نفرت کے بیج بونے والوں پر قدغن لگائی جائے :تانترے

 جموں//ممبر اسمبلی پونچھ حویلی شاہ محمد تانترے نے مرحوم مفتی محمد سعید کی جموں و کشمیر کیلئے خدمات کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ نفرت کے بیج بونے کی کوشش کررہے ہیں جن پر اگر قدغن نہ لگائی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکمہ جات کے مطالبات زر پر بولتے ہوئے تانترے نے کہاکہ مرحوم مفتی محمدسعید کو وہ سلام پیش کرتے ہیں جنہوںنے ریاست کیلئے بہت کچھ کیا۔انہوںنے کہاکہ ہندوپاک کے درمیان جب جنگ ہونے جارہی تھی تومرحوم نے ایسا ماحول پیدا کیاکہ دونوں ممالک کے سربراہان آپس میں ملے جس کے نتیجہ میں پونچھ راولاکوٹ اور اوڑی مظفر آباد راہداری پوائنٹ بحال کئے جاسکے ۔ان کاکہناتھاکہ رواں بجٹ اجلاس میں ان کیلئے تاریخی لمحات وہ تھے جب سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حقائق کو بالکل سامنے رکھ کر مرحوم کے تین سالہ دور کو سنہرا دور قرار دیا۔ تانترے نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی آج کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوںنے ایک چالاک لیڈر کی طرح امرناتھ یاترا پر حملہ کا ذکر کیا اور کہاکہ کیوں اس پر جموں میں رد عمل نہیںہواجو ماضی میں ہوتارہاتاہم وہ یہ بتاناچاہتے ہیں کہ رد عمل اس لئے نہیںہواکیوںکہ مرحوم مفتی محمد سعید اس محبت کے بیج بوگئے تھے جس کی وجہ سے ریاست کے دونوں خطے یکجاہوگئے اور ب بھائیوںجیسا ماحول بناہواہے ۔انہوںنے ریاست کے مرکز کے ساتھ الحاق کے فیصلہ کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے قائداعظم کے دو قومی نظریہ کی مخالفت کرکے ہندوستان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی اور اس فیصلہ کو عزت و احترام سے دیکھنا ہوگا جو اس وقت کی قیادت نے کیا۔ان کاکہناتھا’’جموں وکشمیر کے حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے مرکز کو شیر کشمیر شیخ عبداللہ کی طرف سے کئے گئے الحاق کو عزت و وقار کی نظر سے دیکھناہوگااور جس خلوص کا اظہار ریاستی قیادت نے کیا ،اسی خلوص کا اظہار مرکز کو بھی کرناہوگا‘‘۔انہوںنے کہاکہ کشمیر کے نوجوان کو یہ لگتاہے کہ محبت کا اظہار نہیںہورہا جس وجہ سے وہ دور ہورہے ہیں ۔ تانترے نے کہاکہ آج بدقسمتی سے کچھ لوگ قوموں کے بیچ نفرت کے بیج بونا چاہتے ہیں جس پر اگر قدغن نہ لگائی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