نماز ِتراویح کے تقّدس کو بچانا ضروری

جاوید اختر بھارتی
کیااب ہر چیز کو اپنے من پسند اور اپنی خواہش کے مطابق انجام دیا جائے گا، شادی کارڈ میں نکاح مسنون لکھ کر اعلان کردیا جاتا ہے کہ ایک بابرکت تقریب یعنی سنت کا اہتمام ہوگا اور انعقاد ہوگا مگر اسی کی آڑ میں بارات، کہیں ناچ گانا تو دیگر مختلف قسم کے بےہودہ رسمیں ایجاد ہو گئیں۔ مطلب دیکھا جائے تو فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ نکاح اتنا آسان کرو کہ زنا مشکل ہوجائے مگر اُمّت نے اسے تقریر و تحریر تک محدود کردیا اور عمل سے منہ موڑ لیا، نتیجہ یہ ہوا کہ نکاح، شادی بیاہ دن پر دن مشکل سے مشکل ہوتا چلا جارہا ہے، یہاں تک کہ غیر بھی اب ہمارا مزاق اڑانے لگے ہیں لیکن ہم ہیں کہ نام و نمود و نمائش اور شہرت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اسی کو اپنی کامیابی اور عزت سمجھتے ہیں۔ عید الاضحی کا چاند نظر آگیا تومالک نصاب کے لئے قربانی واجب ہے، بیشک قربانی واجب ہے لیکن اس میں ریا کی گنجائش نہیں ہے، نمائش کی گنجائش نہیں ہے مگر اس موقع پر قربانی کے جانور خریدتے وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ راقم یہ نہیں کہتا کہ ہر مسلمان ایسا ہی کرتے ہیں مگر اکثریت تو ایسی ہی نظر آتی ہے جو اپنے جانوروں کا خوب پرچار پرسار بھی کرتے ہیں اور اپنے سے کمزوروں کی دلآزاری بھی کرتے ہیں، قربانی سے متعلق ساری ہدایات بھی تقریر و تحریر تک محدود ہو گئیں ۔

رمضان کا چاند نظر آیا ،ہر طرف چہل پہل میں اضافہ ہوگیا، دکانیں سجنے لگیں، مساجد میں نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی، سحری و افطار کا اہتمام ہونے لگا، عصر بعد سے افطاری کے دسترخوان کو سجانے کے لئے بھاگ دوڑ ہونے لگی اور بعد نماز عشاء تراویح کا اہتمام بھی ہونے لگا ،یہ حقیقت ہے کہ بیچ میں تراویح پڑھنے والوں کی تعداد میں بہت کمی آگئی تھی مگر الحمدللہ تقریباً دس سے تراویح کی نماز میں زیادتی ہوئی ہے ،بوڑھے جوان سب نماز تراویح پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر ہاں خشوع و خضوع میں کمی دکھائی دیتی ہے اور اس کی ذمہ داری انہیں لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو تراویح پڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

ہاں !سارے حفاظ کرام ایسے نہیں ہیں بلکہ آج بھی حفاظ کرام کی بڑی تعداد ایسی ہے جو قابل احترام ہیں اور قابل قدر ہیں جو مصلے پر کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں مقتدیوں کا خیال رہتا ہے مگر اب ایسے حفاظ کرام کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے جو تین دن، سات دن میں تراویح ختم کردیتے ہیں۔ ایک ایک دن میں آٹھ آٹھ دس دس پارے پڑھتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا قرآن پڑھنے کا یہی طریقہ ہے؟ جبکہ قرآن خود قرآن پڑھنے کا طریقہ بھی بتایا ہے کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، اطمینان سے پڑھو تاکہ قرآن پڑھنے والے کے اور قرآن سننے والے، دونوں کے دل و دماغ پر اور اس کی زندگی پر قرآن کے اثرات مرتب ہو سکے۔

ساڑھے چودہ سو سال پہلے کے حالات دیکھئے، طفیل طوسی کانوں میں روئی ٹھونس کر چلتے تھے کہ قرآن کی آواز کانوں میں نہ پڑے مگر ایک دن نماز ہو رہی تھی، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم امامت فرمارہے تھے تو طفیل چھپ کر قرآن سن رہے تھے اور قرآن سنتے  ہی بےچین ہو گئے جیسے ہی نماز مکمل ہوئی، آقا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہؐ مجھے کلمہ پڑھائیے غرضیکہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل کی دُنیا بدل گئی ، اسلام کا مقدس شامیانہ نصیب ہوا اور کفر سے چھٹکارا حاصل ہوا ،نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی حاصل ہوئی۔

