ننگی ٹہنی

 تیس پنتیس کی بات ہی نہیں، اگر صرف ایک ہی بشر مارا جاتا تب بھی میرے دل میں اتنا ہی درد ،رنج و ملال اورغم و غصہ رواں ہوتا جتنا چند برس قبل چھٹی سنگھ پورہ مٹنؔمیں ہلاک کئے گئے پنتیس سکھوں پر ہوا تھا۔اس جذبے سے معمور میں ہی کیا کوئی بھی انسان ،کوئی بھی دھرم اور کوئی بھی جماعت ہوسکتی ہے ،کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل اور زندگی پوری انسانیت کی زندگی کے مترادف ہے۔دنیا میں ایک انسانی ہاتھ ہر ایک چیز کو پیدا کرسکتا ہے کیونکہ رب العالمین نے اُسے فہم وفراست سے مالا مال کیا ہے ،مگر انسان صرف ایک انسان کو نہیں بنا سکتا ۔انسان کے منفرد مقام کی وجہ سے اُس کا شمار حد درجہ معزز،معظم ،بلند و بالا اور برتر از دیگر مخلوقات ہے ۔دنیا میں کیا نہیں ہوسکتا ،کیا نہیں مل سکتا ، مگر ایک انسان مرگیا ،فنا کے گھاٹ اُتر گیا پھر وہ دوبارہ نہیں مل سکتا ۔کبھی نظر نہیں آسکتا ۔
اُس درد ناک سانحے کے موقعہ پر مٹن کشمیر میں سکھوں کو تسلی دینے اور مالی معاونت کرنے کے لئے سب پیش پیش تھے بلکہ چوٹ یہاں لگی درد کنیڈا ؔاور یورپؔکے دوسرے حصوں میں محسوس ہوا،محسوس کیا گیا۔آفرین ہے اُن انسانیت کے بہی خواہوں پر۔ہر اخبار ،ہر جریدے اور دنیا بھر کے ریڈیو ،ٹی وی سٹیشنوں پر سے خبریں نشر ہونے کے ساتھ ساتھ اُس المیہ کی پُر زور الفاظ میں مذمت کی گئی۔ذاتی طور پر ریاستی اعلیٰ حکام ،منسٹر صاحبان کے علاوہ سیاسی اور سماجی تنطیموں کے سربراہان ،سابقہ مرکزی وزیر داخلہ ،پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ،گودوارہ پربندھک کمیٹی کی سربراہ بی بی جاگیر کور ،سکھ لیڈر گورچرن سنگھ تورؔا،سمرت جیت سنگھ مان ،ؔسابق مرکزی وزیر راجیش پائلٹ ،مدن لال کھورانہ ،چمن لال گپتا ،حریت کانفرنس کے سر براہان سیدعلی گیلانی ، مولوی عمر فاروق ،فریڈم پارٹی کے قائد شبیر احمد شاہ،نیشنل فرنٹ کے سربراہ نعیم خان وغیرہ وغیرہ نے بھی غم زدہ گھرانوں کو تسلی دی اور واقعے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ دُکھی خاندانوں کے دُکھ میں اپنے آپ کو شامل کرلیا ۔ایسا تو کرنا ہی تھا کیونکہ ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شامل ہونا تو انسانی اقدار کا بنیادی تقاضا ہے مگر حق بات یہی ہے کہ بچھڑنے والے مظلوم اور بے قصور مقتولان نے جو زخم اپنے لواحقین کے لئے چھوڑے وہ کم از کم اُن کی حیات مستعار تک کبھی بھی مندمل نہیں ہوسکتے ہیں۔
وادیٔ کشمیر کے عوام الناس جسے عام بول چال میں ریاست کا اکثریتی فرقہ کہا جاتا ہے ، اُن کا بھی قتل عام ہوا ۔ایک بار نہیں۔۔۔۔۔بیسیوں بار۔۔۔۔۔بار بار ۔۔۔۔گائوکدل مائسمہ میں، شہر خاص مشعلی محلہ میں میر واعظ کے ماتمی جلوس پر،زکورہ میں ،ہندوارہ اور سوپور میں ،بانڈی پورہ اور گاندربل میں،بجبہاڑہ اور پلوامہ میں،اسلام آباد اور اُس کے مضافات میں،وادی کے چپے چپے پر ،ہر گلی اور ہر محلے میں،سن ترپن سے لے کر آج تک برابر۔۔۔۔جو شہید ہوئے ،اُن کو ہمارا سلام۔جو اپاہچ ہوئے،جو اندھے ہوئے وہ ہمارے دلوں کے داغ بن کر رہ گئے مگر کسی ایک غیر مسلم بھائی نے ان واقعات کی مذمت نہیں کی ۔ کوئی تسلی کے دو بول کہنے کے لئے ،دوسری ریاستوں سے چل کر یہاں نہیں آیا ۔کسی نے اُجڑے گھروں اور لُٹے پِٹے خاندانوں کی باز آباد کاری کے لئے ایک پیسہ تک نہیں دیا ۔ ہزاروں گھر خاکستر کئے گئے ،ہزاروں دوکانیں اور ذریعہ معاش کے وسائل تباہ و برباد کئے گئے مگر کسی ریڈیو اور ٹی وی چینل نے خبر نشر نہ کی ۔