نماز جمعہ کے بعد وادی اُبل پڑی

 سرینگر// شہری ہلاکتوں کے خلاف جمعہ کو وادی ابل پڑی اور نماز جمعہ کے بعد شہر خاص،حیدر پورہ،سویہ ٹینگ،سوپور، ترہگام کپوارہ ،حاجن،بانڈی پورہ ،اشٹینگو، نوپورہ، پانپور، پلوامہ ٹہاب، ترال، کولگام، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں احتجاجی جلوس،سنگبازی اور ٹیر گیس شلنگ کے واقعات پیش آئے جس کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ادھرمیر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سے برآمدہ جلوس کی قیادت کی۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہرخاص کے5 تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں آج بندشیں عائدرہیں گی گی پلوامہ میں دفعہ144کا نفا ذ عمل میں لایا جائے گا۔
 وسطی کشمیر
 نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کی کال کے پیش نظر پائین شہر میں نوہٹہ علاقے میں شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی جلوس بر آمد ہوا ۔میرواعظ کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکلا،جس میں شامل لوگوں نے آزادی واسلام کے حق میں اورجملہ زیادتیوں کیخلاف نعرے بازی کی ۔اس دوران مائسمہ علاقہ سے نمازجمعہ کے بعدلبریشن فرنٹ کے زیراہتمام ایک پُرامن جلوس برآمدہوا،جس میں شامل افرادنے ہاتھوں میں بینراورپُلے کارڈس اُٹھارکھے تھے۔جونہی مظاہرین نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو فورسز اور پولیس نے انہیں منتشر ہونے کیلئے کہا۔ فورسز اور پولیس پر نوجوانوں نے سنگبازی کی جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے جوابی سنگبازی کے بعد ٹیر گیس گولے داغے۔ اس دوران مظاہرین میں کھلبلی مچ گئی اور وہ جامع مسجد کے صحن میں داخل ہوئے۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے فورسز اور پولیس پر جامع مسجد کے اندر بھی ٹیر گیس گولے برسانے کا الزام عائد کیا۔ احتجاج کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے۔ اُدھر حرےت (گ) کے زےر اہتمام نماز جمعہ کے بعد حےدرپورہ مےں اےک احتجاجی جلوس بر آمد ہوا جس کی قےادت اےڈوکےٹ محمد شفےع رےشی ، محمد ےوسف نقاش اور نثار حسےن راتھر کے علاوہ دےگر کچھ لےڈران کر رہے تھے ۔ جلوس مےں شامل لوگوں نے آزادی اور اسلام کے حق مےں نعرے بازی کرنے کے ساتھ ساتھ اےن آئی اے چھاپوں ، فورسز زےادتےوں ، گاﺅں گاﺅں توڑ پھوڑ اور گرفتارےوں کے ساتھ ساتھ بےرون وادی نظر بند کشمےرےوں کی حالت زار کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کےا ۔
جنوبی کشمیر
پانپور مےں ہڑ تال کے بےچ نوجوان سڑکوں پر نمودار ہوئے اور انہوںنے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پویس و فورسز اہلکاروںنے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیںدی جس پر جلوس میں شامل نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوںنے پولےس و فورسز اہلکاروں پر پتھراﺅ کیا ۔ فورسز نے جواب میں پولیس و فورسز اہلکاروںنے ان کا تعاقب کر کے جوابی پتھراﺅ کےا جس کے بعد نوجوانوںنے گلی کوچوں مےںاپنا مورچہ سنبھالتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر پتھراﺅ جاری رکھا جس کے جواب مےں پولےس کو شلنگ کرناپڑی ہے۔ آرونی جھڑپ میں پانپور کے عادل کے پھنسے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں مکمل ہڑتال ہوئی اور دکانیں بند ہوئیں۔ادھر کھریو چوک میں بھی فورسز اور پولیس کے پر سنگبازی ہوئی ۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ قصبہ میں نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے جلوس برآمد کیا اور اس دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی کی۔ نامہ نگار شوکت ڈار کے مطابق فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے دوران نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی جبکہ فورسز نے بھی جوابی سنگبازی کی۔ طرفین میں قہر انگیز سنگبازی وجوابی سنگبازی کے بعد فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ اس دوران پلوامہ کے ٹہاب علاقے میں بھی نماز جمعہ کے بعد فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں میں سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ چل پڑا جبکہ فورسز نے بعد میں اشک آوار گولوں کا استعمال کیا۔کولگام میںاطلاعات کے مطابق ایک نوجوان کو سی آر پی ایف نے زد وکوب کرکے لہو لہان کردیا ۔احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک نوجوان نالہ ویشنو میں جا گرا اور سی آر پی ایف نے اُسے پکڑا اور لاٹھیوں و لاتوں سے زد کوب کرکے نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا ۔اس دوران صحافیوں کی تذلیل بھی کی گئی جبکہ ایک فوٹو جرنسلٹ کو تھپڑ بھی رسید کی گئی ۔زخمی نوجوان کی شناخت شکور احمد تیلی ساکنہ بجبہاڑہ کے بطور ہوئی ۔
شمالی کشمیر
بانڈی پورہ میں سنگ بازی کا سلسلہ کئی جگہوں پر دن بھر جاری رہا۔ اشٹنگو میں سوپور بانڈی پورہ شاہراہ پر چلنی والی بڑی تعداد میں گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے گئے جبکہ بانڈی پورہ میں بھی صبح سے ہی ہڑتال کی گئی۔ بازار میں پتھراو کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ نوپورہ چوک میں پولیس اور مظاہرین کے تصادم ہوا جس میں دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کے سامنے سرکاری عمارت پر پتھراو کیا گیا، پاپچھن علاقے میں بھی پتھراو کا واقعہ پیش آیا ۔ حاجن میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ نماز جمعہ کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور احتجاج کرتے ہوئے پیش قدمی کی۔ انہوں نے اس موقعہ پر اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پیش قدمی کی۔سوپور مےںبھی نماز جمعہ کے بعد اےک احتجاجی جلوس مقامی جامع مسجد سے نکالا گےا ۔ نامہ نگار غلام محمد کے مطابق جلوس مےں شامل لوگوں نے جب آزادی کے حق مےں نعرے بلند کرتے ہوئے سوپور کے مےن چوک کی جانب پےش قدمی کرنے کی کوشش کی تو پہلے سے ہی راستے مےں موجود پولےس اور فورسز کے اہلکاروں نے جلوس کو منتشر کرنے کےلئے کارروائی عمل مےں لائی ۔ اس موقعہ پر جلوس مےں شامل نوجوانوں نے مشتعل ہوکر سنگباری کی ، جس کے جواب مےں پولےس اور فورسز اہلکاروں نے مظاہرےن کو منتشر کرنے کےلئے آنسوں گےس کے گولے داغے ۔ سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام علاقے میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس بر آمد ہوا،جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔ نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے جب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو فورسز اور پولیس اہلکاروں نے انکی پیش قدمی روکتے ہوئے انہیں منتشر ہونے کیلئے کہا۔اس موقعہ پرمظاہرین اور پولیس کے درمیان سنگبازی ہوئی،جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے بھی داغے۔
انتظامیہ
ضلع مجسٹریٹ پلوامہ کے مطابق امن و قانون کی صورتحال کے پیش نظر پانپور تحصیل میں دفعہ 144 نافذالعمل ہوگا البتہ میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں یہ احکامات نہیں رہیں گے۔ پلوامہ میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر فاروق احمد لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ امن و قانون کو بنائے رکھنے کیلئے سنیچر کو شہر خاص کے نوہٹہ،خانیار،مہاراج گنج،صفاکدل اور رعناواری پولیس تھانوں کے حدود میں آنے والے علاقوں مین بندشیں عائد کی جائے گی۔