آئیے عبداللہ ذوالبجادین کا حال دیکھئے۔ جنگل میں بکریاں چرا رہے ہیں ،صحابہ کرام کا اُدھر سے گذر ہوتا ہے زبان پر قرآن مجید کی تلاوت ہے اور تلاوتِ قرآن کی آواز عبداللہ ذوالبجادین کے کانوں میں جاتی ہے۔ عجیب و غریب کیفیت ہوتی ،فوراً اپنے آپ کو تبدیل کرتے ہیںجو آیتیں سُنیں، وہ مسلسل گنگناتے ہیں۔ چچا کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے قرآن سے اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ چچا نے کہا کہ تو قرآن سے رشتہ جوڑے گا ارے تیرے سر پر پگڑی، جسم پر چادر و قمیص، پیروں میں چپل سب کچھ میرا ہے اور اب تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں، چل یہ سب کچھ میرے حوالے کر ۔عبداللہ ذوالبجادین نے پگڑی، قمیص، چادر، چپل اپنے چچا کے حوالے کردیا، اب چچا کہتا ہے کہ تہبند بھی میرا دیا ہوا ہے، اسے بھی واپس کر۔ تب عبداللہ ذوالبجادین نے کہا کہ اے چچا! میں نے اتنے دنوں تک آپ کی غلامی کی ہے، آپ کی خدمت کی ہے، بدلے میں کم از کم تہبند نہ اتروائیں، ہو سکے تو اتنی دیر تک میرے اوپر یہ تہبند رہنے دیں کہ میں گھر جاکر دوسرا کپڑا پہن لوں اور آپ کا تہبند واپس کردوں۔ چچا بولا کہ چل تو جو کہتا ہے تو اتنی دیر تک قرآن سے رشتہ توڑدے، اسلام سے رشتہ توڑدے۔ اتنا سننا تھا کہ عبداللہ ذوالبجادین کی غیرت ایمانی جوش سے بھڑک اٹھی، نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں اور تہبند کھول کر چچا کے منہ پر پھینک دیا اور پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اب میں مومن ہوا، اب میں مومن ہوا۔ یہ اثرات مرتب ہوتے تھے قرآن کے اور وہ بھی ان کے اوپر جو حالتِ کفر میں ہوتے تھے۔ اور آج تو خاندانی مسلمان، پیدائشی مسلمان مصلے پر کھڑے ہوکر ایسے قرآن پڑھتے ہیں جیسے پوری رفتار میں گذرتی ہوئی ریل کی بوگیاں گننا دشوار ۔اسی طرح قرآن کی آیات سننا، سمجھنا بھی دشوار۔ مقتدی کا حال یہ ہے کہ گنے چنے لوگ نیت باندھے ہیں ،باقی بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب دوسری رکعت کے رکوع کی تکبیر ہو، جیسے ہی رکوع کی تکبیر ہوئی گھم گھم نیت باندھ کر لوگ رکوع میں چلے گئے، امام نے سلام پھیرا تو یہ لوگ کھڑے ہوکر چھوٹی سی سورۃ یا چند آیتیں پڑھ کر دوسری رکعت پوری کرلی۔ بتاؤ، کیا اسی کو خشوع و خضوع کہتے ہیں؟

ارے حد ہوگئی اب تو سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالی جانے لگی فلاں صاحب تین دن میں تراویح ختم کریں گے، فلاں صاحب سات دن میں تراویح ختم کریں گے اور کچھ تو خود اپنے آپ اعلان کرتے ہیں کہ میں کئی سال سے سات دن کی تو تین دن کی تراویح پڑھاتا ہوں، امسال بھی سات دن کی تراویح پڑھاؤں گا اور ساتھ ہی ساتھ کہتے ہیں کہ مختلف علاقوں کا سفر کرنا ہوتا ہے، مالی فراہمی کی ذمہ داری بھی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگر ضروریات قابل ترجیح ہیں یا شریعت کے مطابق اصول و ضوابط قابل ترجیح ہیں؟ چاہے کوئی کچھ بھی کہے لیکن راقم کا یہی کہنا ہے کہ تین دن، سات دن، دس دن کی تراویح پڑھانا اور قرآن مکمل کرنا یہ قرآن کا مزاق اڑانا ہے، تراویح کو ریڈیمیڈ بنانا ہے۔ اگر ایسا کرنے والوں کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا تو وہ دن دور نہیں کہ اکثریت میں دس دن کے اندر مساجد میں تراویح ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور پھر یہی رائج بھی ہو جائے گا ،اس کے بعد مساجد بعد نماز عشاء خالی ہوجایا کریں گی، پتہ نہیں کس نے شروعات کی تھی دو رکعت فرض نماز جمعہ پڑھ کر مسجد سے نکل جانے کی، نتیجہ یہ ہوا کہ آج بھی جمعہ کی دو رکعت فرض کے بعد آدھی مسجد خالی ہوجاتی ہے۔ اس لئے ہر ناقص کارکردگی پر ابتدائی ایام میں ہی روک لگانا ضروری ہے ۔

قرآن مقدس مکمل ضابطہ حیات ہے، اسلام کا آئین، عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے، جس کا مقام اور مرتبہ اتنا بلند ہے کہ جس بستی میں نازل ہوا، اُسے ام القریٰ کا درجہ دیا گیا۔ جس مہینے میں نازل ہوا اُسے سید الشہور کا درجہ دیا گیا۔ جس رات میں نازل ہوا اُسے ہزار راتوں سے افضل قرار دیا گیا۔ جو فرشتہ قرآن کی آیات لے کر بارگاہ نبویؐ میں حاضر ہوتا تھا اُسے سید الملائکہ کا درجہ دیا گیا اور جس ہستی پر نازل ہوا اُنہیں اللہ نے سید الانبیاء و سید المرسلین، افضل البشر، سید البشر اور خیر البشر بنایا۔ جبکہ خود قرآن کا ہی اعلان ہے کہ پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو پہاڑ تھرا اُٹھتا، ریزہ ریزہ ہوجاتا۔

یاد رکھیں کہ ان ساری خصوصیات کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی کے مطابق اور اپنی اسپیڈ و رفتار کے مطابق قرآن پڑھا جائے گا تو جہاں ایک حرف پر دس نیکی ملنے کی بات ہے وہاں ایک نیکی بھی نہیں ملے گی بلکہ سزا ملے گی کیونکہ تم نے’’ ورتل القرآن ترتیلا‘‘ کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ اس کا مزاق اڑایا ہے۔

[email protected]