نقدی سے معریٰ لین دین نظام اور ہمارے پہاڑی خطے!

ریاست کے دورافتادہ علاقوں میں ویسے توپہلے سے ہی بنکنگ نظام کا کوئی معقول اور مناسب بندوبست نہیں تھا لیکن مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد یہ نظام پوری طرح سے مفلوج بن کر رہ گیاہے اور بنکوں میں  لوگوں کی لگی قطاریں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔ نوٹ بندی کے فیصلے کے ساتھ ہی اے ٹی ایم مشینوں میں کبھی سروس کی خرابی تو کبھی رقم نہ ہونے کے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے جن کا ازالہ ابھی تک بھی نہیںہوسکاہے ۔ ریاست کے دوردراز علاقوں میں اے ٹی ایم مشینیں ناکارہ بن کر رہ گئی ہیں اور زیادہ تر مشینیں یاتو کام ہی نہیں کررہی اوراگر کربھی رہی ہیںتو وہ محض چند گھنٹوں کیلئے ۔خطہ پیرپنچال اور خطہ چناب کے علاقوں میں صورتحال وگر گوں بنی ہوئی ہے اور جہاں مینڈھر، کوٹرنکہ ، تھنہ منڈی اور سرنکوٹ میں اے ٹی ایم مشینیں ہی بند پڑی ہیں وہیں چھاترو ، ٹھاٹھری ، کلہوتران ، بھلیسہ اور دیگر علاقوں میںبھی ان کا یہی کچھ حال ہے ۔نتیجہ کے طور پر لوگوں کو پیسے نکالنے کیلئے بنکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور وہاں بھی عملہ کی کمی کے بہ سبب رش اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی ۔اگرچہ جموں کشمیر بنک کی مشینیں کسی حد تک کام کربھی رہی ہیں لیکن دیگر بنکوںکی اے ٹی ایم مشینیں تو بالکل ہی ناکارہ بن کر رہ گئی ہیں ۔ قصبہ سرنکوٹ میں سٹیٹ بنک آف انڈیا کی دو مشینیں نصب کی گئی ہیںلیکن بدقسمتی سے پچھلے کئی ماہ سے ایک بھی مشین کام نہیںکررہی ،جس کے باعث ساری بھیڑ جموں کشمیر بنک کے اے ٹی ایم پر اُمڈ آتی ہے، جہاں پھر کچھ ہی وقت میں رقم ختم ہوجاتی ہے اور پھر نئی رقم جمع کرنے اور اے ٹی ایم سروس بحال ہونے کیلئے گھنٹوں ہی نہیں بلکہ دنوںکا وقت لگتاہے ۔اسی طرح سے تھنہ منڈی ، مینڈھر اور کوٹرنکہ میں بھی اے ٹی ایم خدمات نہ  ہونے کے برابر ہیں ۔قصبوں میں تو بنکنگ کانظام خراب ہی ہے لیکن ضلع صدر مقامات میں بھی صارفین کو بہتر خدمات میسر نہیں اور انہیں معمولی سے رقم نکلوانے کیلئے کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔ ہمارے دور افتادہ علاقوںکے بنکنگ نظام کا یہ حال ایسے وقت میں پایاجارہاہے جب ملک کو ڈیجیٹل بنانے کے دعوے کئے جارہے ہیں اور ’’کیش لس اکانومی‘‘  یعنی نقدی کے لین دین سے معریٰ، نظام کو اپنانے کیلئے ملک گیر مہم چلائی جارہی ہے ۔’’ کیش لس اکانومی‘‘  کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیاجاسکتالیکن جب صارفین کو اے ٹی ایم مشینوںسے پیسے نہیں مل رہے تو انہیں اس بات کی ضمانت کون دے گاکہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ آن لائن بنکنگ سے مستفید ہوسکیںگے ۔جب تک ملک کو کیش فری بنایاجاتا ہے تب تک کم از کم اے ٹی ایم میں پیسے تو دستیاب رکھے جائیں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایاجائے کہ ان مشینوںسے ہروقت پیسے نکلوانے کی سہولت میسر ہو ۔موجودہ وقت کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے حکام کو اس  نظام میں اصلاحات  لانے کو اولیت دے کر ان تمام خرابیوںکو دور کرنا چاہئے جو صارفین کیلئے بہتر خدمات کی رسائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں ۔ اگر صارفین کو اپنے ہی پیسے نکلوانے کیلئے پورا پورادن نہیں بلکہ کئی کئی دن برباد کرنے پڑیںگے تو پھر ایسے بنکنگ نظام کا انہیںکیا فائدہ ہے ۔ دوردراز علاقوں میں اس نظام کو جدید دور کے تقاضوںسے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف صارفین کی مشکلات حل ہوںگی بلکہ بنکوں میں رش بھی کم ہوگا ،جو ملازمین کیلئے درد سر بن جاتاہے ۔