کسی باہری اخبار یا جریدے نے بشری حقوق کے تعلق سے ہوئی کسی زیادتی کی مذمت نہ کی۔جو کچھ کیا ہم نے خود کیا ۔اپنے ہی لوگ آگے بڑھے ،ہر موقعہ پر ،ہر دکھ اور تکلیف کی گھڑی میں اپنے لوگوں نے آکر مظلوموں کے ہاتھ تھام لئے،راحتیں مہیا کیں ،لنگر کھولے،حد یہ کہ ہم نے اپنے قاتلوں کے لئے بھی لنگر کھولے اور خود مصیبت میں پڑے مصیبت زدوں نے اُن کی مدد کی۔ہم نے یاتریوں کا زادراہ جٹایا اور حادثہ کے شکار لوگوں کو اپنا خون دیا ۔ظلم و زیادتی اور استحصال پر واویلا کیا تو اپنے لوکل اخباروںنے۔اُن کو استحصالی عناصر سے دھمکیاں بھی ملیں مگر انہوں نے اپنی بے خوفی اور بے باکی کا ثبوت ہر حال میں دیا ۔
آخر وجہ کیا ہے؟کیا مسلمان اتنا بُرا ہے کہ اُس کا وجود زمین پر بوجھ تصور کیا جاتا ہے اور اُسی وجہ سے اُس کی نسل کشی کی جارہی ہے ؟موجودہ زمانے میں دراصل مسلمان کی حالت بڑی پتلی ہے ۔دنیا میں نہ اُس کا کوئی ندیم ہے نہ غمگسار !تقدیر نے اُسے تاک تاک کر نشانہ بنانے کی جیسے ٹھان رکھی ہے ۔وہ دور بھاگنا چاہتا ہے مگر بھاگ نہیں پاتا ۔جن شعلوں سے وہ دور رہنا چاہتا ہے ،جن کانٹوں سے اپنا دامن بچانا چاہتا ہے ،وہ کانٹے لپک لپک کر اُس کا دامن پکڑ رہے ہیں۔اُس کی زندگی گلاب کی اُس ننگی ٹہنی کی طرح ہوگئی ہے جس سے پھول پتیاں جھڑجانے کے بعد صرف کانٹے ہی رہ گئے ہوں اور وہ کانٹے دوسروں کو چبھتے نہیں بلکہ اُس کے اپنے وجود کو ہی خار زار بنائے ہوئے ہے۔غیروں کی نظروں میں وہ صرف ایک کانٹا ہی رہ گیا ہے جس کے نہ جانے کتنے نام رکھے گئے ہیں۔
جہاں تک قصور کا تعلق ہے ،مسلمانوں کا ایک بہت ’’بڑا قصور‘‘ اُس کی دینی اساس ہے۔اُس کی خدا پرستی ہے ۔مسلمان اخوت ،بھائی چارے اور ایک عالمی برادری میں یقین رکھتا ہے اور اُس کا پرچار بھی کرتا ہے جب کہ دیگر اقوام عام طور پر نسل پرستی کے شکار ہیں۔مسلمان بھنگی،بڑھئی ،کہتر مہتر ،سپاہی ،سید ،راجہ اور رنگ کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتا ہے اور بہتری یا برتری کی تفریق کو مٹا ڈالتا ہے ،مگر یہ بات گوری چمڑی والا کیسے جان سکے گا جو کالی چمڑی والے کے لئے انتہائی نفرت رکھتا ہے اور آئے دن اُس پر حملہ آور ہوتا ہے ؟یہ بات متعصب تلکا دھاری کیسے سمجھ سکے گا جو مذہبی کتب کے بول دلت کی زبان سے نکلنے پر اُس کی زبان کی قاشیں کرتا ہے؟یہ بات نیلا تارا نشان رکھنے والا کیسے دل میں اُتا رے گا جو سلمان رُشدی اور انور شیخ جیسے انا کونڈا کودودھ پلاکر مسلمانوں کو ڈسنے کے لئے تیار کرتا ہے۔اگر یہ لوگ سمجھتے یا سمجھ کر ناسمجھ نہ بنتے تو آج بوسنیاؔ،چیچنیاؔ،تھائی لینڈؔ،برماؔ،عراقؔ،فلسطینؔ،افغانستانؔ،شام ؔ،لیبیاؔ،چینؔ،اور کشمیرؔوغیرہ جیسی قتل گاہیں بے بس و بے کس معصوم مسلمانوں کے مقتل نہ ہوتے ۔مسلمان کو سر اٹھاکر چلنے کا یارا ہوتا۔مسلمان مملکتیں بے دست و پا ہوکر گورروں کی جی حضوری میں نہ لگی ہوتیں ۔ورلڈ پولیس مین مسلمان مملکتوں کے قضا و قدر کا مالک نہ ہوتا ۔چُن چُن کر مسلمان ممالک کا بخیہ اُدھیڑ کر نہ رکھتا ۔ہر اُبھرنے والی سچی آواز کا قلع قمع نہ کرتا اور کسی بھی ملک کی مقتدر مسلم شخصیت پر جھوٹے اور نام نہاد مقدمے ٹھونس کر اپنے ملک کے عقوبت خانوں میں ڈال کر اُن کی زندگی میں زہر نہیں گھولتا اور اُن کی حالت مُردوں سے بدتر نہ بناتا ۔بقول عبدالرحیم نشترؔ    ؎
ہر طر ف ارزاں ہے اس دنیا میں اپنا ہی لہو 
چاہے پینے کے لئے ہو یا بہانے کے لئے
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر-190001،کشمیر،
  موبائل نمبر:-9419475995 
�����