٹھائے والدین کھٹکنے لگے؟
ہم ماں کے بارے میں بات کررہے تھے ۔ ماں کی عزت وعظمت مقدم ہے۔ماں کی خدمت فرض ہے او رکبھی کبھی واجب فرائض کو چھوڑ کر بھی ماں کی خدمت کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ابتدائے اسلام میں ایک بار ایک صحابی ؓ جہاد کے لئے جانا چاہتے تھے مگر جب معلوم ہوا کہ گھر میں والدہ اکیلی ہے اور اُس کی خبرگیری کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے تو حضور صلعم نے صحابی ؓ کو جہاد پر جانے سے روک کرماں کی خدمت کرنے کی ہی صلاح دی۔
ہم آئے دن اخباروں میں اس بات کے اشتہار دیکھتے ہیں کہ ماں کے لئے ایک خادمہ کی ضرورت ہے ،تنخواہ معقول دی جائے گی ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اشتہار دینے والا دنیا میں اکیلا بھی ہوگا تب بھی اُس کے لئے ایسا اشتہار زیب نہیں دیتا کیونکہ جنت حاصل کرنے کے لئے ماں کی خدمت سے بڑا اور کیا کام ہوسکتاہے اور بغیر بہت زیادہ محنت کئے ہی وہ ایک ایسے خیر سے سرفراز ہوسکتاہے جس کے لئے جتنی بھی عبادت کی جائے کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا،جب تک رب کا فضل وکرم شامل حال نہ ہو۔ افسوس کا مقام ہے کہ خود میاں بیوی سات سمندر پاجاکر موج اُڑاتے ہیں اورماں کے لئے خادمہ کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔ایسے ڈاکٹروں ،انجینئروں اور دیگر بزنس مینوں یا زندگی کے مختلف شعبہ ہائے روزگار سے تعلق رکھنے والے کارپردازوں جو ملک سے باہر زیادہ سے زیادہ دھن کمانے کے چکر میں سرگرداں ہیں ، سے میں مودبانہ عرض کرناچاہوں گا کہ کیا دنیا میں پیسہ ہی سب کچھ ہے ؟ قحط کے ایام میں کیا نوٹوں کوکھایا یا چبایا جاسکتاہے ؟ اگر ایک بندے کی کیپسٹی(Capacity) آدھا سیر اناج ودیگر فواکہات کھانے کی ہے ، زیادہ پیسہ آنے سے چلو مان لیتے ہیں کہ وہ دوسو گرام، چار سو گرام کھانا زیادہ کھائے گا۔ عام آدمی کی نسبت ایک اچھا مکان بنائے گا اور ہزار لوگوں کے مقابلے میںاُس کا پہناوا زیادہ اچھا یا دیدہ زیب ہوگا۔کیا اِسی معمولی آسائش کے لئے وہ ماں کی شفقت اور دعائوں اور اُس دائم وقائم انعام سے ونچت ہورہے ہیں جو ماں کے قدموں کے نیچے ہے ؟ہائے… ہائے…افسوس۔!یاد رکھناچاہئے یہ ایک قاعدہ ٔکلیہ ہے کہ کل وہ بھی اس حمام میں ننگے نظر آئیں گے جو آج خود انہوں نے تعمیر کیاہے ۔
……………
رابطہ:- پوسٹ باکس :
691جی پی او  سرینگر-190001،کشمیر
 موبائل نمبر:-9419475995 
